امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سابق امریکی صدر جان ایف کینیڈی، رابرٹ ایف کینیڈی اور مارٹن لوتھر کنگ جونیئر کے قتل کی تحقیقات کی باقی رہ جانے والی تمام خفیہ دستاویزات کو عام کرنے سے متعلق حکمنامے پر دستخط کردیے ہیں۔

صدر ٹرمپ نے جمعرات کو مذکورہ ایگزیکٹو آرڈر پر دستخط کیے۔ اس موقع پر انہوں نے کہا، ’یہ ایک بڑا فیصلہ ہے، لوگوں کی بڑی تعداد دہائیوں سے اس انتظار میں تھی، اب سب کچھ سامنے آجائے گا‘۔

یہ بھی پڑھیں: ابراہم لنکن اور جان ایف کینیڈی کا بُھوت؟

صدر ٹرمپ کے حکمنامے کے تحت نیشنل انٹیلیجنس کے ڈائریکٹر کو 15 دن کے اندر سابق صدر جان ایف کینیڈی جبکہ 45 دن کے اندر رابرٹ ایف کینیڈی اور مارٹن لوتھر کنگ کے قتل کی تحقیقات سے متعلق دستاویزات جاری کرنے کا پلان پیش کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔

یاد رہے کہ سابق صدر جان ایف کینیڈی کو 22 نومبر 1963 کو ریاست ٹیکساس کے شہر ڈیلاس میں قتل کردیا گیا تھا۔ مختلف اداروں کے سرویز میں سامنے آیا ہے کہ امریکی شہری برسوں سے ان کے قتل کی وجوہات جاننے کے منتظر ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: بائیڈن کے تمام ایگزیکٹو آرڈرز کو منسوخ کیا جائے گا، ڈونلڈ ٹرمپ کا حلف سے قبل خطاب

صدر ٹرمپ نے جان ایف کینیڈی کے بھتیجے اور رابرٹ ایف کینیڈی کے بیٹے رابرٹ ایف کینیڈی جونیئر کو وزیر صحت نامز کیا ہے۔ رابرٹ ایف کینیڈی جونیئر نے 2023 میں ایک انٹرویو میں دعویٰ کیا تھا کہ ان کے والد اور چچا کے قتل میں امریکی خفیہ ایجنسی سی آئی سے کا ہاتھ ہے۔

صدر ٹرمپ نے سابق صدر اور دیگر 2 شخصیات کے قتل کی تحقیقات سے متعلق ایگزیکٹو آرڈر پر دستخط کرنے کے بعد معاون کو پین دیتے ہوئے کہا تھا، ’یہ پین رابرٹ ایف کینیڈی جونیئر کو دے دیا جائے‘۔

یہ بھی پڑھیں: پیدائشی حق شہریت ختم کرنے سے متعلق صدر ٹرمپ کا حکمنامہ غیرآئینی قرار، عارضی طور پر معطل

دوسری جانب، جان ایف کینیڈی کے نواسے جیک سکولسبرگ نے صدر ٹرمپ کے ایگزیکٹو آرڈر کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اس اقدام کے زریعے سیاسی پوئنٹ اسکورنگ کی جارہی ہے۔

واضح رہے کہ 1992 میں امریکی کانگریس نے ایک قانون منظور کیا تھا جس کے تحت مستقبل کے امریکی صدور کو اجازت دی گئی تھی کہ وہ قومی سلامتی کو مد نظر رکھتے ہوئے صدر جان ایف کینیڈی کے قتل کی تحقیقات سے متعلق دستاویزات کو اگلے 25 سال کے اندر ڈی کلاسیفائی کرسکتے ہیں۔

صدر ٹرمہ نے جمعرات کو جان ایف کینیڈی اور دیگر 2 شخصیات کے قتل کی تحقیقات سے متعلق دستاویزات کے علاوہ تقریباً 2800 خفیہ دستاویزات عام کرنے کا حکم دیا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

wenews تحقیقات جاری جان ایف کینیڈی حکم خفیہ دستاویزات دستخط رابرٹ ایف کینیڈی صدر ڈونلڈ ٹرمپ عام قایگزیکٹو آرڈر قتل مارٹن لوتھر کنگ.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: تحقیقات جان ایف کینیڈی رابرٹ ایف کینیڈی صدر ڈونلڈ ٹرمپ قایگزیکٹو ا رڈر قتل ایگزیکٹو ا رڈر ڈونلڈ ٹرمپ

پڑھیں:

نیب کیسز کی مرکزی اپیلوں اور ضمانت کی درخواستوں کی سماعت سے متعلق سپریم کورٹ کا فیصلہ  جاری کردیاگیا

اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)نیب کیسز کی مرکزی اپیلوں اور ضمانت کی درخواستوں کی سماعت سے متعلق سپریم کورٹ کا فیصلہ  جاری کردیاگیا۔

نجی ٹی وی چینل جیونیوز کے مطابق  سپریم کورٹ نے کہا ہے کہ عدالتیں میڈیا کی پذیرائی یا عوامی مقبولیت کے کیلئے فیصلے نہیں کرسکتیں ،عدالت کا بنیادی فرض آئین اور قانون کے مطابق فیصلے کرنا ہے،قانون سے ہٹ کردائرہ اختیار کو اختیار کرنا یافرض کر لینا عدالتی اصولوں کے منافی ہے،عدالت نہ غیرقانونی دائرہ اختیار استعمال کر سکتی ہے، نہ قانونی دائرہ اختیار سے دستبردار ہو سکتی ہے،دائرہ اختیار کا تعین صرف آئین اور قانون کرتے ہیں۔

سندھ حکومت پولیس فورس کو جدید خطوط پر استوار کرنے کیلئے پرعزم ہے، وزیراعلیٰ سندھ

فیصلے میں کہا گیا ہے کہ آرٹیکل 175کے تحت ہر عدالت صرف وہی دائرہ اختیار استعمال کرسکتی ہے جو آئین یا قانون نے دیا ہو، آئین اور قانون کی مقررہ حدود سے تجاوز اختیارات سے ناجاز تجاوز کے مترادف ہے،دائرہ اختیار کے بغیر دیا گیا فیصلہ کالعدم اورغیرموثر ہوتا ہے،دائرہ اختیار کے بغیر فیصلے کو رم نان جوڈائس کے اصول  کی زد میں آتے ہیں،ہر عدالت اپنے آئینی اور قانونی دائرہ اختیار کی پابند ہے،وفاقی آئینی عدالت اور سپریم کورٹ کے دائرہ ہائے اختیار الگ الگ ہیں،وفاقی آئینی عدالت اور سپریم کورٹ کے اختیارات ایک دوسرے پر حاوی  نہیں ،وفاقی آئینی عدالت اور سپریم کورٹ ایک دوسرے کے اختیار میں مداخلت بھی نہیں کر سکتے۔

اداکارہ روما مائیکل اداکار شان بیگ سے شادی کے بندھن میں بندھ گئیں

عدالت نے کہاکہ ایک ہی مقدمے پردو متوازی عدالتی دائرہ ہائے اختیار قانون میں قابل قبول نہیں،ایک ہی مقدمے میں ضمانت سپریم کورٹ اوراپیل وفاقی آئینی عدالت میں نہیں چل سکتی،جہاں قانون اپیل کا حق فراہم نہ کرے وہاں فریق اپنے پسند سے نیا قانونی راستہ اختیار نہیں کرسکتا، قانون فورم شاپنگ یعنی پسند کی عدالت منتخب کرنے کے رجحان کی اجازت نہیں دیتا، صرف فریقین کی خواہش یا رضا مندی سے عدالت دائرہ اختیار استعمال نہیں کرسکتی،عدالت فریقین کی منشاء یا خواہش پر لامحدود دائرہ اختیار استعمال نہیں  کر سکتی۔

آپریشن العزم ؛مستونگ کے علاقہ کھڈکوچہ میں کارروائی، فتنہ الہندوستان کے 4دہشتگرد ہلاک

مزید :

متعلقہ مضامین

  • ادویات مہنگی ہونے کا خدشہ، قیمتوں سے متعلق اہم فیصلوں کے لیے حکومتی مشاورت جاری
  • نیب کیسز کی مرکزی اپیلوں اور ضمانت کی درخواستوں کی سماعت سے متعلق سپریم کورٹ کا فیصلہ  جاری کردیاگیا
  • ایف بی آر کا انکم ٹیکس ریٹرنز جمع کرانے سے متعلق اہم اعلان
  • سپریم کورٹ  نے نیب ترمیم کے بعد عدالتی دائرہ اختیار سے متعلق کیس کا فیصلہ سنا دیا
  • پنجاب حکومت کا سرکاری ملازمین اور پنشنرز کو جولائی کی ادائیگیاں قبل از وقت کرنے کا فیصلہ
  • ’سب کچھ تیار ہے‘ ٹرمپ نے ایران پر تاریخ کے سب سے بڑے حملے کا اشارہ دیدیا
  • سرکاری دفاتر میں حاضری اور وقت کی پابندی سے متعلق نئی ہدایات جاری
  • وزیراعلی سندھ مراد علی شاہ کا مون سون کے پیش نظر انتظامیہ کو الرٹ رہنے کا حکم
  • بلاول کے پنجاب کے شہروں کی صورتحال پر سوالات، مریم اورنگزیب نے ویڈیو جاری کرکے جواب دیدیا
  • آبنائے ہرمز میں ہر حملے کے بدلے ایک پل یا پاور پلانٹ تباہ کریں گے، ٹرمپ کی ایران کو نئی دھمکی