’ہمیں اب آپ پر اعتماد نہیں‘، ایئر انڈیا کی فلائٹ 5 گھنٹے تاخیر کا شکار، مسافر مشتعل
اشاعت کی تاریخ: 27th, January 2025 GMT
سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو وائرل ہو رہی ہے جس میں دیکھا جا سکتا ہے کہ بھارت کی ممبئی سے دبئی جانے والی ایئر انڈیا کی فلائٹ تاخیر کا شکار ہو گئی جس کی وجہ سے مسافر تقریباً 5 گھنٹے تک طیارے کے اندر قید رہے۔ ایسے میں مسافروں کا غصہ بڑھتا رہا اور مشتعل افراد طیارے کے عملے سے دروازہ کھولنے کی درخواست کرتے رہے۔
مشتعل افراد طیارے کو گھونسے مارتے رہے اور کہتے رہے کہ انہیں فلائٹ سے اتار دیا جائے۔ مسافروں نے شکایت کی کہ وہ طیارے میں بغیر ائیر کنڈیشنگ کے بیٹھے رہے اور انہیں کسی قسم کی کوئی سہولت میسر نہیں کی گئی۔
ذرائع کے مطابق کپتان نے ایک بار بھی کاک پٹ سے باہر آ کر مسافروں سے بات نہیں کی تاکہ صورتحال کو کنٹرول کیا جا سکے جس سے مسافر مزید برہم ہوئے۔ ایک مسافر نے کہا کہ ’ہم آپ پر اعتماد نہیں کرتے‘ جبکہ کئی مسافروں کا کہنا تھا کہ ’براہ کرم طیارے کا دروازہ کھول دیں‘۔
سوشل میڈیا پر ویڈیو وائرل ہوئی تو صارفین کی جانب سے اس پر مختلف تبصرے کیے جا رہے ہیں۔ ایک صارف نے سوال کیا کہ بھارتی ایئرلائنز اس طرح کی مشکلات کا شکار کیوں ہیں؟ اور فضائی امور کے وزیر کون ہیں؟
Why are indian airlines in such a mess?
Who is the aviation minister? pic.
— Lavanya Ballal Jain (@LavanyaBallal) January 26, 2025
ایک ایکس صارف نے کہا کہ بیرون ملک سفر کرتے وقت ہندوستانی ائیر لائنز کے ساتھ پرواز کرنے سے گریز کریں کیونکہ وہ آپ کے بین الاقوامی سفر کے تجربے کو برباد کر سکتے ہیں۔
Avoid flying with Indian carriers when traveling abroad—they can ruin your international travel experience https://t.co/Unbw7KTpqE
— Chandrasekhar raju (@619chandru) January 26, 2025
ایک صارف نے لکھا کہ اب عوام اچھے نقل و حمل کے لیے نہیں بلکہ اس بنیاد پر ووٹ دیتے ہیں کہ کون سی پارٹی مذہبی ہے۔ سول ایوی ایشن کے وزیر کو تو شاید کمل میلہ ہی چلے گئے ہوں۔
Public now don’t vote for good transport, they vote on basis of which party is religious. The Civil Aviation minister must have gone to Kumbh Mela.
— Nishanth M (@NishanthNature) January 26, 2025
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
ائیر انڈیا بھارتی صارفین فلائٹ تاخیر کا شکار
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: ائیر انڈیا بھارتی صارفین فلائٹ تاخیر کا شکار کا شکار
پڑھیں:
پاکستان میں کاروباری اعتماد کمزور، 80 فیصد اداروں نے سرمایہ کاری فیصلے مؤخر کر دیئے
سروے کے مطابق کاروباری اعتماد میں کمی کی بڑی وجوہات میں مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی، بڑھتی ہوئی مہنگائی، ایندھن کی قیمتوں میں اضافہ، سپلائی چین میں رکاوٹیں، پالیسی غیر یقینی اور اقتصادی نمو کے حوالے سے خدشات شامل ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ پاکستان میں 70 سے 80 فیصد کاروباری ادارے نئی سرمایہ کاری کے فیصلوں کو مؤخر کر رہے ہیں یا ان پر نظرثانی کر رہے ہیں۔ اوورسیز انویسٹرز چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے تازہ بزنس کانفیڈنس انڈیکس سروے میں یہ بات سامنے آئی، سروے میں پاکستان میں کاروباری اعتماد میں نمایاں کمی سامنے آئی ہے۔ او آئی سی سی آئی کی جانب سے 2026ء کی دوسری سہ ماہی کے دوران کیے گئے بزنس کانفیڈنس انڈیکس سروے کی 29ویں لہر کے نتائج جاری کرتے ہوئے انکشاف کیا گیا کہ مجموعی کاروباری اعتماد 9فیصد پوائنٹس کمی کے بعد مثبت 13 فیصد رہ گیا ہے، جو اس سے قبل 28ویں لہر میں مثبت 22 فیصد تھا۔ سروے کے مطابق کاروباری اعتماد میں کمی کی بڑی وجوہات میں مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی، بڑھتی ہوئی مہنگائی، ایندھن کی قیمتوں میں اضافہ، سپلائی چین میں رکاوٹیں، پالیسی غیر یقینی اور اقتصادی نمو کے حوالے سے خدشات شامل ہیں۔
کاروباری اداروں کا کہنا ہے کہ موجودہ صورتحال نے سرمایہ کاری کے فیصلوں، پیداواری لاگت، خام مال کی دستیابی اور مستقبل کی منصوبہ بندی کو متاثر کیا ہے۔ شعبہ جاتی بنیادوں پر خدمات کے شعبے میں سب سے زیادہ کمی دیکھی گئی، جہاں اعتماد 20 پوائنٹس گر کر مثبت 14 فیصد رہ گیا۔ مینوفیکچرنگ کے شعبے میں بھی 7 پوائنٹس کی کمی ریکارڈ کی گئی، تاہم ریٹیل سیکٹر واحد شعبہ رہا جہاں کاروباری اعتماد میں 3 پوائنٹس بہتری آئی اور یہ مثبت 20 فیصد تک پہنچ گیا۔ سرمایہ کاری کے رجحانات میں بھی نمایاں کمزوری سامنے آئی ہے۔ نیو انویسٹمنٹ انڈیکس 10 پوائنٹس کمی کے بعد صرف مثبت 2 فیصد رہ گیا، جو اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ کاروباری ادارے موجودہ غیر یقینی صورتحال میں نئی سرمایہ کاری سے گریز کر رہے ہیں۔ سروے کے مطابق بیشتر ادارے متاثرہ تجارتی راستوں پر انحصار کم کرنے، سپلائی چین کو متنوع بنانے اور آپریشنل خطرات کم کرنے پر توجہ دے رہے ہیں۔
سروے کے مطابق عالمی کاروباری صورتحال کا اشاریہ بھی 31 پوائنٹس تک گر گیا ہے، جبکہ تمام شعبوں سے وابستہ کاروباری اداروں نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ موجودہ تعطل چھ ماہ سے زیادہ عرصے تک جاری رہ سکتا ہے۔ آئندہ چھ ماہ کے حوالے سے 34 فیصد جواب دہندگان نے معاشی حالات مزید خراب ہونے کا خدشہ ظاہر کیا، جبکہ گزشتہ سروے میں یہ شرح 22 فیصد تھی۔ کاروباری اداروں نے سیاسی عدم استحکام، ایندھن کی قیمتوں، مہنگائی، بلند ٹیکسز، کرنسی کے اتار چڑھاؤ اور پالیسیوں کے عدم تسلسل کو بڑے خطرات قرار دیا۔ ساختی خطرات کے حوالے سے 84 فیصد جواب دہندگان نے بڑھتی ہوئی مہنگائی کو سب سے بڑا مسئلہ قرار دیا، 79 فیصد نے زیادہ ٹیکسز پر تشویش ظاہر کی، جبکہ 61 فیصد نے کرنسی کے عدم استحکام اور حکومتی پالیسیوں میں تسلسل کے فقدان کو کاروباری ترقی کیلئے اہم رکاوٹ قرار دیا۔
او آئی سی سی آئی کی رکن کمپنیوں، جو ملک میں بڑے غیر ملکی سرمایہ کاروں کی نمائندگی کرتی ہیں، کے درمیان کاروباری اعتماد نسبتاً بہتر رہا اور معمولی اضافے کے ساتھ مثبت 28 فیصد تک پہنچ گیا۔ بڑے شہروں میں کاروباری اعتماد 12 پوائنٹس کمی کے بعد مثبت 11فیصد رہا، جبکہ پشاور، کوئٹہ، راولپنڈی، ملتان، سیالکوٹ اور سکھر سمیت دیگر شہروں میں 3 پوائنٹس بہتری کے بعد اعتماد مثبت 22 فیصد ریکارڈ کیا گیا۔ سروے میں یہ بھی سامنے آیا کہ قلیل مدتی معاشی دباؤ کے باوجود کئی ادارے جنریٹو آرٹیفیشل انٹیلیجنس کے استعمال میں دلچسپی لے رہے ہیں۔ خصوصاً او آئی سی سی آئی کی رکن کمپنیوں نے ٹیکنالوجی پلیٹ فارمز، بنیادی کاروباری عمل اور افرادی قوت کی تربیت میں مصنوعی ذہانت کو شامل کرنے کے حوالے سے زیادہ تیاری ظاہر کی ہے۔ واضح رہے کہ او آئی سی سی آئی کا بزنس کانفیڈنس انڈیکس سروے سال میں دو مرتبہ کیا جاتا ہے، جس میں شامل شرکاء پاکستان کی جی ڈی پی کے تقریباً 80 فیصد کی نمائندگی کرتے ہیں۔