بلو چستان میں زرعی ٹیکس کا نفاذ قابل مذمت ہے، زمیندار ایکشن کمیٹی
اشاعت کی تاریخ: 7th, February 2025 GMT
کوئٹہ(نمائندہ جسارت)زمیندار ایکشن کمیٹی بلوچستان نے بلوچستان اسمبلی سے ظالمانہ زرعی ٹیکس کے نفاذ کی مذمت کرتے ہوئے کہاہے کہ بلوچستان میں سالانہ ایک فصل کاشت ہوتی ہے جبکہ پنجاب وسندھ میں 3سے 4فصلیں کاشت ہوتی ہے جو نہری آبپاشی کے ذریعے ہوتی ہے لیکن بلوچستان کے زمیندار 600فٹ سے 1200فٹ تک زیر زمین پانی بجلی کے ذریعے نکال کر کاشتکاری کرتے ہیں اس طرح کے واضح تفریق کے باوجود پیمانہ ایک ہونا فیڈریشن کیلئے نیک شگون نہیں۔زمیندار ایکشن کمیٹی کے مرکزی بیان میں کہا گیا ہے کہ بلوچستان اسمبلی نے آئی ایم ایف کے کہنے پر صوبے کے غریب زمینداروں پر ظالمانہ زرعی ٹیکس کانفاذ کرکے زمینداروں کی تباہی میں رہی سہی کسر بھی پوری کردی۔ترجمان نے کہاکہ بلوچستان رقبے کے لحاظ سے پاکستان کا 44فیصد ہے جہاں80فیصد لوگوں کا ذریعہ معاش زراعت سے وابستہ ہے لیکن گزشتہ چند سالوں کے دوران وفاقی وصوبائی حکومتوں کی نااہلی کی وجہ سے کیسکو نے زرعی شعبے کی تباہی کا مکمل سامان کیاہے ،وفاقی وصوبائی حکومتوں کی موجودگی میں کیسکو کی جانب سے جب چاہیے بجلی بند کردی جاتی تھی جس کی وجہ سے زرعی شعبہ شدید مالی بحران سے دوچار ہوگیا آج صوبے کا ہر زمیندار قرض میں ڈوبا ہواہے ،بلوچستان زمیندار ایکشن کمیٹی نے بجلی کی ناروا لوڈشیڈنگ کے خلاف 7دن تک دھرنا دیا اس جدوجہد کے نتیجے میں زرعی ٹیوب ویلز کی سولر پر منتقلی کا منصوبہ شروع ہوا جہاں ایک ماہ کا وعدہ کیاگیاتھا وہاں ایک سال گزر گیا لیکن اس وعدے کو عملی جامہ پہنانا اب بھی باقی ہے تو دوسری جانب آئی ایم ایف کے دبائو میں آکر بلوچستان اسمبلی سے ایک ظالمانہ زرعی ٹیکس کا نفاذ کرکے بلوچستان کے زمینداروں کی جو رہی سہی زمینداری تھی وہ بھی اب زرعی ٹیکس میں چلی جائیگی پہلے قرض اب زرعی ٹیکس جس سے بلوچستان کے زمیندار خودکشی کرنے پر مجبور ہونگے ،ترجمان نے کہاکہ اس سے قبل بھی بلوچستان اسمبلی نے ہمیشہ عوامی مفاد کے بجائے مخصوص مفادات کیلئے قوانین پاس کئے حالانکہ جس ظالمانہ زرعی ٹیکس کو پاس کیاگیاہے اس کے خلاف زمیندار ایکشن کمیٹی بلوچستان کی جانب سے صوبائی اسمبلی کے سامنے احتجاج کیا گیا احتجاج کی وجہ سے اسپیکر کو زمینداروں سے مذاکرات کیلئے رولنگ دینا پڑی اور حکومت واپوزیشن ارکان نے زمیندار ایکشن کمیٹی کے قائدین کویقین دہانی کرائی کہ وہ اس ظالمانہ زرعی ٹیکس کو پاس نہیں کریں گے لیکن اپنے وعدے کا پاس رکھنے کے بجائے ایوان نے اس ظالمانہ ٹیکس کانفاذ کردیا،بلوچستان اسمبلی پہلے اپنے پاس کردہ قوانین پر عمل درآمد تو کرائیں ایسے قوانین کے پلندے صرف عوام کو لوٹنے کے بہانے ہیں جس ظالمانہ ٹیکس کانفاذ کیاگیاہے اس میں ٹیکس کی رقوم، جرمانے وغیرہ ویسے ہی ہیں جیسے پہلے والے ڈرافٹ میں تھے توپھر قائمہ کمیٹی میں بحث ومباحثے کا کیا فائدہ جب سفارشات مرتب کی گئی لیکن وہ قانون کا حصہ ہی نہیں ہے۔زمیندار ایکشن کمیٹی ایسے عوام وزمیندار دشمن رویے کی مذمت کرتی ہے اورمطالبہ کرتی ہے کہ فوری طورپر اس قانون سازی کو واپس لیاجائے اور اگر مارچ تک سولر منصوبہ مکمل نہیں کیا گیا تو تمام صوبے کے زمیندار روڈوں پر ہوں گے جس کی ذمے داری وفاقی و صوبائی حکومتوں پر عائد ہوگی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: زمیندار ایکشن کمیٹی ظالمانہ زرعی ٹیکس بلوچستان اسمبلی کے زمیندار ٹیکس کا
پڑھیں:
فیلڈ مارشل، میں اور قوم سعودیہ کیساتھ ہیں، وزیراعظم کا ولی عہد سے رابطہ، آئل ٹینکرز پر حملے کی مذمت
اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن )وزیراعظم شہباز شریف نے سعودی آئل ٹینکرز پر حوثی ملیشیا کے حملوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا ہےکہ میں، فیلڈ مارشل اور پاکستانی قوم اس نازک وقت میں سعودی قیادت، برادر عوام کے ساتھ مضبوطی، عزم کے ساتھ کھڑے ہیں۔
وزیراعظم شہباز شریف اور سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کے درمیان ٹیلی فونک رابطہ ہوا جس میں وزیراعظم نے بحیرہ احمر میں سعودی آئل ٹینکرز پر حوثی ملیشیا کے بزدلانہ حملوں کی شدید ترین الفاظ میں مذمت کی۔
وزیراعظم نے محمد بن سلمان سے گفتگو میں کہا کہ ایسے اقدامات قطعی ناقابلِ قبول ہیں، یہ بین الاقوامی قانون کی صریح خلاف ورزی ہیں، ایسے اقدامات جہاز رانی اور تجارتی نقل و حمل کی آزادی کے لیے خطرہ ہیں اور ایسے اقدامات علاقائی امن، سلامتی اور استحکام کو نقصان پہنچاتے ہیں۔
پاکستانی تاجروں نے چین کو 60ہزار ٹن چاول برآمد کرنے کے آرڈرز حاصل کرلئے
وزیراعظم نے برادر ملک سعودی عرب کے ساتھ پاکستان کی مکمل یکجہتی کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ میں، فیلڈ مارشل اور پاکستانی قوم اس نازک وقت میں سعودی قیادت، برادر عوام کے ساتھ مضبوطی، عزم کے ساتھ کھڑے ہیں۔
وزیر اعظم شہباز شریف نے مملکت سعودی عرب کی سلامتی، خودمختاری، علاقائی سالمیت اور خوشحالی کے لیے پاکستان کی غیر متزلزل حمایت کا اعادہ کیا۔
شہباز شریف کا کہنا تھا کہ پاکستان امن وسلامتی اور استحکام کے لیے مملکت و عالمی برادری کےساتھ تعاون جاری رکھے گا، پاکستان بحیرہ احمر، آبنائےہرمز اور سمندری تجارت کی بلاتعطل روانی کے لیے قریبی تعاون جاری رکھے گا۔
اپر کوہستان مالیاتی اسکینڈل، 21 کروڑ روپے سے زائد رقم بحق سرکار ضبط کرنے کا حکم
وزیراعظم نےخادمِ حرمین شریفین شاہ سلمان کے لیے نیک خواہشات اور خیرسگالی کے جذبات کا اظہار کیا جب کہ اس موقع پر سعودی ولی عہد نے پاکستان کی مستقل حمایت اور دونوں ممالک کے درمیان قریبی برادرانہ تعلقات کو سراہا۔
مزید :