ملک گروپ اورچینی ای وی چارجنگ اسٹیشن قائم کر لیا ہے
اشاعت کی تاریخ: 8th, February 2025 GMT
کراچی(کامرس رپورٹر)چائنا کی کمپنی کے اے ڈی ایم گروپ تعاون سے ملک گروپ آف کمپنیز نے پاکستان کا پہلا ای وی چارجنگ اسٹیشن لاہور میں قائم کردیا،صوبائی وزیر صنعت،تجارت اوراوقاف چوہدری شافع حسین نے لاہور میں ضرار شہید روڈ پر پاکستان کے پہلے ای وی چارجنگ اسٹیشن کا افتتاح کیا۔افتتاحی تقریب میں چیئرمین ملک گروپ ملک خدا بخش، اورچائنا کی کمپنی اے ڈی ایم گروپ کے سی ای او یاسر بھمبانی بھی موجود تھے۔چوہدری شافع حسین نے اس موقع پر کہا کہ گلوبل وارمنگ کی وجہ سے الیکٹرک وہیکلز سیکٹر بے حد اہمیت اختیار کرگیا ہے،دنیا ای وی سیکٹر کی جانب بڑھ رہی ہے،پاکستان کا مستقبل بھی اسی سیکٹر سے وابستہ ہے۔پاکستان میں چینی گروپ کے پارٹنر ملک خدا بخش نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ چین سے 30 چارجنگ پلانٹس مزید دس روز میں پاکستان پہنچ جائیں گے جو ملک بھر میں لگنا شروع ہوجائیں گے،امید ہے کہ رواں سال کے اخر تک ہم ملک بھر میں الیکڑک چارجنگ پلانٹس مطلوبہ تعداد میں لگا لیں گے۔انہوں نے کہا کہ ہم نے پہلا چارجنگ اسٹیشن لاہور میں لگا لیا ہے اوردوسرا چارجنگ اسٹیشنز کراچی میں لگے گا۔ملک خدا بخش نے کہا کہ ہماری کوششوں سے چینی کمپنی نے پاکستان میں مینوفیکچرنگ اور چارجنگ پلانٹس میں 340 ملین ڈالر کی سرمایہ کاری کی جانب پیش قدمی کرلی ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: چارجنگ اسٹیشن کہا کہ
پڑھیں:
کارگو طیارہ حادثے میں جاں بحق عملے کے اہل خانہ کو کمپنی مالکان سے عدم تعاون کی شکایت
نجی کارگو ایئرلائن کے ٹو ایئرویز کے حادثے میں جاں بحق عملے کے اہل خانہ حادثے کی وجوہات جاننے کے منتظر ہیں۔ انہوں نے نجی کارگو کمپنی کے مالکان کی جانب سے عدم تعاون کی شکایت بھی کی ہے، متاثرین کیلئے اب تک کسی معاوضہ کا اعلان بھی نہیں ہوا۔
7 جولائی کو شارجہ سے کراچی آنے والا نجی کارگو کمپنی کے ٹو ایئرویز کا بوئنگ 737 طیارہ بلوچستان کے ساحل سے آگے گہرے سمندر میں گر کر تباہ ہو گیا تھا۔ حادثے کے مقام سے طیارے کا کچھ ملبہ ضرور ملا ہے لیکن سمندر کی تہہ میں پہنچ جانے والے طیارے کے بلیک باکس، کاکپٹ اور عملے کا تاحال کوئی سراغ نہیں مل سکا۔ متاثرین کا مطالبہ ہے کہ اس کام کیلئے غیر ملکی ماہر کمپنیوں سے مدد لی جائے۔
نجی کارگو طیارے کا ملبا تفتیشی ٹیم کے سپرد، بلیک باکس، عملے کے 5 ارکان کی تلاش جاریترجمان پاکستان ایئرپورٹ اتھارٹی (پی اے اے) کے مطابق کارگو طیارے کے مزید ملبے اور عملےکی تلاش گہرے سمندر میں جاری ہے حادثے کے شکار طیارے کے مزید پرزے اور ملبہ سمندر سے برآمد کر لیا گیا۔
شہید کپٹن رضوان کے اہل خانہ نے عملے اور طیارے کے ملبے کی تلاش کیلئے پاکستان نیوی اور دیگر اداروں پر اعتماد کا اظہار کیا لیکن کارگو کمپنی کی شدید بے حسی کی شکایت کی اور مطالبہ کیا کہ کے ٹو ایئرویز کے بیرون ملک موجود مالکان کو واپس لا کر تحقیقات میں شامل کیا جائے۔
متاثرین کے مطابق کے ٹو ایئرویز کی انتظامیہ کی بے حسی کا اندازہ اس سے بھی لگایا جا سکتا ہے کہ ملازمین کو 3 ماہ سے تنخواہیں نہیں ملی تھیں۔ یہ تنخواہ اس المناک حادثہ کے بعد ادا کی گئی۔
ایوی ایشن ماہرین کے مطابق بوئنگ 737 کارگو طیارے کا حادثہ کیوں اور کیسے پیش آیا، یہ اہل خانہ کو بتانا اور حادثہ متاثرین کو معاوضے کی ادائیگی یقینی بنانا حکومت اور ریاست کی ذمہ داری ہے۔