حیدرآباد(اسٹاف رپورٹر)ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر حیدرآباد ڈاکٹر لالا جعفر خان نے کہا ہے کہ خصوصاََ عمرے کی ادائیگی کے لیے جانے والے شہری اور ملک سے باہر جانے والے افراد کے لیے ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفس میں پولیو ویکسینیشن کارڈ سسٹم آن لائن شروع ہو چکا ہے۔ ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفس سے باقاعدہ 200 سے 250 افراد کو روزانا کی بنیاد پر آن لائن کیا جاتا ہے۔ ان خیالات کا اظہار ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر حیدرآباد ڈاکٹر لالا جعفر خان نے یوسفزئی ویلفیئر ایسوسی ایشن کے چیف پیٹرن اصغر علی خان یوسف زئی کو عمرے کی ادائیگی سے قبل ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفس حیدرآباد میں پولیو ویکسین کارڈ آن لائن اور پولیو ڈراپ پلانے کے بعد گفتگو کرتے ہوئے کیا انہوں نے کہا کہ اگر کسی بھی شہری کو عمرے کی ادائیگی یا ملک سے باہر جانا ہے تو پولیو ویکسینیشن سرٹیفکیٹ لازمی اپنے ساتھ لے کر جائیں کیونکہ سعودی گورنمنٹ نے اسے لازمی قرار دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفس میں صبح 9 بجے سے شام 4 بجے تک بلا تعطل پولیو ویکسینیشن سروس پورے حیدرآباد شہر کو فراہم کی جارہی ہے لیکن اس کے شہری کو خود آفس آ کر سامنے آن لائن کرانا پڑے گی۔ عمرے کی ادائیگی اور باہر ملک جانے والے شہری ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفس میں ضرور تشریف لائیں اور پولیو ویکسینیشن کارڈ آن لائن کروائیں ۔انہوں نے والدین سے اپیل کرتے ہوئے کہا کہ وہ اپنے 5 سال کم عمر بچوں کو پولیو کے قطرے لازمی پلائیں تاکہ آپ کا بچہ عمر بھر کی معذوری سے بچ سکے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Al Qamar Online

کلیدی لفظ: پولیو ویکسینیشن عمرے کی ادائیگی ا ن لائن

پڑھیں:

امتحانی تنازعات پر کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی نے بڑا اعلان کردیا

کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی ابھیجیت دپکے نے بھارت کے دارالحکومت نئی دہلی میں 6 جون کو احتجاجی تحریک شروع کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔

بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق ابھیجیت دپکے نے کہا ہے کہ وہ 6 جون کو بھارت واپس آ کر دہلی کے جنتر منتر پر پرامن احتجاج کا آغاز کریں گے۔ ان کا مؤقف ہے کہ ملک میں مختلف امتحانی تنازعات کے باعث طلبہ کا مستقبل متاثر ہو رہا ہے، جس پر فوری طور پر ذمے داری طے کی جانی چاہیے۔

دپکے نے مطالبہ کیا ہے کہ نیٹ یو جی پیپر لیک، سی بی ایس ای، سی یو ای ٹی اور ایس ایس سی جی ڈی سمیت مختلف امتحانی بے ضابطگیوں کی ذمے داری قبول کرتے ہوئے مرکزی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان اپنے عہدے سے استعفیٰ دیں۔

ان کا دعویٰ ہے کہ امتحانی نظام میں ہونے والی مبینہ بے ضابطگیوں سے ایک کروڑ سے زائد طلبا متاثر ہوئے ہیں۔ انہوں نے ایک ویڈیو پیغام میں طلبا، نوجوانوں اور اپنے حامیوں سے اپیل کی ہے کہ وہ 6 جون کو دہلی میں ان کے احتجاج میں شریک ہوں۔

دپکے کے مطابق پیپر لیک اور دیگر تنازعات کے باعث طلبا شدید ذہنی دباؤ کا شکار ہوئے، کئی نوجوانوں کی محنت ضائع ہوئی اور بعض افسوسناک واقعات میں خودکشی جیسے سنگین نتائج بھی سامنے آئے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایسے حالات میں ذمے داروں کا تعین ناگزیر ہو چکا ہے۔

انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ وزیر تعلیم کے استعفے کے مطالبے پر اب تک 8 لاکھ سے زائد افراد دستخط کر چکے ہیں جبکہ لکھنؤ، جے پور، دہلی اور مہاراشٹر سمیت مختلف شہروں میں پہلے ہی احتجاجی مظاہرے کیے جا چکے ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ مسلسل ناکامیوں کے باوجود اگر احتساب نہ کیا گیا تو عوامی اعتماد مزید متاثر ہوگا اور طلبا بار بار نقصان اٹھاتے رہیں گے، جبکہ متعلقہ ادارے کسی مؤثر کارروائی سے گریز کر رہے ہیں۔

انہوں نے اعلان کیا کہ وہ دہلی پہنچ کر جنتر منتر پر احتجاج کی اجازت کے لیے حکام سے رابطہ کریں گے اور یہ احتجاج مکمل طور پر پرامن اور آئینی دائرے میں ہوگا۔

دپکے نے یہ بھی کہا کہ انہیں امریکا میں ملازمت کی پیشکش ہوئی تھی، تاہم انہوں نے بیرون ملک جانے کے بجائے بھارت واپس آ کر احتجاج کا فیصلہ کیا ہے۔

متعلقہ مضامین

  • کے فور منصوبہ مزید تاخیر کا شکار، 2029 تک مکمل ہونے کا امکان
  • اٹلی میں چار پاکستانی زرعی مزدوروں کا قتل، دو پاکستانی شہری گرفتار
  • تیزگام ایکسپریس کی پاور وین میں آگ لگ گئی
  • شیخ رشید نے راولپنڈی ڈسٹرکٹ بار میں رکنیت بحالی کی درخواست جمع کرا دی
  • امتحانی تنازعات پر کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی نے بڑا اعلان کردیا
  • 5 جون تک پنجاب کے متعدد اضلاع میں آندھی، شدید ژالہ باری کا امکان، الرٹ جاری
  • اے پی ایس شہدا کے لواحقین کو معاوضہ پیکج کی عدم ادائیگی، سپریم کورٹ نے وفاقی حکومت سے جواب طلب کرلیا
  • میئر لندن، 16 سال سے کم عمر بچوں کیلئے سوشل میڈیا پر پابندی کی حمایت
  • کراچی: نجی ایئر لائن کی حج پرواز جدہ سے 15 گھنٹے کی تاخیر سے پہنچ گئی
  • میئر ظہران ممدانی نے نیویارک میں بچوں کا بیڈ ٹائم کیوں معطل کردیا؟