اسلام آباد ( ڈیلی پاکستان آن لائن ) پاکستان تحریک انصاف نے جوڈیشری سے 26ویں آئینی ترمیم کیخلاف کیس جلد سننے کا مطالبہ کردیا۔
نجی ٹی وی دنیا نیوز کے مطابق پارٹی رہنماوں کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے چیئرمین تحریک انصاف بیرسٹر گوہر کا کہنا تھا کہ جعلی مینڈیٹ سے بنی حکومت نے 26ویں ترمیم پاس کرائی، پی ٹی آئی کا اصولی موقف ہے کہ 26ویں ترمیم کیس کی سماعت جلد سے جلد ہو، تمام جج صاحبان بیٹھیں اور 26ویں ترمیم کا فیصلہ کریں۔
انہوں نے کہا کہ ہمارے مینڈیٹ کا تحفظ الیکشن کمیشن کی آئینی ذمہ داری تھی، ہمارا آج بھی یہی موقف ہے مینڈیٹ واپس لینے کا حق رکھتے ہیں، جمہوریت کیلئے عوام کا مینڈیٹ اور ووٹ بنیاد ہے۔
بیرسٹرگوہر کا کہنا تھا کہ بانی پی ٹی آئی نے مذاکرات کیلئے کمیٹی بنائی، ہم آگے بڑھنا چاہ رہے تھے، حکومت نے مذاکرات سے راہ فرار اختیار کی، ابھی بھی وقت ہے دانشمندانہ فیصلے کریں،وہ فیصلے کریں جس میں سب کی فلاح ہو۔
انہوں نے مزید کہا کہ بانی پی ٹی آئی نے سابق وزیراعظم کی حیثیت سے آرمی چیف کو خط لکھا، بانی پی ٹی آئی کے خط میں عوام کے جذبات کی عکاسی ہے، بانی پی ٹی آئی نے کہاکہ فوج اور عوام میں خلیج پیدا نہیں ہونی چاہئے، عمران خان کے خط کو پاس آن کیا جارہا ہے، بانی پی ٹی آئی کے خط پر کوئی خاطر خواہ عمل نہیں ہوا۔
اپوزیشن لیڈر قومی اسمبلی عمر ایوب نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی عمران خان، بشریٰ بی بی، شاہ محمودقریشی اور دیگر ساتھی مختلف جیلوں میں پابند سلاسل ہیں، جیل میں سہولیات ان کا حق ہے، جیل مینوئل کے مطابق انہیں سہولیات نہیں مل رہیں، ہمارے تمام رہنما سیاسی قیدی ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ پاکستان میں آئین وقانون کی بالادستی نہیں ہے، جوڈیشری کو اپنے پیروں پر کھڑا ہونا چاہئے، عدلیہ کو کہنا چاہئے کہ بس بہت ہوا۔انہوں نے کہا کہ پاکستان میں سرمایہ کاری نہیں آرہی، پاکستان میں کاروبار، زراعت کا شعبہ بند پڑا ہے، آپ کی گاڑی کا انجن بند پڑا ہے اور آپ کہہ رہے ہیں معیشت چل رہی ہے، حکومت کا جو شخص کہتا ہے مہنگائی کم ہوگئی ہے، آجائیں بازار چلتے ہیں، قوت خرید لوگوں کے ہاتھ سے نکل گئی ہے۔
پی ٹی آئی رہنما شبلی فراز بولے کہ ہمسایہ ملک نے صاف شفاف الیکشن کرائے وہاں سیاسی استحکام ہے، ہمارے ہاں حکمران عوام کے مینڈیٹ سے نہیں آئے بلکہ بٹھائے گئے ہیں، 8فروری کے بعد ملک میں عدم استحکام نے جنم لیا، ہر طرف خوف اور غیر یقینی کی صورتحال ہے۔
ان کامزید کہنا تھا کہ 8 فروری کو عوام کے مینڈیٹ پر ڈاکا ڈالا گیا، ایسے لوگ بٹھائے گئے جو بری طرح ہارے ہوئے تھے، ملک میں اس وقت آئین کی خلاف ورزی ہورہی ہے، جب تک ملک میں صاف شفاف الیکشن نہیں ہوں گے سیاسی استحکام نہیں آسکتا، عوام جانتے ہیں اکانومی کی کیا صورتحال ہے۔ 

بلوچستان میں زلزلے کے جھٹکے

مزید :.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Pakistan

کلیدی لفظ: بانی پی ٹی آئی کہنا تھا کہ کہا کہ نے کہا

پڑھیں:

بلوچستان، جج کے قتل کے بعد کالعدم بی ایل اے اور داعش کا گٹھ جوڑ سامنے آگیا، اقوام متحدہ سے کارروائی کا مطالبہ

بلوچستان میں حالیہ دہشتگرد حملوں اور ایک جج کے قتل کے تناظر میں کالعدم بی ایل اے اور داعش کے پی کے درمیان مبینہ روابط کے حوالے سے نئے دعوے سامنے آئے ہیں۔

عوام کی جانب سے بی ایل اے کو اقوامِ متحدہ کی دہشتگرد تنظیموں کی فہرست میں شامل کرتے ہوئے کارروائی کا مطالبہ بھی کیا گیا ہے۔

عوامی حلقوں کا کہنا ہے کہ بلوچستان میں شہریوں اور عوامی انفراسٹرکچر کو نشانہ بنانے والے حملوں میں بی ایل اے ملوث رہی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:افغانستان میں دہشتگردوں کے خلاف پاکستان کی کامیاب کارروائیاں، ٹی ٹی پی اور بی ایل اے مشترکہ پناہ گاہ ڈھونڈنے پر مجبور

اس کے نتیجے میں بے گناہ شہری اپنی جانوں سے ہاتھ دھو رہے ہیں اور صوبے میں امن و امان کی صورتحال متاثر ہو رہی ہے۔

عوامی انفراسٹرکچر پر حملوں سے شہری متاثر

واضح رہے کہ عوامی انفراسٹرکچر، خصوصاً پلوں اور سڑکوں کو نشانہ بنانے سے آمدورفت، کاروباری سرگرمیوں، ہنگامی امدادی خدمات اور روزمرہ زندگی بری طرح متاثر ہوتی ہے۔

اس کا سب سے زیادہ نقصان بلوچستان کے عام شہریوں کو برداشت کرنا پڑتا ہے، جنہیں بنیادی سہولیات تک رسائی میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

جج کے قتل کو عدلیہ پر حملہ قرار دیا گیا

عوامی حلقوں میں بلوچستان میں مستونگ کے علاقے میں جج کے قتل کو عدلیہ اور نظامِ انصاف پر براہِ راست حملہ قرار دیا جا رہا ہے جو کہ کالعدم بی ایل اے نے کیا جبکہ اس کی ذمہ داری داعش کے پی نے قبول کی ہے۔

سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر سینیئر صحافی اس صورتحال کو دونوں تنظیموں کے درمیان مبینہ گٹھ جوڑ کے طور پر پیش کر رہے ہیں۔

اقوامِ متحدہ سے کارروائی کا مطالبہ

واضح رہے کہ کالعدم داعش کے پی پہلے ہی اقوامِ متحدہ کی جانب سے دہشت گرد تنظیم قرار دی جا چکی ہے، جبکہ کالعدم بی ایل اے اب تک اقوامِ متحدہ کی دہشتگرد تنظیموں کی فہرست میں شامل نہیں ہے۔

مزید پڑھیں:ماہرنگ لانگو کے والد کی قبر پر کالعدم بی ایل اے کا پرچم لہرانے کی ویڈیو وائرل، اصل چہرہ بے نقاب

اسی بنیاد پر مطالبہ کیا گیا ہے کہ اقوامِ متحدہ کالعدم بی ایل اے کی سرگرمیوں کا جائزہ لے کر اسے فوری دہشتگرد تنظیموں کی فہرست میں شامل کیا جائے۔

ادھر خیبر پختونخوا سے سینیئر صحافی حسن خان نے ایکس پر لکھا ہے کہ ’بلوچستان کے ضلع مستونگ کے قریب سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے گن مین کے قتل کی ذمہ داری شدت پسند تنظیم آئی ایس کے پی (داعش خراسان) نے قبول کر لی ہے۔

ISKP has claimed responsibility for the targeted killing of Sessions Judge Abdul Hakeem Kakar and his gunman while they were on their way to Mastung early on Thursday. Another judge was injured in the attack, according to officials.
This ISKP claim raises questions about a…

— Hassan khan (@hasankhyber) July 23, 2026

حملے میں ایک اور جج بھی زخمی ہوئے، جبکہ واقعے کے بعد سیکیورٹی اور تحقیقاتی اداروں نے تحقیقات کا دائرہ وسیع کر دیا ہے۔

سرکاری حکام کے مطابق سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ جمعرات کی صبح مستونگ جا رہے تھے کہ نامعلوم مسلح افراد نے ان کی گاڑی کو نشانہ بنایا۔ فائرنگ کے نتیجے میں جج اور ان کا گن مین جاں بحق ہو گئے، جبکہ ایک اور جج زخمی ہوئے۔

آئی ایس کے پی کے دعوے کے بعد نئے سوالات

حملے کے چند گھنٹوں بعد آئی ایس کے پی نے اس کارروائی کی ذمہ داری قبول کر لی، جس کے بعد بعض حلقوں کی جانب سے بی ایل اے اور آئی ایس کے پی کے درمیان مبینہ روابط پر سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:لاپتا افراد کی آڑ میں کئی نوجوان دہشتگردی میں ملوث، بی ایل اے کا مکرو چہرہ بے نقاب

کچھ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ حملے کا طریقۂ کار ماضی میں بلوچستان میں ہونے والے بعض حملوں سے مماثلت رکھتا ہے، تاہم اس مرحلے پر یہ کہنا قبل از وقت ہوگا کہ اس حملے میں کسی دوسری تنظیم کا کردار تھا یا دونوں گروہوں کے درمیان عملی تعاون موجود ہے۔

عدلیہ کو نشانہ بنانے کے محرکات کی تحقیقات جاری

بعض مبصرین کے مطابق یہ حملہ عدلیہ کو خوفزدہ کرنے یا دباؤ میں لانے کی کوشش ہو سکتا ہے، خصوصاً ایسے وقت میں جب حالیہ دنوں میں بلوچ یکجہتی کونسل کی مرکزی رکن ماہ رنگ لانگو کے خلاف عدالتی فیصلہ سامنے آیا ہے۔

تحقیقاتی ادارے مختلف پہلوؤں سے واقعے کا جائزہ لے رہے ہیں تاکہ حملہ آوروں کی شناخت اور ممکنہ سہولت کاروں کا تعین کیا جا سکے۔

ایک روز قبل مسافر بس پر حملہ

یہ واقعہ ایسے وقت پیش آیا ہے جب ایک روز قبل بلوچستان میں مسافر بس پر حملے میں 5 افراد جاں بحق ہوئے تھے۔ سرکاری حکام نے اس حملے کا الزام بی ایل اے پر عائد کیا تھا۔

حکام کے مطابق مسلح افراد نے بس کو رکنے کا اشارہ کیا اور ڈرائیور کے گاڑی بھگانے پر اندھا دھند فائرنگ کی، جس کے نتیجے میں 5 مسافر جان کی بازی ہار گئے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

اقوام متحدہ بی ایل اے پابندی خراسان داعش فہرست کالعدم بلوچستان لبریشن آرمی ماہ رنگ لانگو مطالبہ

متعلقہ مضامین

  • ازبکستان میں پاکستان کے سفیر مدثر ٹیپو نے سفارتی اسناد ازبک وزیر خارجہ کو پیش کردیں
  • پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا
  • پیپلز پارٹی کا فارم 47 پر حالیہ بیانیہ پی ٹی آئی بیانیے سے مطابقت رکھتا ہے، علی ظفر
  • بارشوں کے پانی نے لاہور انتظامیہ کی پول کھول دی‘ اقبال ٹاﺅن اور جوہر ٹاﺅن میں مرکزی شاہراﺅں پر شگاف پڑگئے
  • پاکستان کے خلاف ٹیسٹ سیریز: ویسٹ انڈیز نے 15 رکنی اسکواڈ کا اعلان کر دیا
  • بلوچستان میں پیش آنیوالے پے درپے دہشتگردی کے واقعات افسوسناک ہیں، علامہ مقصود ڈومکی
  • بلوچستان، جج کے قتل کے بعد کالعدم بی ایل اے اور داعش کا گٹھ جوڑ سامنے آگیا، اقوام متحدہ سے کارروائی کا مطالبہ
  • پنجاب کے وزیر تعلیم رانا سکندر حیات نے ٹیچر بننے کا اعلان کردیا
  • دہشتگردی کے خاتمے تک فتنۃ الخوارج و فتنۃ الہندوستان کے خلاف کارروائیاں جاری رہیں گی، فیلڈ مارشل
  • کے پی اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم ہے، الیکشن کمیشن