واٹس ایپ کا صارفین کی سہولت کے لیے چیٹ فلٹرز سے متعلق نیا فیچر
اشاعت کی تاریخ: 17th, February 2025 GMT
سان فرانسسکو:واٹس ایپ نے اپنے صارفین کی سہولت کو بڑھانے کے لیے ایک نیا فیچر متعارف کرا دیا ہے، جس کے تحت چیٹ لسٹ کے فلٹرز کو مستقل طور پر فعال کر دیا جائے گا۔ اس فیچر کی بدولت صارفین کو اپنی چیٹ لسٹ میں بہتر اور تیز تر نیویگیشن کی سہولت فراہم ہوگی۔
عالمی اداروں کی رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ یہ نیا فیچر ابھی بیٹا ٹیسٹنگ کے مرحلے میں ہے اور کچھ بیٹا ٹیسٹرز جو گوگل پلے اسٹور کے ذریعے اینڈرائیڈ 2.
اس نئے فیچر کی سب سے بڑی خصوصیت یہ ہے کہ جب بھی صارف واٹس ایپ کھولے گا، چیٹ فلٹرز چیٹ لسٹ میں سب سے اوپر موجود ہوں گے۔ اس سے صارفین کو چیٹ لسٹ میں نیچے تک اسکرول کرنے کی ضرورت نہیں پڑے گی جیسا کہ فی الحال ضرورت ہوتی ہے۔ یہ تبدیلی صارفین کے لیے چیٹ نیویگیشن کے عمل کو نمایاں طور پر آسان اور تیز تر بنا دے گی۔
واٹس ایپ کا یہ نیا فیچر صارفین کو چیٹ فلٹرز تک فوری رسائی فراہم کرے گا، جس سے وہ اپنی چیٹ لسٹ کو زیادہ منظم طریقے سے استعمال کر سکیں گے۔ فلٹرز کی مدد سے صارفین اہم چیٹس کو آسانی سے تلاش کر سکیں گے اور غیر ضروری چیٹس سے بچ سکیں گے۔ یہ فیچر خاص طور پر ان صارفین کے لیے مفید ہوگا جو روزانہ بڑی تعداد میں چیٹس کا استعمال کرتے ہیں۔
فی الحال یہ فیچر صرف بیٹا ٹیسٹرز کے لیے دستیاب ہے، لیکن واٹس ایپ کی جانب سے کہا گیا ہے کہ آنے والے ہفتوں میں اسے تمام صارفین کے لیے متعارف کرایا جائے گا۔ اس کے علاوہ، واٹس ایپ کی ٹیم مسلسل صارفین کے تجربے کو بہتر بنانے کے لیے نئے فیچرز اور اپ ڈیٹس پر کام کر رہی ہے۔
واٹس ایپ کا یہ نیا فیچر صارفین کے لیے چیٹ نیویگیشن کو مزید آسان اور موثر بنانے کی طرف ایک اہم قدم ہے۔ جلد ہی تمام صارفین اس فیچر سے مستفید ہو سکیں گے اور اپنی چیٹ لسٹ کو بہتر طریقے سے منظم کر سکیں گے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: صارفین کے لیے کر سکیں گے واٹس ایپ نیا فیچر چیٹ لسٹ
پڑھیں:
بجلی صارفین کے لیے ایک اور جھٹکا، فی یونٹ نرخ بڑھنے کا امکان
اسلام آباد: بجلی کی قیمت میں اضافہ ایک بار پھر زیر غور آ گیا ہے، کیونکہ اپریل 2026 کی ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ کی مد میں بجلی ایک روپے 73 پیسے فی یونٹ مہنگی کرنے کی درخواست نیپرا میں جمع کرا دی گئی ہے۔
نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) میں ہونے والی سماعت کے دوران سینٹرل پاور پرچیزنگ ایجنسی (سی پی پی اے) کے حکام نے بتایا کہ اپریل کے دوران خطے میں جاری کشیدگی اور جنگی صورتحال کے باعث توانائی کے شعبے کو متعدد چیلنجز کا سامنا رہا، جس کے اثرات بجلی کی پیداوار پر بھی مرتب ہوئے۔
سی پی پی اے کے مطابق اپریل میں درآمدی ایل این جی کی دستیابی نہ ہونے کے برابر تھی، تاہم مئی کے آغاز میں ایل این جی کے معاہدہ شدہ اور اسپاٹ کارگوز موصول ہونے کے بعد ایل این جی سے چلنے والے بجلی گھروں کو دوبارہ فعال کیا گیا، جس سے نظام میں بہتری آئی۔
حکام نے نیپرا کو آگاہ کیا کہ صنعتی شعبے کے علاوہ تقریباً تمام صارفین کی کیٹیگریز میں بجلی کی کھپت میں کمی ریکارڈ کی گئی۔ اس کے ساتھ آئندہ دو ماہ کے لیے ایل این جی کی یومیہ بنیادوں پر منصوبہ بندی مکمل کر لی گئی ہے تاکہ ایندھن کی فراہمی اور بجلی کی پیداوار میں کسی قسم کی رکاوٹ پیدا نہ ہو۔
سی پی پی اے حکام کا کہنا ہے کہ اگرچہ بجلی کی قیمت میں اضافہ تجویز کیا گیا ہے، تاہم مئی، جون اور جولائی کی فیول ایڈجسٹمنٹ میں صارفین کو بڑے اضافی بوجھ کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا کیونکہ ضروری انتظامات اور ایندھن کی دستیابی کو یقینی بنایا جا چکا ہے۔
اب نیپرا درخواست پر تمام فریقین کا مؤقف سننے کے بعد حتمی فیصلہ جاری کرے گا، جس کے بعد یہ طے ہوگا کہ صارفین کو بجلی کے بلوں میں کتنا اضافی بوجھ برداشت کرنا پڑے گا۔