پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے وفد نے چیف جسٹس یحییٰ آفریدی سے 2 گھنٹے تک ملاقات کی اور شکایتوں کے انبار لگا دیے۔

سپریم کورٹ نے چیف جسٹس پاکستان سے اپوزيشن رہنماؤں کی ملاقات کا اعلامیہ جاری کردیا۔

اعلامیے کے مطابق چیف جسٹس یحییٰ آفریدی نے اصلاحات کے ایجنڈے پر وسیع پیمانے پر اسٹیک ہولڈرز سے مشاورت کےلیے اپوزیشن قیادت کو مدعو کیا۔

پی ٹی آئی کی قیادت نے چیف جسٹس سے ان کی رہائش گاہ پر ملاقات کی، چیف جسٹس نے پی ٹی آئی وفد کا خیر مقدم کیا اور پی ٹی آئی وفد کو نیشنل جوڈیشل پالیسی میکنگ کمیٹی کے مجوزہ اجلاس سے آگاہ کیا۔

چیف جسٹس نے بتایا کہ انہوں نے وزیر اعظم سے ملاقات کی،
وزیراعظم سے اصلاحات کے ایجنڈے پر حکومت کی رائے فراہم کرنے کی درخواست کی، وزیر اعظم نے اس عمل کو مثبت انداز میں لیا اور  پالیسی سازی اور عملدرآمد میں مکمل تعاون کی یقین دہانی کروائی۔

اعلامیے کے مطابق چیف جسٹس نے مزید بتایا قانون و انصاف کمیشن کو فیڈ بیک موصول ہو چکا ہے، یہ فیڈ بیک ملک بھر کی بار کونسلز، عوام کی آراء اور ضلعی عدلیہ کی طرف سے موصول ہوا، ہائیکورٹس کے رجسٹرارز اور صوبائی جوڈیشل اکیڈمیز کی رائے بھی جلد متوقع ہے۔

چیف جسٹس نے کہا وزیر اعظم ٹیکس مقدمات کے مختلف عدالتی فورمز پر التواء پر تشویش رکھتے ہیں، چیف جسٹس نے وزیراعظم کو یقین دہانی کروائی کہ ٹیکس مقدمات کو جلد نمٹانا اولین ترجیح ہے، چیف جسٹس نے وزیراعظم کو یقین دہانی کروائی زیر التوا مقدمات کی مجموعی تعداد میں کمی اولین ترجیح ہے۔

ملاقات میں عمر ایوب، شبلی فراز، بیرسٹر گوہر علی خان، بیرسٹر علی ظفر بیرسٹر سلمان اکرم راجہ، لطیف کھوسہ، ڈاکٹر بابر اعوان نے بھی شرکت کی، سپریم کورٹ کے رجسٹرار محمد سلیم خان اور سیکریٹری قانون و انصاف کمیشن تنزیلہ صباحت نے چیف جسٹس کی معاونت کی، پی ٹی آئی وفد کی چیف جسٹس پاکستان سے ملاقات دو گھنٹے تک جاری رہی۔

چیف جسٹس نے تجویز دی عدالتی اصلاحات کو ایک کم از کم مشترکہ قومی ایجنڈا بنایا جانا چاہیے، مشترکہ قومی ایجنڈے کے لیے دو طرفہ حمایت ہونی چاہیے۔

اسلام آباد ہائیکورٹ کی موجودہ سینیارٹی لسٹ کو کالعدم قرار دیا جائے, 5 ججز کی درخواست دائر

ججز کا اسلام آباد ہائیکورٹ میں ٹرانسفر آرٹیکل 175 اے کی خلاف ورزی ہے، صدر مملکت نے آرٹیکل 200 کی شق ایک کا استعمال جوڈیشل کمیشن کے اختیار کو غصب کرکے کیا۔

اعلامیہ کے مطابق ملاقات میں اپوزیشن لیڈر عمر ایوب نے قید عمران خان اور دیگر رہنماؤں اور کارکنوں کو درپیش مسائل اجاگر کیے، عمر ایوب نے شکایت کی اپوزیشن قیادت کے مقدمات جان بوجھ کر مختلف مقامات پر ایک ہی وقت میں مقرر کیے جاتے ہیں اور کہا کہ ایسا اس لیے کیا جاتا ہے کہ عدالتوں میں پیشی ممکن نہ ہو سکے۔

سپریم کورٹ اعلامیہ کے مطابق چیف جسٹس سے ملاقات میں عمر ایوب نے یہ بھی کہا کہ پارٹی قیادت اور کارکنوں کے کیسز کی پیروی کرنے والے وکلاء کو ہراساں کیا جا رہا ہے، جیل حکام عدالتوں کے احکامات پر عمل نہيں کر رہے، پی ٹی آئی کے وکلاء پر دہشت گردی کے مقدمات درج کیے جا رہے ہیں۔

سپریم کورٹ کے 4 ججوں کا چیف جسٹس یحییٰ آفریدی کو خط، جوڈیشل کمیشن اجلاس مؤخر کرنے کی درخواست

چیف جسٹس یحییٰ آفریدی کو خط لکھنے والوں میں جسٹس منصور، جسٹس منیب اختر ، جسٹس عائشہ اور جسٹس اطہر شامل ہیں۔

اعلامیہ کے مطابق عمر ایوب نے کہا کہ ملک کا اقتصادی استحکام قانون کی حکمرانی پر منحصر ہے، معاشی بحالی تب ہی ممکن ہے جب عدلیہ اپنا کردار ادا کرے اور ایگزیکٹو کو جوابدہ بنایا جائے۔

پی ٹی آئی وفد کے دیگر شرکاء نے بھی اسی نوعیت کی آراء کا اظہار کیا، پی ٹی آئی وفد نے اس حقیقت کو تسلیم کیا کہ عدلیہ میں اصلاحات کی ضرورت ہے۔

سپریم کورٹ اعلامیہ کے مطابق ملاقات میں بیرسٹر علی ظفر نے درخواست کی کہ فراہم کردہ پالیسی تجاویز کا جواب دینے کےلیے وقت درکار ہے، انہوں نے فوجداری انصاف کے نظام اور دیوانی مقدمات کے حل میں بہتری کے لیے قیمتی تجاویز پیش کیں۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Jang News

کلیدی لفظ: اعلامیہ کے مطابق چیف جسٹس یحیی پی ٹی آئی وفد عمر ایوب نے چیف جسٹس نے نے چیف جسٹس سپریم کورٹ ملاقات میں

پڑھیں:

سپریم کورٹ: اے پی ایس شہداء لواحقین کو پیکیج نہ ملنے پر وفاقی حکومت سے جواب طلب

فائل فوٹو 

سپریم کورٹ نے اے پی ایس شہداء لواحقین کو پیکیج نہ ملنے پر وفاقی حکومت سے جواب طلب کرلیا۔

کیس کی سماعت جسٹس محمد علی مظہر کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے کی، جسٹس عرفان سعادت نے کہا کہ درخواست 25 دن تاخیر سے دائر کی گئی۔

پشاور ہائیکورٹ فیصلے پر توہین عدالت کی درخواست شہداء کےلواحقین کی جانب سے دائر کی گئی تھی، پشاور ہائیکورٹ نے توہین عدالت کی درخواست خارج کردی تھی۔

درخواست گزار کے وکیل نے کہا کہ شہداء کے لواحقین کو اعلان کردہ پیکیج نہیں ملا۔

جسٹس محمد علی مظہر نے کہا کہ اگر کوئی پیکیج ملا ہے تو سب کو دیں،  وفاقی حکومت بتائے کہ پشاور ہائیکورٹ فیصلے پر عملدرآمد ہوا یا نہیں۔

کیس کی مزید سماعت غیر معینہ مدت کیلئے ملتوی کردی گئی۔

متعلقہ مضامین

  • بحر اوقیانوس کے اوپر سیکیورٹی الرٹ، طیارہ پونے 4 گھنٹے بعد واپس لوٹ آیا
  • گلگت بلتستان کی سڑکوں کی خستہ حالی دیکھ کر شدید دکھ ہوا، نواز شریف
  • جسٹس ریٹائرڈ مقبول باقر سندھ انسانی حقوق کمیشن کے چیئرپرسن مقرر
  • اڈیالہ جیل، بانی پی ٹی آئی اور بشریٰ بی بی کی 40 منٹ طویل ملاقات
  • شدید گرمی میں سندھ میں 22 گھنٹے بجلی لوڈشیڈنگ ہو رہی ہے، شرجیل میمن
  • سپریم کورٹ: اے پی ایس شہداء لواحقین کو پیکیج نہ ملنے پر وفاقی حکومت سے جواب طلب
  • سپریم کورٹ؛ اے این ایف اہلکار کے چرس پینے سے متعلق جواب پر جج کے دلچسپ ریمارکس پر قہقہے
  • زیر التوا مقدمات کو جلد نمٹانے کے لیے سپریم کورٹ کا بڑا انتظامی فیصلہ
  • لاہور کی رہائشی خاتون کی منشیات برآمدگی کیس میں ضمانت منظور
  • کراچی: نجی ایئر لائن کی حج پرواز جدہ سے 15 گھنٹے کی تاخیر سے پہنچ گئی