پاکستان کی شکست پر گلوکاری، شعیب ملک تنقید کی زد میں کیوں؟
اشاعت کی تاریخ: 24th, February 2025 GMT
چیمپیئنز ٹرافی 2025 میں بھارت کے ہاتھوں پاکستان کی شکست پر جہاں قومی ٹیم کے مداح شدید مایوس ہوئے وہیں سابق کرکٹرز نے بھی ٹیم پر کھل کر تنقید کی سابق کپتان شعیب ملک نے تجزیہ کرتے ہوئے طنزاً بالی ووڈ کا گانا ’دل کے ارماں آنسوؤں میں بہہ گئے‘ گانا گایا جس پر انہیں سابق کرکٹرز نے آڑے ہاتھوں لیا۔
سابق قومی کرکٹر اور تجزیہ کار باسط علی نے شعیب ملک کے پاکستانی ٹیم پر طنزاً گانا گانے پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ ’شعیب ملک کے گانا گانے پر پی سی بی کو ایکشن لینا چاہیے‘۔
"شعیب ملک کے گانا گانے پر پی سی بی کو ایکشن لینا چاہیے۔۔" باسط علی کا تبصرہ#ARYNews #INDvPAK #ChampionsTrophy pic.
— ARY NEWS (@ARYNEWSOFFICIAL) February 23, 2025
سابق ٹیسٹ کرکٹر سکندر بخت نے پی سی بی کے چیئرمین محسن نقوی کو بھی آڑے ہاتھوں لیا اور انہیں مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ جن کو آپ 50 لاکھ روپیہ مہینے کا دیتے ہیں وہ ٹی وی پر بیٹھ کر آپ کا مذاق اڑا رہے تھے۔ انہوں نے کہا کہ شعیب ملک جو آپ کے پے رول پر ہیں وہ پاکستانی کرکٹ کا گانے گا کر مذاق اڑا رہے تھے۔
سکندر بخت نے مزید کہا کہ وقار یونس ٹی وی پر بیٹھ کر کہہ رہے تھے کہ میں کرکٹ بورڈ میں ہوں مگر مجھے خود نہیں پتہ کہ میں کیا کرتا ہوں۔
واضح رہے کہ دبئی کے کرکٹ اسٹیڈیم میں کھیلے گئے پاکستان اور انڈیا کے میچ میں پاکستان نے ٹاس جیت کر پہلے بیٹنگ کا فیصلہ کیا مگر ٹیم پورے 50 اوورز کھیلنے میں ناکام رہی، اور 49.4 اوورز میں 241 رنز بنا کر آؤٹ ہوگئی۔ جبکہ جواب میں بھارت نے ہدف 42.3 اوورز میں 4 وکٹوں کے نقصان پر حاصل کرلیا۔ پاکستان چیمپیئنز ٹرافی کا افتتاحی میچ بھی نیوزی لینڈ سے ہار گیا تھا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
آئی سی سی چیمپیئنز ٹرافی 2025 باسط علی پاکستان بمقابلہ انڈیا چیمپیئنز ٹرافی سنکدر بخت شعیب ملک
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: آئی سی سی چیمپیئنز ٹرافی 2025 باسط علی پاکستان بمقابلہ انڈیا چیمپیئنز ٹرافی شعیب ملک چیمپیئنز ٹرافی شعیب ملک کہا کہ
پڑھیں:
گندم کی بمپر فصل ہوئی تھی تو پنجاب و سندھ خریداری کا ہدف حاصل کیوں نہ کرسکے، مزمل اسلم
خیبرپختونخوا کے مشیر خزانہ مزمل اسلم نے گندم بحران اور پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں مسلسل اضافے اور بڑھتی ہوئی مہنگائی پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر رواں سال گندم کی بمپر فصل ہوئی تھی تو پھر پنجاب اور سندھ دونوں اپنے گندم خریداری کے ہدف کا بمشکل 15 فیصد ہی حاصل کیوں نہ کرسکے۔
مشیر خزانہ خیبرپختونخوا مزمل اسلم نے کہا کہ گندم کی مارکیٹ میں قیمتیں مسلسل بڑھتی رہیں لیکن متعلقہ اداروں نے بروقت کوئی مؤثر کارروائی نہیں کی۔
انہوں نے سوال اٹھایا کہ آخر وہ کون سے ذخیرہ اندوز تھے جنہوں نے اس عرصے میں مارکیٹ سے بڑی مقدار میں گندم خرید کر ذخیرہ کی، جس کے باعث کسان کو اس کی محنت کا مناسب معاوضہ نہ مل سکا جبکہ صارفین بھی مہنگی گندم خریدنے پر مجبور ہوئے۔
ان کا کہنا تھا کہ اس سنگین غفلت کی ذمہ داری بھی کسی نہ کسی کو قبول کرنا ہوگی، نئے گندم سیزن میں ابھی 8 سے 9 ماہ باقی ہیں، اگر اس دوران گندم درآمد کرنا پڑی تو اس پر قیمتی زرمبادلہ خرچ ہوگا، جس سے ملکی معیشت پر مزید دباؤ بڑھے گا۔
پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں حالیہ اضافے پر ردعمل دیتے ہوئے مشیر خزانہ نے کہا کہ اگر وفاقی حکومت عالمی منڈی میں تیل کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کا بوجھ برداشت نہیں کر سکتی تو کم از کم تقریباً 1,700 ارب روپے کی پیٹرولیم لیوی میں عارضی کمی کر کے عوام کو فوری ریلیف فراہم کرے۔
انہوں نے کہا کہ گزشتہ پانچ دنوں کے دوران پیٹرول کی قیمت میں 21 روپے، ڈیزل کی قیمت میں 56 روپے فی لیٹر اضافہ کیا گیا، جس نے عوام کی مشکلات میں غیر معمولی اضافہ کر دیا ہے۔
مزمل اسلم نے کہا کہ موجودہ حکومت کی معاشی پالیسیوں کے باعث عوام مسلسل مہنگائی کے شدید جھٹکے برداشت کر رہے ہیں اور یہ اثرات تاقیامت یاد رکھے جائیں گے۔
انہوں نے سوال کیا کہ حکومت کی اتحادی جماعتیں آخر کس کارکردگی کی بنیاد پر کشمیر انتخابات میں عوام سے ووٹ مانگ رہی ہیں۔
مشیر خزانہ نے کہا کہ مہنگائی کا طوفان آنے والا نہیں بلکہ آ چکا ہے، وفاقی محکمہ شماریات کے اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ ایک سال کے دوران ٹماٹر کی قیمت میں 253 فیصد، پیاز 81 فیصد، آٹا 74 فیصد، ایل پی جی 46 فیصد، پیٹرول اور ڈیزل 32 فیصد اور بجلی کے نرخوں میں 23 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، اسی طرح حساس قیمتوں کے اشاریے کے مطابق ایک ہفتے کے دوران مہنگائی میں 0.91 فیصد اور سالانہ بنیادوں پر 9.66 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔