آپ نے کہا فوج عدالتی اختیارات استعمال نہیں کر سکتی، اب کہہ رہے ہیں فوج اپنے لوگوں تک یہ اختیار استعمال کر سکتی ہے، سویلین پر نہیں،جسٹس محمد علی مظہر
اشاعت کی تاریخ: 25th, February 2025 GMT
اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)سپریم کورٹ آئینی بنچ میں فوجی عدالتوں میں سویلینز کے ٹرائل کے فیصلے کیخلاف اپیلوں پرسماعت کے دوران جسٹس محمد علی مظہر نے کہاکہ آپ نے کہا فوج عدالتی اختیارات استعمال نہیں کر سکتی، اب کہہ رہے ہیں فوج اپنے لوگوں تک یہ اختیار استعمال کر سکتی ہے، سویلین پر نہیں،عزیر بھنڈاری نے کہا کہ آرٹیکل8(3)کے تحت آرمڈ فورسز کے لوگوں کو بنیادی حقوق حاصل نہیں،جسٹس منیب اختر نے تفصیلی فیصلے میں یہی بات کی۔
نجی ٹی وی چینل دنیا نیوز کے مطابق فوجی عدالتوں میں سویلینز کے ٹرائل کیخلاف انٹراکورٹ اپیل پر بانی پی ٹی آئی کے وکیل نے کہاکہ ملزم کے سٹیٹس کو مدنظررکھ کر فوجی عدالتوں میں ٹرائل ہوگا، دیکھنا ہوگا ملزم آرمڈفورسز سے تعلق رکھتا ہے یا سویلین ہے،امریکی عدالت نے ملزم کے سٹیٹس کو دیکھ کر ٹراءل کا فیصلہ دیا، جسٹس مسرت ہلالی نے کہاکہ گٹھ جوڑ ثابت ہونے پر سویلین کا ٹراءل ہو سکتا ہے،جسٹس محمد علی مظہر نے کہاکہ آپ نے کہا فوج عدالتی اختیارات استعمال نہیں کر سکتی، اب کہہ رہے ہیں فوج اپنے لوگوں تک یہ اختیار استعمال کر سکتی ہے، سویلین پر نہیں،عزیر بھنڈاری نے کہا کہ آرٹیکل8(3)کے تحت آرمڈ فورسز کے لوگوں کو بنیادی حقوق حاصل نہیں،جسٹس منیب اختر نے تفصیلی فیصلے میں یہی بات کی۔
عمران خان کی دوستوں سے ملاقات نہ کروانے پر توہین عدالت؛ درخواستوں کا ریکارڈ طلب
مزید :.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Pakistan
پڑھیں:
موضوع: کربلا میں خواتین کا کردار اور ھم
دین و دنیا پروگرام اسلام ٹائمز کی ویب سائٹ پر ہر جمعہ نشر کیا جاتا ہے، اس پروگرام میں مختلف دینی و مذہبی موضوعات کو خصوصاً امام و رہبر کی نگاہ سے، مختلف ماہرین کے ساتھ گفتگو کی صورت میں پیش کیا جاتا ہے۔ ناظرین کی قیمتی آراء اور مفید مشوروں کا انتظار رہتا ہے۔ متعلقہ فائیلیں پروگرام: دین و دنیا
موضوع: کربلا میں خواتین کا کردار اور ھم
مہمان: عالمہ رافعہ منیر
میزبان : مولانا سید تقی زیدی
پیش کار و مدیر: سید انجم رضا
پیشکش: آئی ٹائمز ٹی وی اسلام ٹائمز اردو
خلاصہ گفتگو:
کربلا میں عشق کے دو بلند ترین مینار ہیں: ایک سرورِ شہداء امام حسین علیہ السلام کی قربانی کا جلوہ، اور دوسرا اس آفتابِ عصمت کی تابناکی، جس کا نام حضرت زینب سلام اللہ علیہا ہے۔ یہیں پر خواتین کا کردار تاریخ کی سب سے درخشاں داستان بن کر ابھرتا ہے۔ بی بی زینبؑ نے نہ صرف اپنی آنکھوں سے بھائی کے لہو کا منظر دیکھا، بلکہ اپنی گفتار اور استقامت سے عاشورہ کی نہضت کو ابدی زندگی عطا کی، یزید کی باطل حکومت کو جوابِ شافی دیا اور اسے اخلاقی شکست کا مزہ چکھایا۔ کربلائی خواتین نے اپنے شوہروں، بھائیوں اور بچوں کو حوصلہ دیا کہ وہ اپنے امام کی راہ میں سبقت کریں؛ چنانچہ چھوٹے سے چھوٹے طفلِ شیرخوار نے بھی لبِ تشنہ سے قربانی کا یہ پیغام جگا دیا کہ عشقِ حسینی میں کسی کو کسی کی پروا نہیں، بس جلوۂ حق ہے اور اس کی خاطر ہر چیز فدا۔
یہ انفرادی جہاد ہی نہیں، بلکہ خواتین کا اجتماعی کردار بھی معاشرے کی تشکیل میں ناقابلِ فراموش حیثیت رکھتا ہے۔ شہیدِ امت، رہبر معظم انقلاب نے بارہا اس حقیقت کو اجاگر کیا ہے کہ معاشرہ خواتین کے کردار کے بغیر اپنی پختگی اور تکمیل نہیں پا سکتا۔ لہٰذا خواتین کو اپنے ہر شعبۂ زندگی، خاص طور پر علم و تعلیم کے میدان میں کمال حاصل کرنا چاہیے، کیونکہ بعض ذمہ داریاں ایسی ہیں جنہیں مرد انجام نہیں دے سکتے، مگر ایک باہوش، باصلاحیت اور تربیت یافتہ عورت انہیں بہترین انداز میں سرانجام دے سکتی ہے۔ یہی وہ راہ ہے جو کربلا کی درسگاہ سے نکلتی ہے اور ہر دور کی خواتین کو اپنی داخلی قوت کو پہچاننے اور اپنے معاشرتی فرائض کو پورا کرنے کا پیغام دیتی ہے۔