Juraat:
2026-07-24@09:27:32 GMT

اسلامی نظریاتی کونسل کی گولڈن جوبلی

اشاعت کی تاریخ: 27th, February 2025 GMT

اسلامی نظریاتی کونسل کی گولڈن جوبلی

میری بات/روہیل اکبر

پاکستان اسلام کے نام پر بننے والا دنیا میں پہلا ملک ہے جس کی بنیاد ہی کلمہ طیبہ تھی، جب لے کے رہیں گے پاکستان کا نعرہ عروج پر تھا تو اس وقت پاکستان کا مطلب کیا لاالہ اللہ کی صدائیں بھی ہر طرف سے آرہی تھی، ملک بن گیا اور ہم بگڑنا شروع ہوگئے۔ ایک طرف تعلیم کی کمی تھی تو دوسری طرف مذہب سے دوری تھی اور رہی سہی کسر اشرافیہ کی لوٹ مار اور کرپشن نے پوری کردی جس کے بعد ہم ایک جذباتی قوم بن گئے جس نے جدھر لگایا اسی طرف چل پڑے اور تو اور ہم تفرقہ بازی میں اس قدر آگے نکل گئے کہ پھر کوئی مسجد محفوظ رہی اور نہ ہی کوئی امام بارگاہ اپنے جسم پر بارود باندھ کر دھماکہ کرنے والا پہلے نعرہ تکبیر لگاتا اور پھردرجنوں نمازیوں کو شہید کردیتا۔ اقلیت ہمیں آپس میں لڑتے ہوئے دیکھ کر سہم گئی ہم نے بغیر کسی تحقیق کے اپنی عدالت لگائی اور پھر لوگوں کو مارنا شروع کردیا اس خطرناک صورتحال سے نمٹنے کے لیے جہاں ملک کے بہت سے اداروں نے اپنا کردار ادا کیا وہاں اسلامی نظریاتی کونسل نے بھی نہ صرف بہت محنت کی بلکہ ہماری بیوقوفیوں کی وجہ سے دیگر ممالک کے ساتھ جو ہمارے تعلقات خراب ہورہے تھے اسے بھی معمول پر لانے میں اہم کردار ادا کیا ۔سیالکوٹ واقعہ کے بعد سری لنکا کے ساتھ اسلامی نظریاتی کونسل نے جس خوش اسلوبی کے ساتھ معاملات کو حل کیا وہ بھی ایک مثال ہے اور اسلامی نظریاتی کونسل کے اس وقت چیئرمین علامہ راغب نعیمی صاحب ہیںجو نہ صرف اسلامی معاملات بلکہ سیاسی معاملات کو بھی پوری طرح سمجھتے ہیں انکے والد صاحب علامہ سرفراز نعیمی شہید صاحب بھی پورے عالم دین تھے۔ ان کے مدرسہ جامعہ نعیمیہ سے فارغ التحصیل سینکڑوں علماء کرام اس وقت نہ صرف پاکستان میں بلکہ دنیا بھر کے 192ممالک میں اسلام کے سفیر بن کر محبت و امن کا درس دے رہے ہیں اسلامی نظریاتی کونسل کو بنے ہوئے 50سال سے زائد ہو گئے ہیں اور اب اسکی گولڈن جوبلی منائی جارہی ہے میں سمجھتا ہوں کہ علامہ راغب نعیمی صاحب سمیت اس کونسل کے تمام اراکین بھی اپنی گولڈن عمر میں ہیں اور اسی حوالہ سے انکی گولڈن جوبلی کی تقریبات کا آغاز بھی اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور سے ہوگیا ہے اسلامیہ یونیورسٹی بہاول پورجو درخشندہ روایات کی امین ہے اور اس میں ابتدا ہی سے مسلم اور غیر مسلم طلبہ اور ملازمین کام کرتے آ رہے ہیںاس یونیورسٹی کو سابق چانسلر ڈاکٹر اطہر محبوب نے چارچاند لگائے رکھے اور اپنے دور میں اسے صف اول کی یونیورسٹی بنا دیا اب ڈاکٹر کامران کی سربراہی میں یہ یہ یونیورسٹی اپنے تاریخی سفر پر گامزن ہے اس جامعہ میں طلبہ کی تربیت کے ساتھ ساتھ معاشرتی مسائل کے حل کے لیے بھی کامیاب کوششیں کی جاتی رہی ہیں۔گذشتہ روز پروفیسر ڈاکٹر شیخ شفیق الرحمن ڈین فیکلٹی آف اسلامک اینڈ عریبک اسٹڈیز ، ڈاکٹر سجیلہ کوثرچیئر پرسن شعبہ ادیان عالم و بین المذاہب ہم آہنگی اور ان کی ٹیم نے اسلامی نظریاتی کونسل کی پہلی قومی کانفرنس کا انعقاد کیااس کانفرنس کا مرکزی موضوع ”پاکستان میں بین المذاہب و بین المسالک ہم آہنگی کے فروغ میں اسلامی نظریاتی کونسل کا کردار ”تھا۔ اس تقریب میں علامہ ڈاکٹر محمد راغب حسین نعیمی چیئر مین اسلامی نظریاتی کونسل، ملک اللہ بخش کلیار ممبر اسلامی نظریاتی کونسل، ڈاکٹر انعام اللہ ڈائریکٹر جنرل ریسرچ اسلامی نظریاتی کونسل اور مفتی غلام ماجد سینئیر ریسرچ آفیسر اسلامی نظریاتی کونسل نے بطور مہمان شرکت کی اس تقریب میں پروفیسر ڈاکٹر ضیاء الرحمن، ڈاکٹر محمد خبیب، ڈاکٹر محمد سعید شیخ، پاسٹرمنور شہزاد عمر، نصیر احمد ناصر،علی گیلانی، عدیل چنڑ سمیت طلبہ، اساتذہ اور ملک کے معتبر ترین مسلم اور مسیحی اسکالرزسمیت یونیورسٹیز و کالجز کے پروفیسروں کے ساتھ ساتھ علاقہ کے باثر لوگوں نے بھی شرکت کی یہ کانفرنس جنوبی پنجاب کے لیے ایک تاریخی حیثیت کی حامل رہی ہے۔ علامہ راغب حسین نعیمی کونسل کے بارے میں بتایا کہ ہم ریاست مدینہ کے آئین یعنی مواخات مدینہ اور میثاق مدینہ کی رو سے وطن عزیز کی پالیسیوں کو مرتب کرنے کی سفارشات پیش کرتے ہیں اور ہمیں مذہبی طور پر اپنے اپنے دائرے میں رہتے ہوئے متحد ہونا ہے تاکہ لا مذہبیت سے معاشرے کو بچایا جا سکے۔ کونسل اب مختلف قانون ساز اداروں، قومی و بین الاقوامی جامعات اور تحقیقی مراکز سے رابطے میں آئے گی تاکہ تحقیق کے کام میں آسانی ہو ۔پروفیسر ڈاکٹر شیخ شفیق الرحمن نے صدارتی خطبہ میں پروفیسر ڈاکٹر محمد کامران کی نیابت کرتے ہوئے مہمانوں کا شکریہ ادا کیا شعبہ ادیان عالم کی ساری ٹیم کی کاوشوں کو سراہااور بین المذاہب ہم آہنگی کے حوالے سے اسلامیہ یونیورسٹی اور ریاست بہاول پور کی کاوشوں کو واضح کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ یہ کانفرنس ایک تاریخی کانفرنس ہے جو اسلامی نظریاتی کونسل کی گولڈن جوبلی تقریبات کے حوالے پاکستان بھر میں منعقد ہونے والا پہلا پروگرام ہے۔ ڈاکٹر سجیلہ کوثر نے اپنے شعبہ ادیان عالم و بین المذاہب ہم آہنگی کی کارکردگی کا تفصیلی ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ ہمارے اس شعبہ کو بنے ہوئے صرف 2سال ہوئے ہیں اور اس دوران ہم نے متعدد سیمینار، بین الاقوامی کانفرنس اور انٹرفیتھ ڈائیلاگ بھی کروائے ہیں شعبہ کا مقصد معاشرے میں اس پیغام کو عام کرنا ہے کہ ہم سب مل جل کر ایسا معاشرہ تخلیق کریں جو امن و آتشی کا گہوارہ ہواسلامی نظریاتی کونسل کے ڈی جی ڈاکٹر انعام االلہ نے بتایا کہ کونسل نے اپنی حیثیت اور آئین پاکستان کے دائرے میں اقلیتی برادری کے حقوق کے تحفظ کرنے کی بھر پور کوششیں کی ہیں جس میں ہم سرخرو ہوئے اور اس معاملے میں یہ خیال بدرجہ اتم رکھا جاتا ہے کہ تمام سفارشات قرآن و سنت کے عین مطابق ہوں اس طرح کونسل مسلمانوں اور غیر مسلم برادری کے درمیان ایک پل کا کردار ادا کر رہی ہے۔مسیحی برادری کی نیابت کرتے ہوئے پاسٹر منور شہزاد عمر نے بین المذاہب ہم آہنگی کے حوالہ سے شعبہ ادیان عالم اور اسلامی نظریاتی کونسل کے کردار کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا کہ ہمیں مل جل کر ایک ایسا معاشرہ تخلیق کرنا ہے جہاں امن ہماری معاشرتی خوشحالی کا ضامن ہو۔
اگر ہم اسلامی نظریاتی کونسل کی بات کریں تو یہ پاکستان کا ایک آئینی ادارہ ہے جوایوب خان کے دور حکومت میں اسلامی جمہوریہ پاکستان 1962 کے آئین کے آرٹیکل 199 کے تحت یکم اگست 1962 کو اسلامی نظریاتی کونسل کی مشاورتی کونسل کے طور پر قائم کیا گیا تھا جس نے کونسل کی تشکیل (آرٹیکل 199 ـ 203) اس کے افعال (آرٹیکل 204) اسلامی تحقیق کے قواعد و ضوابط (204) اسلامی جمہوریہ پاکستان کے آئین کے آرٹیکل 199 کے تحت قائم کیا تھاجسکے بعد اسلامی نظریاتی کونسل کو 1973 کے آئین کے آرٹیکل 228 میں اسلامی نظریاتی کونسل کے طور پر دوبارہفعال کیا گیا تھا کونسل کا دفتر لاہور میں واقع تھا جہاں یہ 26 ستمبر 1977 تک کام ہوتا رہا پھر ستمبر 1995
کو کونسل اپنی عمارت میں منتقل ہو گئی 1962 سے اب تک کونسل نے 190 اجلاس منعقد کیے اور پاکستان کے قوانین پر نظر ثانی کی، متعدد قانون سازی کی سفارش کی اور 90 سے زائد رپورٹیں پیش کیں یہ کونسل حکومت اور پارلیمنٹ کو اسلامی مسائل پر قانونی مشورہ دینے کا ذمہ دار ہے کونسل کے مندرجہ ذیل کام ہیں پارلیمنٹ اور صوبائی اسمبلیوں کو قرآن و سنت کے مطابق قوانین کی سفارش کرنا،پارلیمنٹ، حکومت پاکستان، صدر پاکستان، یا گورنر کو کونسل کو بھیجے گئے کسی بھی سوال پر مشورہ دینا کہ آیا کوئی مجوزہ قانون اسلام کے احکام کے خلاف ہے یا نہیں،موجودہ قوانین کو اسلامی احکام کے مطابق لانے کے لیے سفارشات پیش کرنا،پارلیمنٹ اور صوبائی اسمبلیوں کے لیے رہنمائی مرتب کرنا کونسل ایک سالانہ عبوری رپورٹ پیش کرنے کی بھی ذمہ دار ہے جس پر پارلیمنٹ اور صوبائی اسمبلیوں میں اس کی وصولی کے چھ ماہ کے اندر بحث کی جاتی ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Juraat

کلیدی لفظ: اسلامی نظریاتی کونسل کی اسلامی نظریاتی کونسل کے بین المذاہب ہم آہنگی شعبہ ادیان عالم پروفیسر ڈاکٹر یہ یونیورسٹی ڈاکٹر محمد کرتے ہوئے کونسل نے ہیں اور کے ساتھ کے آئین اور اس کے لیے

پڑھیں:

اسلامی اقدار اور جدید دور

آج کی دنیا اپنی رفتار، اپنی چمک اور اپنی پیچیدگی کے باعث پہلے سے کہیں زیادہ متنوع ہو چکی ہے۔ ٹیکنالوجی نے فاصلے سمٹائے ہیں، معلومات کی فراوانی پیدا کی ہے، اور زندگی کے بے شمار شعبوں میں سہولتیں فراہم کی ہیں۔ مگر اسی کے ساتھ انسان کے اندرونی سکون، اخلاقی توازن، خاندانی استحکام اور روحانی وابستگی میں ایک واضح کمی بھی محسوس ہوتی ہے۔ یہ وہ خلا ہے جسے صرف مادی ترقی پر نہیں کر سکتی۔ اس خلا کو وہ اقدار پر کرتی ہیں جو انسان کو اس کی اصل پہچان، اس کے مقصدِ حیات اور اس کی اخلاقی ذمہ داریوں سے جوڑتی ہیں، اور اسلامی اقدار اسی ضرورت کا جواب ہیں۔
اسلام محض چند عبادات یا رسومات کا نام نہیں، بلکہ ایک جامع نظامِ زندگی ہے۔ یہ انسان کے عقیدے کو بھی درست کرتا ہے، اس کے اخلاق کو بھی سنوارتا ہے، اس کے معاملات کو بھی راہ دکھاتا ہے، اور اس کے اجتماعی رویوں کو بھی متوازن بناتا ہے۔ سچائی، امانت، عدل، حیا، رحم، خدمت، صبر، شکر اور ذمہ داری جیسے اصول اسلام کی روح ہیں۔ یہ اصول کسی ایک زمانے، کسی ایک تہذیب یا کسی ایک معاشرے تک محدود نہیں، بلکہ ہر دور کے انسان کے لیے رہنمائی فراہم کرتے ہیں۔ جدید دور میں، جب مفاد پرستی، خود غرضی، دکھاوا، بے صبری اور اخلاقی بے راہ روی عام ہوتی جا رہی ہے، اسلامی اقدار پہلے سے زیادہ اہم ہو گئی ہیں۔
آج انسان بظاہر زیادہ باخبر ہے، مگر اندر سے زیادہ بے چین بھی ہے۔ اس کے پاس ذرائع ابلاغ کی بے پناہ طاقت ہے، مگر سچائی کی کمی ہے۔ اس کے پاس رابطے کے لاتعداد وسیلے ہیں، مگر دلوں میں دوریاں بڑھتی جا رہی ہیں۔ اس کے پاس سہولتیں ہیں، مگر اطمینان کم ہے۔ اس کے پاس آزادی کے نعرے ہیں، مگر ذمہ داری کا احساس کمزور پڑتا جا رہا ہے۔ ایسے ماحول میں اسلام انسان کو توازن دیتا ہے۔ وہ اسے یہ سکھاتا ہے کہ آزادی ہو مگر اخلاق کے ساتھ، ترقی ہو مگر انصاف کے ساتھ، علم ہو مگر حکمت کے ساتھ، اور طاقت ہو مگر جواب دہی کے ساتھ۔
اسلامی اقدار کی خوبصورتی یہ ہے کہ وہ انسان کو زمانے سے الگ نہیں کرتیں بلکہ زمانے کے اندر رہتے ہوئے بہتر انسان بننے کی تربیت دیتی ہیں۔ اسلام عقل کے استعمال کو سراہتا ہے، علم کے حصول کو عبادت کے درجے تک پہنچاتا ہے، تحقیق کی حوصلہ افزائی کرتا ہے، اور انسان کو غور و فکر کی دعوت دیتا ہے۔ اس لحاظ سے اسلام جدیدیت کا مخالف نہیں، بلکہ ایسی جدیدیت کا حامی ہے جو انسان کی فطرت کے ساتھ ہم آہنگ ہو۔ اگر جدید دور سے مراد سائنس، ٹیکنالوجی، مواصلات، تحقیق اور سہولتوں میں ترقی ہے تو اسلام ان سب سے متصادم نہیں۔ البتہ اگر جدید دور سے مراد اخلاقی نسبیت، خاندانی نظام کی تباہی، مادہ پرستی اور بے مقصد آزادی ہے تو اسلام اس پر خاموش نہیں رہ سکتا۔
مسلمان معاشروں کا اصل مسئلہ یہ نہیں کہ اسلام آج کے تقاضوں کا ساتھ نہیں دے سکتا، بلکہ مسئلہ یہ ہے کہ ہم نے اسلام کو اپنی اجتماعی زندگی میں مکمل طور پر نافذ نہیں کیا۔ ہم نماز کو تو اختیار کرتے ہیں مگر معاملات میں سچائی کمزور رہتی ہے۔ ہم مذہبی شناخت کو تو اہم سمجھتے ہیں مگر سماجی انصاف کو نظر انداز کر دیتے ہیں۔ ہم دین کی بات تو کرتے ہیں مگر اس کی اخلاقی روح کو اپنی زندگیوں میں جگہ نہیں دیتے۔ نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ ہماری ظاہری وابستگی تو باقی رہتی ہے، لیکن اجتماعی کردار متاثر ہوتا ہے۔ جدید دنیا میں اصل ضرورت اسی کردار کی ہے جو دیانت، انصاف، نرمی، امانت اور انسان دوستی پر قائم ہو۔
نوجوان نسل اس بحث کا سب سے اہم حصہ ہے۔ آج کا نوجوان ایک ایسے ماحول میں زندگی گزار رہا ہے جہاں ہر طرف مسابقت ہے، دبا ہے، اشتہارات ہیں، فیشن ہے، مواد کی بھرمار ہے، اور شناخت کے بحران ہیں۔ اس صورتحال میں اگر اسے کوئی مضبوط اخلاقی بنیاد نہ دی جائے تو وہ منتشر ہو سکتا ہے۔ اسلامی اقدار نوجوان کو جڑ بھی دیتی ہیں اور سمت بھی۔ وہ اسے بتاتی ہیں کہ کامیابی صرف کیریئر بنانے کا نام نہیں، بلکہ اچھا انسان بننے کا نام بھی ہے۔ وہ اسے یہ شعور دیتی ہیں کہ عزت صرف شہرت میں نہیں، کردار میں بھی ہوتی ہے؛ اور ترقی صرف تنخواہ یا معیارِ زندگی میں نہیں، بلکہ اخلاقی بلندی میں بھی ہوتی ہے۔
خاندانی نظام کے لیے بھی اسلامی اقدار ناگزیر ہیں۔ جدید دنیا میں خاندان تیزی سے کمزور ہو رہا ہے۔ والدین اور بچوں کے درمیان فاصلہ، میاں بیوی کے درمیان عدم برداشت، بزرگوں کی بے توقیری، اور رشتوں میں مفاد پرستی ایک عام مسئلہ بنتی جا رہی ہے۔ اسلام خاندان کو محض ایک سماجی اکائی نہیں سمجھتا بلکہ اسے تربیت، محبت، قربانی اور سکون کا مرکز قرار دیتا ہے۔ اگر گھر کے اندر اسلامی اخلاق زندہ ہوں تو معاشرہ بھی سنورتا ہے۔ کیونکہ معاشرہ گھروں ہی سے بنتا ہے، اور گھروں کی اصلاح کے بغیر کسی بڑی اجتماعی تبدیلی کا خواب ادھورا رہتا ہے۔
میڈیا اور سوشل میڈیا کے اس دور میں بھی اسلامی اقدار کی ضرورت مزید بڑھ گئی ہے۔ جھوٹی خبروں، بے بنیاد پروپیگنڈے، کردار کشی، سنسنی، اور اخلاقی بے احتیاطی نے ابلاغ کو ایک خطرناک میدان بنا دیا ہے۔ صحافت اگر سچائی، امانت اور ذمہ داری سے خالی ہو جائے تو وہ اصلاح کے بجائے فساد کا ذریعہ بن جاتی ہے۔ اسلامی تعلیمات میڈیا کے لیے بھی ایک واضح ضابطہ فراہم کرتی ہیں: خبر کی تصدیق، زبان کی پاکیزگی، نیت کی درستگی، اور اثرات کی ذمہ داری۔ یہی اصول جدید صحافت کو معتبر بناتے ہیں۔
ایک اور اہم پہلو یہ ہے کہ اسلامی اقدار فرد کو صرف اخلاقی ضابطہ نہیں دیتیں بلکہ اسے اندرونی وقار بھی عطا کرتی ہیں۔ جدید انسان بسا اوقات دوسروں کی نظر میں اچھا دکھنے کے لیے جیتا ہے، مگر اپنی روح کے ساتھ سچا نہیں ہوتا۔ اسلام دکھاوے کے بجائے اخلاص سکھاتا ہے۔ یہ انسان کو یاد دلاتا ہے کہ اصل کامیابی لوگوں کی داد نہیں، بلکہ اللہ کی رضا ہے۔ یہی احساس انسان کو منافقت سے بچاتا ہے، اس کی نیت کو صاف کرتا ہے، اور اس کے عمل کو مضبوط بناتا ہے۔
معاشی زندگی میں بھی اسلامی اقدار کی حیثیت غیر معمولی ہے۔ جدید معیشت نے بڑے پیمانے پر ترقی تو کی ہے، مگر ساتھ ہی استحصال، سود، دھوکہ، ذخیرہ اندوزی، ناپ تول میں کمی اور مالی ناانصافی بھی پیدا کی ہے۔ اسلام معاشی سرگرمیوں کو جائز، صاف، شفاف اور انسانی احترام کے دائرے میں رکھتا ہے۔ وہ دولت کے انبار لگانے سے زیادہ جائز کمائی، عدل اور سماجی بھلائی پر زور دیتا ہے۔ اگر اس اصول کو اپنایا جائے تو معیشت محض منافع کا کھیل نہیں رہتی بلکہ اجتماعی فلاح کا ذریعہ بن جاتی ہے۔
درحقیقت اسلامی اقدار اور جدید دور میں کوئی حقیقی تضاد نہیں۔ تضاد اس وقت پیدا ہوتا ہے جب ہم جدیدیت کو اخلاق سے جدا کر دیں یا دین کو عملی زندگی سے الگ سمجھ لیں۔ اسلام نہ زمانے سے فرار سکھاتا ہے، نہ ترقی سے نفرت۔ وہ انسان کو یہ سکھاتا ہے کہ زمانے میں رہو، مگر زمانے کے غلام نہ بنو؛ ترقی حاصل کرو، مگر اپنی روح نہ کھو؛ دنیا میں کامیاب ہو، مگر آخرت کو نہ بھولو۔ یہی وہ توازن ہے جس کی آج کے انسان کو سب سے زیادہ ضرورت ہے۔
آج کے دور میں سب سے بڑی اصلاح فرد کے اندر سے شروع ہوتی ہے۔ اگر نیت درست ہو، کردار مضبوط ہو، اور اقدار زندہ ہوں تو جدید دور ایک خطرہ نہیں رہتا بلکہ ایک موقع بن جاتا ہے، لیکن یہ سب اسی وقت ممکن ہے جب انسان کے اندر اخلاقی شعور اور دینی وابستگی موجود ہو۔ اسلامی اقدار اسی شعور کو بیدار کرتی ہیں۔
لہذا ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم اسلامی اقدار کو محض تقریروں، کتابوں اور نعروں تک محدود نہ رکھیں، بلکہ انہیں اپنی روزمرہ زندگی، تعلیمی اداروں، میڈیا، سیاست، تجارت اور گھریلو نظام میں زندہ کریں۔ اسلام یہی کچھ دیتا ہے۔ اور اگر ہم نے اس حقیقت کو سمجھ لیا تو پھر جدید دنیا میں بھی ہماری شناخت کمزور نہیں پڑے گی، بلکہ اور زیادہ روشن ہو گی۔

متعلقہ مضامین

  • اسلامی اقدار اور جدید دور
  • پاکستان کا بنگلہ دیش کے ساتھ تعلیمی تعاون بڑھانے کا عزم، ڈھاکہ یونیورسٹی کے شعبہ اردو میں کمپیوٹر لیب قائم
  • سلامتی کونسل میں پاکستان نے بھارت کو لاجواب کر دیا
  • بھارت امن دشمن ہے، جموں و کشمیر نہ اُس کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ ہی داخلی معاملہ، پاکستان
  • اقوام متحدہ میں پاکستان کا امن اور مذاکرات پر زور، بھارت پر عالمی قوانین کی خلاف ورزی کا الزام
  • سینیٹ قائمہ کمیٹی کا بڑا فیصلہ، پرنٹ میڈیا کے معاملات صرف پریس کونسل میں سنے جائیں گے
  • نذیر احمد جنجوعہ قائم مقام سیکرٹری جنرل جماعت اسلامی پاکستان مقرر
  • جماعت اسلامی کے سیکریٹری جنرل امیرالعظیم انتقال کرگئے
  • کاوا مینز والی بال چیمپئن شپ: قومی ٹیم نے دوسرے روز بنگلا دیش کو شکست دے دی
  • پاکستان مشرق وسطیٰ میں امن و استحکام کیلئے فعال سفارتی کردار جاری رکھے ہوئے ہے، اسحاق ڈار