وزیراعظم محمد شہباز شریف کا جنگلی حیات کے عالمی دن کے موقع پر پیغام
اشاعت کی تاریخ: 3rd, March 2025 GMT
وزیراعظم محمد شہباز شریف کا جنگلی حیات کے عالمی دن 2025 کے موقع پر پیغام (3 مارچ 2025) , جنگلی حیات کا عالمی دن انسانیت اور فطرت کے درمیان تعلق کی ایک یاد دہانی کے طور پر منایا جاتا ہے۔ یہ دن ہمیں یہ بھی یاد دلاتا ہے کی ہم غیر معمولی جنگلی حیات کے تحفظ کے لیے اپنی ذمہ داری پر غور کریں جو ہماری زندگیوں اور ماحولیاتی نظام کو تقویت بخشتی ہے۔ ہمالیہ کے برفانی چیتے سے لے کر خطرے سے دوچار دریائے سندھ کی ڈولفن اور بحیرہ عرب کی شاندار وہیل شارک تک، پاکستان کو مسحور کن حیاتیاتی تنوع سے نوازا گیا ہے۔ یہ انواع صرف ہمارے قدرتی ورثے کا حصہ نہیں ہیں بلکہ یہ جاندار ماحولیاتی توازن کو برقرار رکھنے اور ہمارے ماحول اور معیشت کو برقرار رکھنے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ اس سال جنگلی حیات کے عالمی دن کا تھیم ’وائلڈ لائف کنزرویشن فنانس: لوگوں اور اپنے سیارے زمین میں سرمایہ کاری‘ صحت مند ماحولیاتی نظام، پائیدار معیشتوں اور انسانی بہبود کو برقرار رکھنے میں جنگلی حیات کے ناگزیر کردار کو تسلیم کرتے ہوئے جنگلی حیات کی نسلوں کے تحفظ کے لیے جدید مالیاتی طریقہ کار کی اہم ضرورت کو اجاگر کرتا ہے۔ اپنے لوگوں اور کرہ ارض دونوں کے لیے پائیدار مستقبل میں سرمایہ کاری کرتے ہوئے، ہمارا گرین پاکستان پروگرام مقامی کمیونٹیز کو معاشی مواقع فراہم کرتا ہے جو غیر قانونی شکار اور رہائش گاہوں کی تباہی کو روکتا ہے۔ خطرے سے دوچار جنگلی جانوروں کے حوالے سے بین الاقوامی تجارت کے کنونشن (CITES) پر دستخط کرنے سے جنگلی حیات کی غیر قانونی تجارت کے خلاف قانون سازی کو تقویت ملتی ہے۔ مزید برآں، اسلام آباد وائلڈ لائف مینجمنٹ بورڈ (IWMB)، وزارت موسمیاتی تبدیلی اور ماحولیاتی رابطہ کاری کے تحت، زخمی، یتیم اور جبر و زیادتی کا شکار جانوروں کی بحالی کے لیے وائلڈ لائف ریسکیو سینٹر قائم کیا گیا ہے، جس کا مقصد انہیں جنگلی میں دوبارہ شامل کرنا یا ان کی مخصوص ضروریات کو پورا کرنے والی پناہ گاہوں میں جگہ دینا ہے۔ ہماری حکومت مقامی کمیونٹیز، ماحول کے تحفظ کرنے والوں اور بین الاقوامی شراکت داروں کے ساتھ مل کر حیاتیاتی تنوع کی اہمیت کے بارے میں بیداری پیدا کرنے کی کوششوں کو مضبوط بنا رہی ہے۔ آئیے پاکستان کی خوبصورت جنگلی حیات کی بہتری کے لئے مل کر کام کریں اور عالمی برادری کے ایک فرض شناس رکن کے طور پر اپنی ذمہ داری پوری کریں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: جنگلی حیات کے عالمی دن کے لیے
پڑھیں:
جاپان میں جنگلی ریچھ نے حملے کر کے چار افراد کو زخمی کر دیا
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ ۔ DW اردو۔ 02 جون 2026ء) چڑھتے ہوئے سورج کی سرزمین کہلانے والی مشرق بعید کی روایت پسند بادشاہت جاپان کے دارالحکومت ٹوکیو سے موصولہ رپورٹوں کے مطابق پولیس حکام کے ساتھ ساتھ میڈیا رپورٹوں میں بھی بتایا گیا کہ شمالی جاپان کے شہر فوکوشیما میں ایک جنگلی ریچھ نے متعدد حملے کر کے منگل کے روز مجموعی طور پر چار شہریوں کو زخمی کر دیا۔
سویڈن میں بھورے ریچھ کے شکار پر تحفظ پسندوں کو گہری تشویش
فوکوشیما جاپان کے جس پریفیکچر یا انتظامی علاقے میں واقع ہے، وہاں کی پولیس کی طرف سے جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا، ''ریچھ کے حملوں کی وجہ سے انسانوں کے زخمی ہونے کے تازہ واقعات میں، جو فوکوشیما شہر میں پیش آئے، چار افراد زخمی ہو گئے ہیں۔
(جاری ہے)
‘‘
کینیڈا کے قطبی ریچھ معدومیت کے خطرے سے دوچار
ریچھ نے حملے دو فیکٹریوں اور ایک رہائشی علاقے میں کیےاس مقابلتاﹰ عظیم الجثہ جنگی جانور نے یہ حملے دو فیکٹریوں میں اور ایک رہائشی علاقے میں کیے۔
مقامی پولیس کے سربراہ اور فائر بریگیڈ کے عملے کا بیانات کا حوالہ دیتے ہوئے جاپانی میڈیا نے بتایا کہ اس ریچھ کو پہلے موٹر گاڑیوں کے پرزے بنانے والی ایک فیکٹری میں دیکھا گیا تھا، جس کے بعد پولیس کو کی گئی ایک ایمرجنسی کال میں اطلاع دی گئی تھی کہ اس ریچھ کے کاٹنے سے ''ملازمین زخمی‘‘ ہو گئے تھے۔ناروے: سیاح کو زخمی کرنے والے قطبی ریچھ کو مار دیا گیا
اس واقعے کے بعد یہ جنگلی ریچھ اس فیکٹری سے نکل کر ایک رہائشی علاقے کی طرف بھاگا اور اس کے بعد ایک ایسی دوسری فیکٹری کی طرف جہاں الیکٹرانک مصنوعات تیار کی جاتی ہیں۔
یہاں بھی یہ ریچھ دو افراد کے زخمی ہونے کی وجہ بنا۔ملکی میڈیا کے مطابق ان تین حملوں میں زخمی ہونے والے چار افراد میں سے ایک شدید زخمی ہوا ہے جبکہ باقی تین افراد کو کوئی شدید زخم نہیں آئے۔
گزشتہ برس ریچھوں کے ہاتھوں ریکارڈ حد تک زیادہ 13 ہلاکتیںجاپان میں گزشتہ برس کے اعداد و شمار کے مطابق 2025 میں ملک بھر میں ریچھوں کے انسانوں پر کیے گئے حملوں میں 13 افراد ہلاک ہو گئے تھے، جو اس نوعیت کی انسانی ہلاکتوں کی ریکارڈ حد تک زیادہ سالانہ تعداد تھی۔
ایسے حملے روایتی طور پر اس وقت زیادہ دیکھنے میں آتے ہیں، جب شدید نوعیت کے موسم سرما کے دوران کافی عرصے تک اپنی مقابلتاﹰ گرم اور انسانی آنکھوں سے پوشیدہ پناہ گاہوں میں قیام کے بعد ایسے جنگلی جانور باہر نکلتے ہیں اور بہت بھوکے ہونے کے باعث خوراک کی تلاش کے دوران انسانوں پر حملے بھی کر دیتے ہیں۔
جفتی کی کوشش میں ریچھ نے ساتھی کی جان لے لی
سرکاری ڈیٹا کے مطابق اس سال مارچ میں ختم ہونے والے جاپان کے گزشتہ مالی سال کے دوران پورے ملک میں جنگلی ریچھوں کے ان کے قدرتی ماحول سے باہر کے علاقوں میں دیکھے جانے کے واقعات کی مجموعی تعداد 50 ہزار سے زائد رہی تھی، جو ایک نیا ریکارڈ تھا۔
اوساکا کے شہری کا مقامی بلدیہ کے لیے غیر معمولی عطیہ، اکیس کلوگرام سونا
اس سے قبل اس سالانہ تعداد کا ریکارڈ دو سال قبل مالی سال 2023 میں قائم ہوا تھا۔ لیکن 2025 میں جنگلی ریچھوں کے شہری یا دیہی علاقوں میں نظر آنے کے واقعات دو گنا سے بھی زیادہ ہو گئے تھے۔
’برفانی انسان‘ دراصل ریچھ کی ایک قسم ہے، تحقیق
ماحولیاتی تبدیلیوں سے متعلق جاپان کی وازرات کے مطابق ملک میں جنگلی ریچھوں کے حملوں کے واقعات میں گزشتہ جان لیوا واقعہ اسی سال اپریل میں پیش آیا تھا، جس میں ایک ریچھ نے حملہ کر کے ایک شخض کو ہلاک اور پانچ دیگر کو زخمی کر دیا تھا۔
جاپانی حکومت کی طرف سے ملک میں جنگلی ریچھوں کی مجموعی آبادی کا اندازہ 57,800 کے قریب لگایا جاتا ہے۔
ادارت: جاوید اختر