امریکہ نے یوکرین کو سیٹلائٹ تصاویر کی فراہمی بھی معطل کر دی، نیویارک ٹائمز
اشاعت کی تاریخ: 8th, March 2025 GMT
کولوریڈو میں موجود میکسار ٹیکنالوجیز، جس نے پینٹاگون پروگرام کے ذریعے یوکرین کی سیٹلائٹ امیجری فراہم کی ہے، نے ایک بیان میں تصویر شیئرنگ کی معطلی کی تصدیق کی۔ اسلام ٹائمز۔ امریکی اخبار نیویارک ٹائمز نے پینٹاگون کے ایک اہلکار کے حوالے سے رپورٹ دی ہے کہ امریکہ نے یوکرین کو سیٹلائٹ تصاویر کی فراہمی معطل کر دی ہے۔ ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے روس کے ساتھ امن مذاکرات کیلئے کیف پر دباؤ ڈالنے کے اقدامات کے سلسلے میں یہ تازہ ترین اقدام ہے۔ رپورٹ کے مطابق یوکرین روسی افواج کی نقل و حرکت پر نظر رکھنے اور انفراسٹرکچر کو پہنچنے والے نقصان کا اندازہ لگانے کے لیے سیٹلائٹ تصاویر کا استعمال کر رہا ہے۔ کولوریڈو میں موجود میکسار ٹیکنالوجیز، جس نے پینٹاگون پروگرام کے ذریعے یوکرین کی سیٹلائٹ امیجری فراہم کی ہے، نے ایک بیان میں تصویر شیئرنگ کی معطلی کی تصدیق کی اور اس بات پر زور دیا کہ وہ امریکہ اور دیگر ممالک جیسے صارفین کے ساتھ "معاہدے کی ذمہ داریوں" پر عمل پیرا ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے یہ اقدام "یوکرین کے لیے جنگ کی ایک اہم کھڑکی کو بند کر سکتا ہے"، جس نے روسی فوجیوں کی نقل و حرکت کو ٹریک کرنے اور ایک طویل فرنٹ لائن کے دونوں اطراف کے انفراسٹرکچر کو پہنچنے والے نقصان کا اندازہ لگانے کے لیے امریکی سیٹلائٹ تصویروں کا استعمال کیا ہے۔ خیال رہے کہ گزشتہ ہفتے اوول آفس میں ٹرمپ اور زیلنسکی کے درمیان ہونے والی متنازعہ ملاقات کے بعد امریکی صدر نے یوکرین کی فوجی امداد معطل کی تھی۔ منگل کو امریکہ اور یوکرین کے وفود کے مابین سعودی عرب میں اہم ملاقات بھی ہو رہی ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
پڑھیں:
امریکی ایوان نمائندگان کی ٹرمپ کو ایران جنگ روکنے کی ہدایت، قرارداد منظور
امریکا کے ریپبلکن اکثریتی ایوان نمائندگان (ہاؤس آف ریپریزنٹیٹوز) نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران کے خلاف امریکی فوجی کارروائیاں روکنے کی ہدایت دینے والی قرارداد منظور کر لی جسے کانگریس کی جانب سے صدر ٹرمپ کے لیے ایک اور علامتی پیغام قرار دیا جا رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: آبنائے ہرمز میں کسی بھی جہاز پر حملہ ہوا تو ایران کا بنیادی ڈھانچہ تباہ کردیں گے، ڈونلڈ ٹرمپ کی دھمکی
قرارداد 214 کے مقابلے میں 208 ووٹوں سے منظور ہوئی جبکہ چار ریپبلکن ارکان نے بھی ڈیموکریٹس کا ساتھ دیتے ہوئے اس کی حمایت کی۔
یہ قرارداد واشنگٹن سے تعلق رکھنے والی ڈیموکریٹ رکن پرامیلا جے پال نے پیش کی جس میں صدر ٹرمپ کو ہدایت دی گئی ہے کہ کانگریس کی منظوری کے بغیر ایران کے خلاف امریکی مسلح افواج کی کارروائیاں بند کی جائیں۔
تاہم ماہرین کے مطابق اس قرارداد کی حیثیت زیادہ تر علامتی ہے، کیونکہ حالیہ مہینوں میں بھی کانگریس اس نوعیت کی متعدد قراردادیں منظور کر چکی ہے مگر ان کے نتیجے میں جنگی کارروائیاں نہیں رک سکیں۔
مزید پڑھیے: ایران مذاکرات کے لیے بے تاب، لیکن بامعنی بات چیت ہی ہوگی، ڈونلڈ ٹرمپ
قرارداد کی حمایت کرنے والے چار ریپبلکن ارکان میں ٹام بیریٹ (مشی گن)، برائن فٹزپیٹرک (پنسلوانیا)، وارن ڈیوڈسن (اوہائیو) اور تھامس میسی (کینٹکی) شامل ہیں۔
Today, the House PASSED my bipartisan War Powers Resolution to end the war in Iran by a vote of 214-208.
This is a big victory for the vast majority of Americans who want President Trump to end this illegal war and focus on their lives right here at home. pic.twitter.com/ZaE3NtTJdP
— Rep. Pramila Jayapal (@RepJayapal) July 23, 2026
اگرچہ ریپبلکن پارٹی کو ایوان نمائندگان اور سینیٹ دونوں میں معمولی برتری حاصل ہے تاہم اس قرارداد کی منظوری کو صدر ٹرمپ کی پالیسیوں پر اپنی ہی جماعت کے بعض ارکان کے تحفظات کی علامت بھی قرار دیا جا رہا ہے۔
ادھر امریکی سینیٹ میں بھی ایران سے متعلق ایک علیحدہ مگر ملتی جلتی قرارداد پر ووٹنگ متوقع تھی۔
یہ پیشرفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب صدر ٹرمپ نے ایران کے خلاف فوجی کارروائیوں میں مزید شدت لانے کا اعلان کیا ہے اور امریکی فوجیوں کی ہلاکتوں کی بھی تصدیق کی ہے۔
مزید پڑھیں: ایران کو ایک امریکی فوجی کے قتل کی کئی گنا زیادہ قیمت چکانی پڑےگی، ڈونلڈ ٹرمپ کی تہران کو وارننگ
صدر ٹرمپ نے جمعرات کو ایران اور اس کے اتحادی یمنی حوثی گروپ کو بڑی فوجی سزا دینے کا عندیہ دیا۔ دوسری جانب، عارضی جنگ بندی کے مؤثر طور پر ختم ہونے کے 2 ہفتے بعد امریکی فوج نے ایران پر ایک اور رات فضائی حملے کیے، جس کے جواب میں ایران نے پڑوسی ممالک میں قائم امریکی فوجی اڈوں کو نشانہ بنایا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
امریکا امریکی ایوان نمائندگان ایران امریکا کشیدگی ٹرمپ کو جنگ روکنے کی ہدایت ڈیموکریٹ رکن پرامیلا جے پال ہاؤس آف ریپریزنٹیٹوز