ڈی آئی خان میں آپریشن، کیپٹن شہید، 10 خوارج ہلاک
اشاعت کی تاریخ: 21st, March 2025 GMT
اسلام آباد‘ پشاور‘ (اپنے سٹاف رپورٹر سے +نوائے وقت رپورٹ) ڈی آئی خان میں خوارج کے خلاف فورسز کے آپریشن کے دوران کیپٹن شہید‘ 10خوارج ہلاک ہوگئے۔ راولپنڈی سے 2 دہشتگرد گرفتار‘ بنوں پولیس چوکی اور متنی میں ہوٹل پر دہشتگردوں کے حملے ناکام بنا دیے گئے۔ آئی ایس پی آر کے مطابق سکیورٹی فورسز نے ڈیرہ اسماعیل خان میں خفیہ اطلاعات کی بنیاد پر آپریشن کیا گیا‘ جہاں خوارج کے چھپے ہونے کی مصدقہ اطلاع ملی تھی۔ ہمارے بہادر جوانوں نے بے مثال حکمت عملی کے ساتھ دشمن کو گھیرے میں لیا اور بھرپور کارروائی کرتے ہوئے تمام 10 خوارج کو جہنم واصل کر دیا۔ تاہم اس معرکے میں مادرِ وطن کے ایک اور جانباز سپوت کیپٹن حسنین اختر (عمر: 24 سال، ضلع جہلم کے رہائشی) جو ہمیشہ فرنٹ سے قیادت کرنے والے اور بے مثال جرات کے حامل تھے‘ مادرِ وطن پر اپنی جان نچھاور کرتے ہوئے شہادت کے بلند مقام پر فائز ہوگئے۔ کیپٹن حسنین کی بہادری صرف الفاظ کی محتاج نہیں‘ وہ اپنے جرات مندانہ فیصلوں‘ بے خوف قیادت اور دشمن کے خلاف دلیرانہ کارروائیوں کے باعث ہمیشہ یاد رکھے جائیں گے۔ ان کی قربانی دشمن کے لیے پیغام ہے کہ پاکستان کے بیٹے اپنی دھرتی کے دفاع کے لیے ہر قربانی دینے کو تیار ہیں۔ آپریشن کے دوران ہلاک شدہ خوارج کے ٹھکانے سے بھاری مقدار میں اسلحہ اور گولہ بارود برآمد ہوا۔ یہ دہشت گرد قانون نافذ کرنے والے اداروں پر حملوں اور معصوم شہریوں کی ٹارگٹ کلنگ میں ملوث تھے۔ اب بھی کسی خوارج کے باقی ہونے کے خدشے کے پیش نظر علاقے میں مکمل کلیئرنس آپریشن جاری ہے۔ پاکستان کی سکیورٹی فورسز پوری طاقت اور عزم کے ساتھ دہشت گردی کے ناسور کو جڑ سے اکھاڑنے کے لیے برسرِپیکار ہیں۔ ہمارے بہادر سپوتوں کی یہ قربانیاں ہمارے حوصلے کو مزید تقویت دیتی ہیں اور دشمن کے لیے واضح پیغام ہیں کہ پاکستان کا ہر بیٹا اپنی دھرتی کی حفاظت کے لیے سیسہ پلائی دیوار ہے۔ خیبر پی کے کے ضلع بنوں میں کنگرپل پولیس چوکی پر دہشتگردوں نے جدید اور خودکار ہتھیاروں سے فائرنگ کی جس پر پولیس نے بروقت جوابی کارروائی کی اور دہشتگردوں کے حملے کو پسپا کر دیا۔ حملے میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔ دوسری جانب پشاور کے علاقے متنی میں ہوٹل پر دستی بم حملہ کیا گیا جس میں خوش قسمتی سے تمام افراد محفوظ رہے جبکہ ملزمان دستی بم پھینک کرفرار ہو گئے۔ راولپنڈی مغل مارکیٹ کے قریب سی ٹی ڈی نے بڑی کارروائی کرتے ہوئے تھانہ آئی نائن پر حملے میں ملوث فتنہ الخوارج کے 2 انتہائی خطرناک دہشت گردوں کو گرفتار کر لیا۔ ترجمان سی ٹی ڈی کی جانب سے جاری بیان کے مطابق دہشتگردوں کی گرفتاری کے لئے انٹیلی جنس بیسڈ کارروائی کی‘ گرفتار دہشت گرد حمزہ اور رومان راولپنڈی اور اسلام آباد میں حساس مقامات پر دہشت گردی کے لئے ریکی مکمل کر چکے تھے۔ دہشت گرد افغانستان میں فتنہ الخوارج کے اہم کمانڈر کے ساتھ رابطے میں تھے‘ دہشت گردوں سے دستی بم‘ بھاری مقدار میں بارودی مواد، ڈیٹونیٹر، سیفٹی فیوز وائر اور دیگر سامان برآمد ہوا۔ مسلم آباد چیک پوسٹ پر دہشت گردوں نے فائرنگ کی، لیکن کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔ پولیس کی جوابی فائرنگ کے باعث دہشت گرد میدان چھوڑ کر فرار ہو گئے۔ پولیس کی بھاری نفری موقع پر پہنچ گئی، اطراف میں پولیس کا سرچ آپریشن جاری ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
پڑھیں:
بھارت امن دشمن ہے، جموں و کشمیر نہ اُس کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ ہی داخلی معاملہ، پاکستان
اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں پاکستان کی جانب سے بھارت کو مؤثر جواب دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ بھارت خود امن دشمن ہے، جموں و کشمیر نہ اُس کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ ہی داخلی معاملہ۔
قرارداد 2788 کے تناظر میں تنازعات کے پرامن حل پر مباحثے کے دوران پاکستان مشن کی قونصلر صائمہ سلیم نے حق جواب میں کہا کہ ایک وفد نے تنازعات کے پُرامن حل پر ہونے والی بحث کو حقائق مسخ کرنے، انکار اور بے بنیاد الزامات کے ذریعے متاثر کرنے کی کوشش کی۔
انہوں نے کہا کہ بھارت کا امن کا درس دینا مضحکہ خیز ہے، جو خود بین الاقوامی قانون اور سلامتی کونسل کی قراردادوں کی خلاف ورزی، ہمسایوں کے خلاف جارحیت اور خطے میں ریاستی سرپرستی میں دہشت گردی کا مرتکب ہے۔
پاکستانی مندوب برائے اقوام متحدہ کا کہنا تھا کہ جموں و کشمیر نہ بھارت کا نام نہاد اٹوٹ انگ ہے اور نہ داخلی معاملہ؛ بھارت کا انکار اس تنازع کی بین الاقوامی حیثیت کو تبدیل نہیں کر سکتا۔ بھارت خود جموں و کشمیر کا مسئلہ سلامتی کونسل میں لے کر آیا تھا، مگر آج اسی کونسل کی قراردادوں سے انحراف کر رہا ہے۔ قراردادوں کی کوئی میعاد ختم نہیں ہوتی۔
قونصلر صائمہ سلیم نے کہا کہ آزاد جموں و کشمیر اور بھارت کے غیر قانونی زیر قبضہ جموں و کشمیر کے حالات میں واضح فرق ہے۔ ایک طرف سیاسی آزادی ہے، دوسری طرف جبر، گرفتاریوں اور انسانی حقوق کی پامالیوں کا سلسلہ جاری ہے۔
انہوں نے کہا کہ حقوق کا استعمال اور حقوق سے محرومی ایک جیسی چیزیں نہیں ہو سکتیں۔ کشمیری عوام کے ناقابل تنسیخ حقِ خودارادیت سے انکار نہیں کیا جا سکتا۔ سندھ طاس معاہدے کو یکطرفہ طور پر معطل کرنے کا بھارتی فیصلہ بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کے منشور سے بے اعتنائی کا مظہر ہے۔
پاکستانی مندوب نے حق جواب میں کہا کہ دریائے سندھ کا پانی پاکستان کے 24 کروڑ عوام کی زندگی کا ذریعہ ہے، جنگ کا ہتھیار نہیں۔ ایسے غیر ذمہ دارانہ اقدامات علاقائی امن کو خطرے میں ڈال سکتے ہیں۔ پاکستان دہشت گردی کا سب سے بڑا متاثرہ ملک ہے؛ ہزاروں بے گناہ شہریوں کی قربانیاں اس بات کا ثبوت ہیں کہ دہشت گردی کے خلاف پاکستان کی جدوجہد حقیقی ہے۔
قونصلر صائمہ سلیم کا کہنا تھا کہ بھارت سے منسلک دہشت گردی کے نیٹ ورک علاقائی حدود سے نکل کر عالمی سطح تک پہنچ چکے ہیں۔ کلبھوشن یادیو کیس اس کا ایک واضح ثبوت ہے۔ بھارت میں ہندوتوا پر مبنی انتہا پسند نظریات نے اسلاموفوبیا کو ریاستی پالیسی کا رنگ دے دیا ہے، جبکہ اقلیتیں امتیازی سلوک اور جبر کا سامنا کر رہی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان نے اشتعال انگیزی اور جارحیت کے باوجود تحمل کا مظاہرہ کیا، مذاکرات کا راستہ کھلا رکھا اور تنازعات کے پُرامن حل کو ترجیح دی۔ جنوبی ایشیا میں امن کا راستہ انکار یا ہٹ دھرمی نہیں بلکہ اقوام متحدہ کے منشور، بین الاقوامی قانون اور سلامتی کونسل کی قراردادوں کی پاسداری سے ہو کر گزرتا ہے۔
پاکستانی مندوب نے کہا کہ بھارت کو چاہیے کہ قرارداد 2788 پر اس کی روح اور متن کے مطابق عمل کرے، اپنے معاہداتی وعدے پورے کرے اور جموں و کشمیر تنازع کے پُرامن حل کے لیے سنجیدہ کردار ادا کرے۔