بانی پی ٹی آئی اگر 9 مئی واقعات پر معافی مانگ لیں تو رہائی ہو سکتی ہے: رانا ثنااللہ
اشاعت کی تاریخ: 22nd, March 2025 GMT
اسلام آباد: وزیراعظم کے مشیر برائے سیاسی امور رانا ثنااللہ نے واضح کر دیا کہ بانی پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) عمران خان کی رہائی اس وقت تک ممکن نہیں جب تک وہ 9 مئی کے واقعات پر خلوصِ دل سے معافی نہیں مانگ لیتے۔
نجی ٹی وی کو دیے گئے انٹرویو میں وزیراعظم کے مشیر برائے سیاسی امور رانا ثنااللہ نے کہا کہ اگر عمران خان 9 مئی کے افسوسناک واقعات کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے کھلے دل سے معذرت کر لیں تو ان کی رہائی کا امکان پیدا ہو سکتا ہے۔
اس سے قبل اپنے بیان میں انہوں نے کہا کہ اگر عمران خان ضمانت کے لیے ہائی کورٹ یا سپریم کورٹ سے رجوع کرتے ہیں تو یہ ان کا قانونی حق ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ اگر عدالت عمران خان کو رہا کرتی ہے تو حکومت کو اس پر کوئی اعتراض نہیں ہوگا کیونکہ حکومت نے انہیں نظر بند نہیں کیا بلکہ وہ اپنے مقدمات کے باعث جیل میں ہیں۔
وزیراعظم کے مشیر برائے سیاسی امور نے مزید کہا کہ پی ٹی آئی کے بانی کو رہائی کے لیے قانونی راستہ اپنانا ہوگا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
پڑھیں:
حیسکو میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کی کرپشن کا انکشاف
حیدرآباد الیکٹرک سپلائی کمپنی (حیسکو) میں تنخواہوں اور الاؤنسز کی مد میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کرپشن کا انکشاف ہوا ہے۔
قومی اسمبلی کی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے اجلاس میں آڈٹ حکام نے انکشاف کیا کہ حیسکو میں گھوسٹ ملازمین، ڈبل تنخواہوں کے ذریعے قومی خزانے کو نقصان پہنچایا گیا اور وفاقی تحقیقاتی ادارہ (ایف آئی اے)99 کروڑ 62 لاکھ کی مبینہ کرپشن کی تحقیقات کر رہا ہے۔
آڈٹ حکام نے مزید انکشاف کیا کہ حیسکو کی اندرونی انکوائری میں مزید 6 کروڑ 78 لاکھ روپے کی مشتبہ ادائیگیاں ہوئی ہیں۔
چیئرمین کمیٹی شاہدہ اختر کی زیرصدارت اجلاس میں ایف آئی اے حکام نے بتایا کہ اس معاملے میں ایف آئی آرز کی تعداد 5 ہوگئی تھی، 151 ملزمان تھے جن میں سے 14 کو گرفتار کیا گیا جبکہ دیگر ضمانت پر ہیں، ایک ارب روپے میں سے 13 کروڑ روپے کی ریکوری ہوئی ہے۔
رکن کمیٹی قاسم نون نے کہا کہ 13 کروڑ روپے کچھ بھی نہیں ہیں، سخت ایکشن لیا جائے، سید امین الحق نے کہا کہ گھوسٹ ملازمین کی تصدیق بھی کی گئی کہ وہ موجود ہیں۔
سینیٹر افنان اللہ خان نے کہا کہ وزارت کو چاہیے کہ وہ مداخلت کرے اور ذمہ داران کا تعین کرے۔
چیئرمین کمیٹی شاہد اختر نے کہا کہ یہ تو آڈٹ نے نشان دہی کر دی ہے، لگتا ہے کہ پاور ڈویژن کا کوئی چیک اینڈ بیلنس نہیں ہے، جس پر سی ای او حیسکو نے بتایا کہ 756 ملین روپے کی ذمہ داری بھی فکس ہو چکی ہے۔
شاہدہ اختر نے کہا کہ عدالت کے حکم تک یہ آڈٹ پیرا زیر التوا رہے گا، رکن کمیٹی سید حسین طارق نے سوال کیا کہ حیسکو میں بائیو میٹرک سسٹم کیوں نہیں ہے۔
پاکستان پیپلزپارٹی (پی پی پی) کی رکن شازیہ مری نے کہا کہ ہم ڈسکوز کو یہاں کمنٹس کے لیے نہیں احتساب کے لیے بلاتے ہیں، یہ لوگوں کو چور کہتے ہیں اور اپنی پرفارمنس کے گیت گاتے نہیں تھکتے۔
پبلک اکاؤنٹس کمیٹی نے ہدایت کی کہ 13 کروڑ روپے کی ریکوری کی آڈٹ سے تصدیق کرائی جائے، جو ریکوری رہ گئی ہے وہ معاملہ زیر التوا رہے گا۔