بھارتی کرکٹر یوزویندر چہل اور دھناشری ورما کی جوڑی بھی قانونی طور پر بالآخر ٹوٹ گئی اور ممبئی کے فیملی کورٹ نے جمعرات کو طلاق کا حکم دے دیا۔

یہ خبر اُن لوگوں کےلیے ایک صدمے سے کم نہیں تھی جنہوں نے گزشتہ سال ڈانس شو ’’جھلک دکھلا جا 11‘‘ میں اُن دونوں کو ایک ساتھ دیکھا تھا۔ طلاق کی خبروں کے بعد انٹرنیٹ صارفین مایوس ہیں اور اُنہوں نے اس سابق جوڑے پر ’’شہرت کےلیے اپنے تعلقات کی جعلسازی‘‘ کرنے کا الزام لگادیا ہے۔

دھناشری ورما نے ’’جھلک دکھلا جا 11‘‘ میں ایک وائلڈ کارڈ انٹری کے طور پر حصہ لیا تھا اور وہ فائنلسٹ بن کر ابھری تھیں۔ ایک قسط میں، یوزویندر چہل نے اپنی اہلیہ کو سپورٹ کرنے کےلیے اس ڈانس ریئلٹی شو میں خصوصی شرکت کی تھی۔

A post common by Sony Entertainment Television (@sonytvofficial)

اُس وقت، دھناشری ورما اور یوزویندر چہل نے اپنے رومانوی انداز سے مداحوں کی توجہ اپنی جانب کھینچ لی تھی۔ پروگرام کے دوران اُنہوں نے دلچسپ کھیلوں میں حصہ لیا اور ایک دوسرے کو گرم جوشی سے گلے بھی لگایا۔ حالانکہ اب اطلاعات ہیں کہ جوڑے کے تعلقات اس وقت بھی کشیدہ تھے۔

چونکہ دھناشری ورما اور یوزویندر چہل کی مشترکہ طلاق کی درخواست میں تصدیق ہوئی ہے کہ وہ 18 ماہ سے الگ رہ رہے ہیں، تو قیاس آرائیاں زوروں پر ہیں کہ شاید دونوں نے ’’جھلک دکھلا جا 11‘‘ کے پروگرام میں اپنے اچھے تعلقات کا دکھاوا کیا تھا۔

دھناشری ورما اور یوزویندر چہل کی ڈانس شو میں شرکت نے ان کے مداحوں کو غصے میں مبتلا کردیا ہے، اور بہت سے لوگوں کا خیال ہے کہ اُن کی محبت کا مظاہرہ ایک ڈراما تھا۔

انٹرنیٹ صارفین کو لگتا ہے کہ اس سابق جوڑے نے جان بوجھ کر ’’جھلک دکھلا جا 11‘‘ میں شرکت کا فیصلہ کیا تھا تاکہ طلاق سے پہلے ایک مثبت تصویر برقرار رکھی جا سکے۔

یاد رہے کہ دھناشری ورما اور یوزویندر چہل کی محبت کی کہانی 2020 میں پروان چڑھی تھی۔ یہ وہ وقت تھا جب کووِڈ-19 لاک ڈاؤن کے دوران کرکٹر نے دھناشری کی آن لائن کلاسز میں داخلہ لیا تھا۔ طالب علم اور استاد کا رشتہ جلد ہی کچھ اور بن گیا اور دونوں جلد ہی محبت میں گرگئے۔

چند ماہ ڈیٹنگ کرنے کے بعد، دھناشری ورما اور یوزویندر چہل نے دسمبر 2020 میں ایک روایتی اور نجی تقریب میں شادی کرلی۔ تقریب میں قریبی دوستوں اور خاندان کے افراد نے شرکت کی تھی۔

2023 میں اُن کی شادی میں دراڑیں پڑگئیں۔ ایک وقت میں انسٹاگرام پر سب سے زیادہ فالو کیے جانے والی مشہور شخصیات سمجھے جانے والے اس جوڑے کی سوشل میڈیا پوسٹس کم ہوگئیں۔ دونوں فریقین نے پراسرار پیغامات شیئر کیے، جو کچھ نہ کچھ غلط ہونے کی طرف اشارہ کر رہے تھے۔

رپورٹس کے مطابق طلاق کے بعد یوزویندر چہل نے دھناشری ورمہ کو 4.

75 کروڑ روپے کا خرچ ادا کیا ہے۔

TagsShowbiz News Urdu

ذریعہ

ذریعہ: Al Qamar Online

کلیدی لفظ: دھناشری ورما اور یوزویندر چہل یوزویندر چہل نے

پڑھیں:

سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سعودی عرب کے ساتھ جوہری معاہدے کے لیے اسرائیل سے تعلقات کی بحالی سے مشروط کردیا۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے کہا ہے کہ اگر سعودی عرب ابراہام معاہدوں  میں شامل ہو جاتا ہے تو یہ مشرقِ وسطیٰ میں امن کے لیے ایک ’’تاریخی جست‘‘ ثابت ہوگی۔

نیتن یاہو نے اپنے بیان میں مزید کہا کہ سعودی عرب کی ابراہام معاہدوں میں شمولیت نہ صرف اسرائیل اور عرب دنیا کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کرے گی بلکہ پورے خطے میں استحکام اور تعاون کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔

خیال رہے کہ اسرائیلی وزیراعظم کا یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے سعودی عرب کے سول جوہری پروگرام کو اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے سے مشروط کرنے کے بعد سامنے آیا ہے۔

کچھ دیر قبل ہی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر کہا تھا کہ امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ سول جوہری معاہدے کی منظوری اس وقت تک نہیں دی جائے گی جب تک سعودیہ ابراہام معاہدوں میں شامل نہیں ہوجاتا۔

صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی پوسٹ میں یہ بھی واضح کیا تھا کہ مجوزہ معاہدہ صرف پُرامن اور غیر فوجی مقاصد کے لیے ہوگا اور اس کے تحت سعودی عرب کو یورینیم افزودگی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

یاد ہے کہ ایک روز قبل جب جوہری معاہدے کی ابتدائی منظوری کا اعلان کیا گیا تھا تو صدر ٹرمپ نے اسے سعودی عرب کے اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے کی شرط سے نہیں جوڑا تھا تاہم بعد میں انھوں نے واضح کیا کہ دونوں معاملات ایک دوسرے سے منسلک ہیں۔

ادھر سعودی حکومت نے تاحال صدر ٹرمپ کے تازہ بیان پر کوئی باضابطہ ردعمل نہیں دیا تاہم ریاض متعدد مواقع پر واضح کرچکا ہے کہ وہ اس وقت تک اسرائیل کو تسلیم نہیں کرے گا جب تک فلسطینی ریاست کے قیام کے لیے قابلِ عمل اور واضح راستہ موجود نہ ہو۔

سعودی عرب کا مؤقف رہا ہے کہ 1967 کی سرحدوں کی بنیاد پر آزاد فلسطینی ریاست کا قیام، مشرقی یروشلم کو اس کا دارالحکومت بنانا اور فلسطینی عوام کے جائز حقوق کا تحفظ اسرائیل سے تعلقات کی بحالی کے لیے بنیادی شرائط ہیں۔

ابراہام معاہدے کیا ہیں؟

ابراہام معاہدے 2020 میں امریکی ثالثی کے تحت طے پائے تھے جن کے نتیجے میں متحدہ عرب امارات، بحرین، سوڈان اور مراکش نے اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم کیے۔ بعد ازاں قازقستان نے بھی معاہدے کی حمایت کا اعلان کیا تاہم سعودی عرب اب تک اس کا حصہ نہیں بنا۔

ان معاہدوں کا مقصد اسرائیل کے عرب و مسلم ممالک کے ساتھ سفارتی، اقتصادی اور سکیورٹی تعاون کو فروغ دینا تھا لیکن غزہ جنگ اور فلسطینی مسئلے کے باعث سعودی عرب نے اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے کا عمل روک رکھا ہے۔

 

متعلقہ مضامین

  • سعودیہ کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت مشرقِ وسطیٰ میں تاریخی پیش رفت ہوگی، نیتن یاہو
  • علی الزیدی کا ایران کا اہم دورہ، دوطرفہ تعلقات بڑھانے پر اتفاق
  • سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم