نیویارک میں سیاحتی ہیلی کاپٹردریا میں گرنے سے پائلٹ اور تین بچوں سمیت ایک ہی خاندان کے پانچ افراد ہلاک
اشاعت کی تاریخ: 11th, April 2025 GMT
نیویارک(اردوپوائنٹ اخبارتازہ ترین-انٹرنیشنل پریس ایجنسی۔11 اپریل ۔2025 )نیویارک میں ایک سیاحتی ہیلی کاپٹردریائے ہڈسن میں گرنے سے پائلٹ اور تین بچوں سمیت ایک ہی خاندان کے پانچ افراد ہلاک ہوگئے ہیں نیو یارک کے میئر ایرک ولیمز نے صحافیوں کو بتایا کہ پانچ افراد پرمشتمل خاندان سیاحت کے لیے سپین سے آیا تھا .
(جاری ہے)
امریکی ذرائع ابلاغ پر جاری کی جانے والی حادثے کی ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ ہیلی کاپٹر ہوا میں الٹ کر دریائے ہڈسن میں گرا حکام کا کہنا ہے کہ ہیلی کاپٹر جارج واشنگٹن بریج پر مڑنے اور نیو جرسی کے ساحل کی طرف جاتے ہوئے بے قابو ہو گیا تھا. حادثے کا شکار ہونے والاہیلی کاپٹر نیو یارک ہیلی کاپٹرز نامی کمپنی کی ملکیت تھا اور اس نے نیویارک ڈاﺅن ٹاﺅن سکائی پورٹ سے اڑان بھری تھی حادثے کے فوراً بعد غوطہ خوروں کو پانی میں بھیجا گیا تھا ریسکیو حکام نے اس خاندان کی زندگی بچانے کی کوشش کی مگر ان کی کوششیں ناکام رہیں. پولیس حکام کے مطابق چار افراد نے موقع پر دم توڑ دیا تھا جبکہ دو افراد کو قریبی ہسپتال میں مردہ قرار دیا گیا یہ ہیلی کاپٹر مین ہیٹن کے مغربی علاقے میں حادثے کا شکار ہوا جہاں سیاحتی مقامات کے ساتھ ساتھ نیو یارک یونیورسٹی کا کیمپس بھی ہے فیڈرل ایوی انتظامیہ نے کہا ہے کہ نیشنل ٹرانسپورٹ سیفٹی بورڈ کی سربراہی میں اس حادثے کی تحقیقات کی جائے گی بیل 206 نامی ہیلی کاپٹر اکثر سیاحتی مقاصد، ٹیلی ویژن نشریات یا پولیس حکام کی جانب سے استعمال کیا جاتا ہے. واقعے کے عینی شاہدین میں سے ایک جین لینک نے بتایا کہ میں نے کھڑکی سے باہر دیکھا کچھ لوگ پانی کی طرف بھاگ رہے تھے پھر مجھے سائرن کی آواز آئی . نیو جرسی کی رہائشی اپسیتا نے ”سی بی ایس نیوز“ کو بتایا کہ مجھے لگا یہ دھول مٹی یا پرندوں کی آواز ہے مگر پھر ایمرجنسی گاڑیوں کے سائرن سنائے دیے یہ پہلی بار نہیں جب نیو یارک میں سیاحتی ہیلی کاپٹر گِر کر تباہ ہوا ہو 2018 میں اسی طرح کے ایک واقعے میں پانچ افراد ہلاک ہوئے تھے مگر پائلٹ بچ گیا تھا 2009 میں اٹلی سے آئے سیاحوں کے ہیلی کاپٹر حادثے میں نو افراد کی ہلاکت ہوئی تھی.
ذریعہ
ذریعہ: UrduPoint
کلیدی لفظ: تلاش کیجئے پانچ افراد ہیلی کاپٹر نیو یارک
پڑھیں:
میئر لندن، 16 سال سے کم عمر بچوں کیلئے سوشل میڈیا پر پابندی کی حمایت
لندن کے میئر سر صادق خان(sadiq khan) نے 16 سال سے کم عمر بچوں کے لیے سوشل میڈیا پر پابندی کی حمایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ بچوں کو آن لائن دنیا میں درپیش خطرات اور نقصانات سے بچانے کے لیے یہ ایک ضروری اقدام ہے۔
منگل کو لندن میں انجینئرز، کاروباری شخصیات اور سرمایہ کاروں سے خطاب کے دوران صادق خان نے کہا کہ جس طرح خوراک اور ادویات تیار کرنے والی کمپنیوں کو اپنی مصنوعات کی حفاظت ثابت کرنا پڑتی ہے، اسی طرح سوشل میڈیا کمپنیوں کو بھی اپنے پلیٹ فارمز کے بچوں کے لیے محفوظ ہونے کا ثبوت دینا چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ جب تک سوشل میڈیا کمپنیاں اپنے پلیٹ فارمز کی حفاظت ثابت نہیں کرتیں، اس وقت تک کم عمر بچوں کے لیے ان پر پابندی عائد کرنا ہی نقصانات کو روکنے کا مؤثر طریقہ ہے۔
میئر نے اس بات پر بھی تشویش کا اظہار کیا کہ آن لائن مینوسفیئر نامی رجحان نوجوان لڑکوں اور مردوں پر منفی اثرات مرتب کر رہا ہے، جس سے ایک کھوئی ہوئی نسل پیدا ہونے کا خطرہ ہے۔
یہ مؤقف برطانوی وزیر اعظم سر کیئر اسٹارمر کے مؤقف سے زیادہ سخت سمجھا جا رہا ہے، اگرچہ وزیر اعظم نے بچوں کی آن لائن حفاظت کے لیے اہم اقدامات کا وعدہ کیا ہے، تاہم انہوں نے ابھی تک سوشل میڈیا پر مکمل پابندی کی حمایت نہیں کی۔
برطانوی حکومت نے حال ہی میں بچوں کے آن لائن تحفظ سے متعلق ایک مشاورتی عمل مکمل کیا ہے، جس میں سوشل میڈیا کے لیے کم از کم عمر مقرر کرنے، ایپس کے استعمال کے اوقات محدود کرنے، لا محدود اسکرولنگ اور آٹو پلے جیسی عادت ساز خصوصیات پر پابندی لگانے اور عمر کی تصدیق کے سخت نظام متعارف کرانے جیسے اقدامات پر رائے طلب کی گئی تھی۔
مزید پڑھیں:نیشنل ہیلتھ سروسز کیلئے 22 ارب روپے کا بجٹ مختص، اہم تفصیلات سامنے آگئیں
مشاورت کے نتائج کی بنیاد پر حکومت بچوں کے تحفظ کے لیے آئندہ پالیسی اور قانون سازی کے حوالے سے فیصلے کرے گی۔