پی ایس ایل سیزن 10،افتتاحی میچ میں لاہور قلندرز کا اسلام آباد کو جیت کیلئے 140رنز کا ہدف
اشاعت کی تاریخ: 11th, April 2025 GMT
پی ایس ایل سیزن 10،افتتاحی میچ میں لاہور قلندرز کا اسلام آباد کو جیت کیلئے 140رنز کا ہدف WhatsAppFacebookTwitter 0 11 April, 2025 سب نیوز
راولپنڈی (سب نیوز)لاہور قلندرز نے پی ایس ایل سیزن 10کے افتتاحی میچ میں عبداللہ شفیق کی شاندار اننگز کی بدولت اسلام آباد یونائیٹڈ کو جیت کیلئے 139رنز کا ہدف دے دیاہے ۔
تفصیلات کے مطابق اسلام آباد یونائیٹڈ نے ٹاس جیت کر فیلڈنگ کا فیصلہ کیا جس پر لاہور قلندرز کی کی پوری ٹیم 140رنز بنا کر آوٹ ہو گئی۔ لاہور کی جانب سے فخر زمان اور محمد نعیم نے میدان میں اتر کر کھیل کا آغاز کیا لیکن اوپننگ پر آئے فخر صرف ایک سکور بنا کر میریڈتھ کی گیند پر اعظم خان کے ہاتھوں کیچ آوٹ ہو گئے جبکہ دوسرے نمبر پر آنے والے محمد نعیم صرف 8 سکور بنانے میں کامیاب ہوئے اور ہولڈر کی گیند پر پولین لوٹ گئے ۔
لاہور قلندرز کے کھلاڑی ڈیرل مچل 13 ، سیم بلنگز صفر، سکندر رضا 23 ، جہانداد خان اور ڈیوڈ ویزے صفر پر ہی پولین لوٹ گئے ۔اسلام آباد یونائیٹڈ کی جانب سے جیسن ہولڈر نے شاندار گیند بازی کا مظاہرہ کرتے ہوئے 4کھلاڑیوں کو پولین کی راہ دکھائی جبکہ شاداب خان نے 3 ، عماد وسیم اور ریلے میریڈتھ نے ایک ایک وکٹ حاصل کی ۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: لاہور قلندرز اسلام آباد
پڑھیں:
باپ اپنے نابالغ بچے کے نان و نفقہ کی ذمہ داری سے بری الذمہ نہیں ہو سکتا ،لاہور ہائیکورٹ
لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 02 جون2026ء) لاہور ہائیکورٹ نے قرار دیا ہے کہ مالی مشکلات یا کسی نجی معاہدے کی بنیاد پر باپ اپنے نابالغ بچے کے نان و نفقہ کی ذمہ داری سے بری الذمہ نہیں ہو سکتا اور یہ ذمہ داری اسلامی تعلیمات کے مطابق مستقل اور قابل نفاذ فریضہ ہے۔جسٹس محسن اختر کیانی نے 15 صفحات پر مشتمل تفصیلی فیصلہ جاری کرتے ہوئے باپ اختر حسین اعوان کی درخواست خارج کر دی اور فیملی کورٹ و اپیلٹ کورٹ کے فیصلے برقرار رکھے۔عدالت نے قرار دیا کہ نابالغ بچے کا نان و نفقہ صرف قانونی نہیں بلکہ اخلاقی اور مذہبی ذمہ داری بھی ہے۔ غیر ادا شدہ نان و نفقہ باپ پر قرض تصور ہوگا جو وقت گزرنے سے ختم نہیں ہو سکتا۔فیصلے میں سور البقرہ، سور الطلاق اور متعدد احادیث نبوی کے حوالے دیتے ہوئے کہا گیا کہ معاہدے یا رضامندی کے ذریعے نابالغ بچے کے حقوق ختم نہیں کیے جا سکتے، خصوصا جب بچہ معذوری کی حالت میں ہو۔(جاری ہے)
درخواست گزار کا موقف تھا کہ 2005 میں فریقین کے درمیان ہونے والے رضامندی نامے کے تحت تاحیات خرچہ طے ہو چکا تھا اور ماضی کے نان و نفقہ کی وصولی قانونا چھ سال سے زائد مدت کے لیے نہیں کی جا سکتی۔عدالت نے ماضی کے نان و نفقہ سے متعلق اسلامی اصولوں کی روشنی میں نئی قانون سازی کی سفارش کرتے ہوئے فیصلے کی نقل لا اینڈ جسٹس کمیشن اور وزارت قانون و انصاف کو ارسال کرنے کا حکم بھی دیا۔