اسلام آباد:

سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کے اجلاس میں انکم ٹیکس ترمیمی بل 2025 موخر کر دیا گیا جبکہ پاکستان کرپٹو کونسل سے متعلق بریفنگ وزیر خزانہ کی عدم موجودگی کی وجہ سے مؤخر ہوگئی۔

سینیٹر سلیم مانڈوی والا کی زیر صدارت اجلاس میں انکم ٹیکس ترمیمی بل 2025 کا جائزہ لیا گیا۔ ایف بی آر نے سینیٹر ذیشان خانزادہ کی طرف سے پیش کردہ بل پر اعتراضات کیے۔

سینیٹر انوشہ رحمٰن نے کہا کہ اگر کچھ بہتری کے لیے لایا جا رہا ہے تو ایف بی آر کو روکنے کے بجائے بل کو سراہنا چاہیے، ایسا لگ رہا ہے کہ ایف بی آر یہ کہنا چاہ رہا ہے کہ انکم ٹیکس آرڈیننس میں ترمیم ہو رہی ہے، اس پر لاء ڈویژن سے رائے لینی چاہیے لاء کو راستہ بنانا چاہیے۔

سیکریٹری خزانہ امداد اللہ بوسال نے ایف بی آر کے ممبر ان لینڈ ریونیو پالیسی کے موقف کی تائید کرتے ہوئے کہا کہ اگلے چند ہفتوں میں بجٹ آنے والا ہے اس بل کو بجٹ میں لے آئیں۔

سینیٹر انوشہ رحمٰن نے کہا کہ سیکریٹری خزانہ ہیں مگر سیکریٹری ریونیو ڈویژن نہیں ہیں، اگر سیکریٹری خزانہ یقین دہانی کروا دیتے تو کیا سیکریٹری ریونیو اس کو مانیں گے۔

سیکریٹری خزانہ نے کہا کہ حکومت کا انکم ٹیکس ٹربیونل پر بہت فوکس ہے کہ ان کی کارکردگی بڑھائی جائے،

سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ نے انکم ٹیکس ترمیمی بل موخر کر دیا۔ ترمیمی بل میں ایپلٹ ٹربیونلز میں حاضر سروس کے بجائے ریٹائرڈ لوگ تعینات کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔

سینیٹر محسن عزیز نے کہا کہ تمام ٹیکنیکل وزارتوں کے سیکریٹری بھی ٹیکنیکل ہونے چاہیں، دنیا اب بدل چکی ہے تمام ٹیکنیکل وزارتوں میں ایسا ہونا چاہیے۔

چیئرمین کمیٹی سلیم مانڈوی والا نے کہا کہ وزارت انفارمیشن ٹیکنالوجی میں ایسا ہوا ہے۔

سینیٹر انوشہ رحمٰن نے کہا کہ وزارت سائنس اینٹ ٹیکنالوجی کے 18ڈیپارٹمنٹ ہیں جن میں سے 12 میں ویلیو ایڈیشن ہی نہیں ہے۔ وزارتِ سائنس اینڈ ٹیکنالوجی میں افسران ریٹائرمنٹ سے پہلے ہی نظر جمائے بیٹھے ہوتے ہیں کہ ریٹائر ہوتے ہی کونسا ڈیپارٹمنٹ سنبھالنا ہے، ہمیں ریٹائرڈ افسران کو پارک کرنے کا معاملہ بھی روکنا چاہیے، پورے پورے ڈیپارٹمنٹ بند ہونے والے ہیں۔

سیکریٹری خزانہ نے کہا کہ وزارتوں اور اداروں کے ٹیکنیکل سربراہان تعینات کرنے کے حوالے سے غلط خیال ہے، پنجاب میں ہم نے ڈاکٹرز سیکریٹری ہیلتھ لگا کر دیکھے ہیں اسی طرح ایجوکیشنسٹ بھی سیکریٹری ایجوکیشن اور اداروں کے سربراہ لگا کر دیکھے ہیں، ٹیکنیکل ایڈوائزرز اور دوسرے ٹیکنیکل میں مہارت ہونی چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ وزارت خزانہ اسکی واضع مثال ہے وہاں زیادہ تر وزراء سیاستدانوں کے بجائے خزانہ ٹیکنیکل رہے ہیں، معیشت کی حالت دیکھ لیں میں اس پر کچھ نہیں کہتا۔

سیکرٹیری اسٹیبلشمنٹ ڈویژن نے کہا کہ جب کسی بل کے منی بل ہونے یا نہ ہونے پر بحث ہو اور طے نہ ہو پاتا ہو تو قانون کے مطابق اسپیکر اس پر فیصلہ کر سکتا ہے۔

چیئرمین قائمہ کمیٹی برائے خزانہ سلیم مانڈوی والا نے کہا کہ ہم نے اسپیکر کو بھی ایک بل کے معاملے پر خط لکھا ہے مگر جواب تک نہیں آیا۔

رائٹ سائزنگ پالیسی کا جائزہ

سینیٹر سلیم مانڈوی والا کی زیر صدارت اجلاس میں خودمختار اداروں سے متعلق رائٹ سائزنگ پالیسی کا جائزہ لیا گیا۔

سیکریٹری اسٹبلشمنٹ ڈویژن ادارہ جاتی اسٹرکچر تبدیل کیے بغیر اخراجات میں کمی ممکن ہے۔ نیپرا اور اوگرا سمیت دیگر بشمول ریگولیٹری اتھارٹی کے ریگولیٹری فنکشنز پر کوئی اثر نہیں آئے گا۔

ریگولیٹری اداروں سے بھی رائٹ سائزنگ کمیٹی پوچھتی ہے کہ انکا اسٹاف کتنا ہے ان کی ضرورت کتنی تاکہ معلوم ہوسکے کہ کہیں زیادہ اخراجات تو نہیں ہو رہے۔ رائٹ سائزنگ کمیٹی اداروں کا جائزہ لے کر اپنی سفارشات دیتی ہے۔

اراکین کمیٹی نے سوال کیا کہ حکومتی اداروں کی رائٹ سائزنگ سے کتنی مجموعی بچت ہوئی اور مزید کتنی ہوگی۔

شیری رحمٰن نے کہا کہ رائٹ سائزنگ سرکاری ملازمین کے لیے بہت تکلیف دہ ہے، رائٹ سائزنگ کرتے وقت سرکاری ملازمین کو گولڈن ہینڈ شیک کے لیے پیکیج کا خاص خیال رکھا جائے۔ ایک طرف آپ کہہ رہے ہیں کہ اخراجات کم کرنے کے لیے رائٹ سائزنگ کر رہے ہیں تو دوسری طرف کابینہ کے اخراجات بڑھا رہے ہیں، کابینہ کا حجم بڑھا کر اخراجات بڑھا رہے ہیں۔

سیکریٹری اسٹبلشمنٹ نے بتایا کہ حکومت کے حجم کی توسیع روکنا بھی ایک بڑی کامیابی ہے، کچھ بچت براہ راست ہوں گی جہاں اینٹیں ختم کر دی جائیں گی۔ اسی طرح جو پوسٹیں ختم کر دی جائیں گی یا جہاں ریٹائرمنٹ پر نئی بھرتیاں نہیں ہو سکیں گی تو وہ پوسٹیں ختم ہوں گی تو اس سے بھی بچت ہوگی۔

انہوں نے بتایا کہ اسٹبلشمنٹ ڈویژن نے 250 لوگ بھرتی کرنا تھے اور اسی طرح دوسری ڈویژن نے بھی کرنا تھے مگر اب جائزہ لے رہے ہیں کہ سرپلس ملازمین کو ان اسامیوں پر تعینات کیا جائے گا۔

سیکریٹری اسٹبلشمنٹ نے بتایا کہ رائٹ سائزنگ سے ٹرانسپورٹ، یوٹیلیٹی سمیت دیگر آپریشنل اخراجات بھی کم ہوں گے، جب ایک ایک وزیر کے پاس زیادہ وزارتیں ہوں گیں تو اس سے وہ کارکردگی نہیں رہے گی لیکن جب ایک وزیر کے پاس ایک وزارت ہوگی تو اس سے وہ فوکس کرکے کام کر سکے گا۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: قائمہ کمیٹی برائے خزانہ انکم ٹیکس ترمیمی بل سلیم مانڈوی والا سیکریٹری خزانہ نے کہا کہ وزارت رحم ن نے کہا کہ ایف بی آر کا جائزہ رہے ہیں ہیں کہ کے لیے

پڑھیں:

وفاقی بجٹ کی تاریخ تبدیل، 5 جون کو پیش نہیں ہو گا

ویب ڈیسک :وفاقی بجٹ پانچ جون کو پیش نہیں کیا جائے گا، قومی اقتصادی کونسل کا اجلاس بھی مؤخر کر دیا گیا۔

 ذرائع کے مطابق آئندہ مالی سال کا وفاقی بجٹ اب پانچ جون کو پیش نہیں کیا جائے گا، وفاقی بجٹ 8 یا 12 جون کو پیش کیے جانے کا امکان ہے، حتمی تاریخ کا تعین ابھی نہیں ہو سکا۔

 آئی ایم ایف کے ساتھ پی ایس ڈی پی اور بجٹ مذاکرات ابھی جاری ہیں جس کی وجہ سے بجٹ پیش کرنے کی تاریخ میں تبدیلی کی جا رہی ہے۔ 

پاکستان آسٹریلیا دوسرا ون ڈے، قذافی اسٹیڈیم میں سیکیورٹی و ٹریفک انتظامات مکمل

 ذرائع کے مطابق کل وزیراعظم کی زیر صدارت ہونے والا قومی اقتصادی کونسل کا اجلاس بھی مؤخر کر دیا گیا ہے جس میں وفاقی اور صوبائی ترقیاتی بجٹ کی منظوری دی جانا تھی۔

 قومی اقتصادی کونسل کے اجلاس میں چاروں وزرائے اعلیٰ اور وزرائے خزانہ کی شرکت متوقع تھی، وزیراعظم آزادکشمیر نے بھی اجلاس میں شرکت کرنا تھی۔ 

 وزیراعظم کی ہدایت پر پی ایس ڈی پی میں 200 ارب روپے کا اضافہ بھی کیا جارہا ہے، ترقیاتی بجٹ میں 200 ارب کے اضافے پر آئی ایم ایف کو بھی آگاہ کیا جائے گا، مختلف مالیاتی اقدامات کے ذریعے200 ارب کی ایڈجسٹمنٹ کی کوشش کی جائے گی۔

غیر ملکی خاتون کے مبینہ اغوا کیس میں نیا موڑ، پولیس تفتیش میں اہم انکشافات

قومی اقتصادی کونسل میں 4715 ارب کا ترقیاتی بجٹ پیش کئے جانے کا امکان ہے، وفاقی ترقیاتی بجٹ 1126کے بجائے 1326 ارب روپے ہونے کا امکان ہے۔

 اجلاس میں صوبوں کیلئے 3138 ارب روپے کا ترقیاتی بجٹ بھی پیش کیا جائے گا، قومی اقتصادی کونسل میں پنجاب کا 1450 ارب روپے کا ترقیاتی بجٹ پیش ہوگا، سندھ کیلئے 816، خیبرپختونخوا کیلئے 564 ارب روپے کا ترقیاتی بجٹ پیش ہوگا، بلوچستان کیلئے 308 ارب روپے کا ترقیاتی بجٹ پیش ہوگا۔
 

 نجی کمپنیاں گندم کے مقابلے میں آٹا دوگنی قیمت پر فروخت کرنے لگیں، کارروائی کا مطالبہ

متعلقہ مضامین

  • امریکی محکمہ خزانہ نے ایران پر نئی پابندیاں عائد کر دیں
  • کفایت شعاری اقدامات، حکومت نے مارکیٹوں اور ریسٹورنٹس کے اوقات کار میں توسیع کردی گئی
  • کفایت شعاری اقدامات میں بڑا ریلیف ؛ مارکیٹوں کے اوقات کار میں توسیع
  • ملکی برآمدات میں اضافہ نہیں ہو رہا، کپیسٹی چارجز کے سبب بجلی کی قیمتیں زیادہ ہیں، قائمہ کمیٹی تجارت
  • وفاقی بجٹ کی تاریخ تبدیل، 5 جون کو پیش نہیں ہو گا
  • چلاس: پی ٹی آئی کے مرکزی جنرل سیکریٹری سلمان اکرم راجا کو دیامر میں روک لیا گیا
  • بعض حکمران عناصر بینظر انکم سپورٹ پروگرام کو ختم کرنا چاہتے ہیں، تاہم پیپلز پارٹی ایسا نہیں ہونے دے دی، بلاول بھٹو
  • وفاقی بجٹ 5 جون کو پیش نہیں کیا جائیگا
  •  کاروباری عدم اعتماد، 80 فیصد اداروں کے سرمایہ کاری فیصلے موخر، اوورسیز چیمبر
  • یورپی یونین کی اعلیٰ نمائندہ برائے امور خارجہ آج اسلام آباد پہنچیں گی