خلیل الرحمٰن قمر کی پاکستان سے مایوسی، بھارت کیلیے کام کرنےکو تیار
اشاعت کی تاریخ: 20th, April 2025 GMT
معروف پاکستانی ڈرامہ و فلم نویس خلیل الرحمٰن قمر نے حالیہ انٹرویو میں پاکستان سے مایوسی کا اظہار کرتے ہوئے بھارت کے لیے کام کرنے کی خواہش ظاہر کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ انہوں نے اپنے ملک کے لیے بہت کچھ کیا لیکن ان کے ساتھ انصاف نہیں ہوا جس کی وجہ سے ان کی حب الوطنی متاثر ہوئی ہے۔
خلیل الرحمٰن قمر نے ایک پوڈکاسٹ میں گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ ماضی میں انہوں نے بھارت میں کام کرنے کی پیشکشیں ٹھکرائیں لیکن اب وہ بھارت کے لیے کام کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ بھارت میں ان کے کام کی قدر کی جاتی ہے جبکہ پاکستان میں انہیں وہ عزت نہیں ملی جس کے وہ مستحق تھے۔
انہوں نے اپنے 'ہنی ٹریپ کیس' کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ انہیں اغوا کرنے اور قتل کرنے کی کوشش کی گئی، جس کے بعد انہوں نے بھارت کے لیے کام کرنے کا فیصلہ کیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ ماضی میں ان کے ڈرامے 'بوٹا فرام ٹوبہ ٹیک سنگھ' کی کہانی کو بھارتی فلم 'جس دیش میں گنگا رہتا ہے' میں کاپی کیا گیا تھا۔
خلیل الرحمٰن قمر کا کہنا تھا کہ انہوں نے پاکستان کے لیے بہت کچھ کیا لیکن ان کے ساتھ ہونے والے سلوک نے ان کی حب الوطنی کو متاثر کیا ہے اور اب وہ بھارت کے لیے کام کرنے کو تیار ہیں جہاں ان کے کام کی قدر کی جاتی ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: خلیل الرحم ن قمر لیے کام کرنے کے لیے کام انہوں نے کہا کہ
پڑھیں:
پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف فیشن ڈیزائن میں قائممقام وائس چانسلر کی تعیناتی کیلیے سینیٹ کا اجلاس طلب
پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف فیشن ڈیزائن میں قائمقام وائس چانسلر کی تعیناتی کیلیے سینیٹ کا اہم اجلاس31 جولائی کو طلب کر لیا گیا جس میں صدر پاکستان و چانسلر کی ہدایات پر قائمقام وی سی کی تعیناتی سے متعلق ایجنڈے پر دوبارہ غور کیا جائے گا۔
تفصیلات کے مطابق صدر پاکستان نے 24اپریل کو ریفرنس وزارت تعلیم کو بھجوایا ہے جس میں بطور چانسلر پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف فیشن ڈیزائن ایکٹ کی شق8(6)کے تحت سینٹ کے 17ویں اجلاس کے ایجنڈا نمبر13پر دوبارہ غور کرنے کی ہدایات جاری کی ہیں۔
دستیاب دستاویز کے مطابق 5 جنوری2026 کو ہونے والے سینیٹ کے17ویں اجلاس میں سابق وائس چانسلر پروفیسر حناطیبہ خلیل کو بطور وائس چانسلر کام جاری رکھنے کی منظوری دی گئی حالانکہ پروفیسر حنا طیبہ خلیل دو ٹرم مکمل کر چکی تھیں۔
سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے تعلیم نے بھی پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف فیشن ڈیزائن کے سینٹ اجلاس (جس میں حناطیبہ خلیل کو قائمقام وائس چانسلر ذمہ داریاں جاری رکھنے کی منظوری دی) کو کالعدم قرار دینے کی سفارش کر رکھی۔
قائمہ کمیٹی کی چیئرپرسن بشری انجم بٹ نے اجلاس کے دوان کہا تھا کہ عبوری وائس چانسلر کی تعیناتی سے متعلق ایوان صدر نے واضح کیا تھا کہ ایجنڈے کی منظوری نہیں لی گئی تھی۔
ذرائع نے بتایا کہ بشری انجم بٹ نے پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف فیشن ڈیزائن کی وائس چانسلر کی تعیناتی سے متعلق ریفرنس ایوان صدر کو بھجوایا جس میں کہا گیا کہ انسٹی ٹیوٹ کے فیکلٹی ممبران ،افسران اور سٹیک ہولڈرز کی جانب سے الزامات لگائے کہ پروفیسر حناطیبہ خلیل وائس چانسلر بد انتظامی اور اختیارات کے غلط استعمال کی پریکٹس میں ملوث ہیں۔
انسٹی ٹیوٹ کی پروکیورمنٹ اور مالی معاملات میں بے ضابطگیوں سمیت انسٹی ٹیوٹ میں گورننس کے بدترین صورتحال ہے، اس کے علاوہ گرلز ہاسٹل کی تعمیر سے متعلق 450 ملین کے ٹینڈرز میں مبینہ بے ضابطگیاں بھی ہوئی ہیں۔
ایوان صدر نے سینیٹر بشری انجم بٹ کی جانب سے بھجوائے گئے ریفرنس پر اپنی سفارشات وزارت تعلیم کو بھجوا دی ہیں،
وزارت تعلیم کے ذرائع نے سینیٹ اجلاس کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایوان صدر کی ہدایات کی روشنی میں سینئر فیکلٹی ممبر کو ہی قائمقام وائس چانسلر پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف فیشن ڈیزائن تعینات کیا جائے گا اور اس حوالے سے سنیارٹی لسٹ منگوا لی گئی ہے،