جنوبی وزیرستان: نامعلوم دہشت گردوں کا پولیس پارٹی پر حملہ ناکام، دہشت گرد ہلاک،
اشاعت کی تاریخ: 21st, April 2025 GMT
جنوبی وزیرستان لوئر میں نامعلوم دہشت گردوں نے تھانہ اعظم ورسک کے ایس ایچ او اور پولیس پارٹی پر کلوشہ کے علاقے میں حملہ کیا جسے ناکام بنا دیا گیا اور حملہ آور دہشت گرد کو ہلاک کردیا۔
رپورٹ کے مطابق ایس ایچ او اور پولیس پارٹی پولیو ڈیوٹی پر تھے، پولیس پارٹی اور دہشت گردوں کے درمیان فائرنگ کا تبادلہ تقریباً 30 منٹ تک جاری رہا، فائرنگ کے تبادلے میں ایک دہشت گرد ہلاک جبکہ باقی دہشت گرد موقع سے فرار ہوگئے۔
ہلاک دہشت گرد سے ایس ایم جی، راکٹ لانچر جب کہ 2 موٹر سائیکلیں بھی برآمد ہوئیں، ہلاک دہشت گرد کی شناخت افنان ولد پیرزادہ کے نام سے ہوئی، تلاشی میں 2 شناختی کارڈز، 3 اے ٹی ایم کارڈز اور ایک اسمارٹ فون برآمد کیے گئے۔
برآمد شدہ کارڈز میں سے ایک ہلاک دہشت گرد کا، جبکہ باقی شھید کانسٹیبل عمران کے نکلے جو عید سے قبل دہشت گردوں کے حملے میں شہید ہوئے تھے، شہید کانسٹیبل عمران کا مقدمہ تھانہ سی ٹی ڈی جنوبی وزیرستان میں درج ہوا تھا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: پولیس پارٹی
پڑھیں:
مستونگ میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ فائرنگ میں شہید، گن مین بھی جاں بحق
بلوچستان کے ضلع مستونگ میں قومی شاہراہ پر نامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ کے نتیجے میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے گن مین شہید ہوگئے، جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہو گئے۔ واقعے کے بعد قانون نافذ کرنے والے اداروں نے علاقے کو گھیرے میں لے کر حملہ آوروں کی تلاش اور تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔
ڈپٹی کمشنر مستونگ بہرام سلیم کے مطابق سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کوئٹہ سے مستونگ جا رہے تھے کہ قومی شاہراہ پر نامعلوم مسلح افراد نے ان کی گاڑی پر اندھا دھند فائرنگ کر دی۔ حملے کے نتیجے میں سیشن جج اور ان کے گن مین موقع پر ہی شہید ہوگئے، جبکہ گاڑی میں سوار ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہوئے۔
واقعے کے فوری بعد شہداء اور زخمیوں کو قریبی اسپتال منتقل کیا گیا، جہاں زخمیوں کو طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔ سکیورٹی فورسز نے جائے وقوعہ کو گھیرے میں لے کر شواہد اکٹھے کیے اور حملہ آوروں کی گرفتاری کے لیے سرچ آپریشن شروع کر دیا ہے۔
دوسری جانب بلوچستان بار کونسل نے حملے کو نظامِ انصاف پر دہشت گردانہ حملہ قرار دیتے ہوئے شدید مذمت کی ہے۔ بار کونسل نے واقعے کے خلاف صوبہ بھر میں دو روزہ عدالتی ہڑتال اور تین روزہ سوگ کا اعلان کیا ہے۔ اعلامیے میں ججز، وکلا اور شہریوں کی سکیورٹی یقینی بنانے، حملے میں ملوث عناصر کی فوری گرفتاری اور انہیں قانون کے مطابق سزا دینے کا مطالبہ بھی کیا گیا۔
وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی اور صوبائی وزیر داخلہ میر ضیاء اللہ لانگو نے بھی واقعے کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے شہداء کے اہل خانہ سے اظہار تعزیت کیا۔ انہوں نے متعلقہ اداروں کو حملہ آوروں کی فوری گرفتاری اور واقعے کی جامع تحقیقات کی ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ ذمہ دار عناصر کو قانون کی گرفت سے نہیں بچنے دیا جائے گا۔