سیمنٹ کی قیمت میں اضافہ یا کمی ؟ نئی قیمتیں سامنے آگئی
اشاعت کی تاریخ: 22nd, April 2025 GMT
اسلام آباد(نیو ز ڈیسک)گزشتہ ہفتے کے دوران ملک میں سیمنٹ کی ریٹیل قیمت میں اضافے کا رجحان جاری رہا۔پاکستان بیورو برائے شماریات کے مطابق 17 اپریل کو ختم ہونے والے ہفتے میں ملک کے شمالی شہروں میں سیمنٹ کی فی بوری کی اوسط ریٹیل قیمت 1425 روپے ریکارڈکی گئی جو پیوستہ ہفتے کے مقابلے میں 0.95 فیصد زیادہ ہے، پیوستہ ہفتے ملک کے شمالی شہروں میں سیمنٹ کی فی بوری کی اوسط ریٹیل قیمت 1411 روپے ریکارڈکی گئی ۔
ملک کے جنوبی شہروں میں سیمنٹ کی فی بوری کی اوسط ریٹیل قیمت 1384 روپے ریکارڈکی گئی جو پیوستہ ہفتے کے مقابلے میں 0.
گزشتہ ہفتے اسلام آباد میں سیمنٹ کی فی بوری اوسط ریٹیل قیمت 1387، راولپنڈی 1379، گوجرانوالہ 1440، سیالکوٹ 1440، لاہور 1497، فیصل آباد 1430، سرگودھا 1400، ملتان 1429، بہاولپور 1470، پشاور 1400 اور بنوں میں 1400 روپے ریکارڈ کی گئی ۔
کراچی میں سیمنٹ کی فی بوری کی اوسط ریٹیل قیمت 1313 روپے، حیدرآباد 1337، سکھر 1450، لاڑکانہ 1416، کوئٹہ 1450 اور خضدار میں 1337 روپے رہی ۔
وزیراعلیٰ مریم نواز کا گندم کے کاشتکاروں کیلئے 110 ارب کے پیکیج کا اعلان
ذریعہ
ذریعہ: Daily Ausaf
کلیدی لفظ: شہروں میں سیمنٹ کی فی بوری کی اوسط ریٹیل قیمت کی گئی
پڑھیں:
چیزیئس سے 40 لاکھ روپے کی ریکوری، فروخت کے اعداد و شمار میں فرق سامنے آگیا
اسلام آباد: چیزیئس ٹیکس ریکوری کا معاملہ اس وقت توجہ کا مرکز بن گیا ہے جب ریجنل ٹیکس آفس (آر ٹی او) ساہیوال نے ایک کارروائی کے دوران معروف فوڈ چین سے 40 لاکھ روپے قومی خزانے میں جمع کروائے۔
محکمہ ریونیو کی جانب سے جاری کردہ تفصیلات کے مطابق کارروائی انکم ٹیکس آرڈیننس 2001 کی دفعہ 175 سی کے تحت کی گئی۔ حکام کا کہنا ہے کہ نگرانی کے دوران کمپنی کی جانب سے ظاہر کردہ فروخت اور زمینی حقائق میں نمایاں فرق سامنے آیا تھا جس کے بعد تحقیقات کا آغاز کیا گیا۔
ذرائع کے مطابق آر ٹی او ساہیوال کی خصوصی ٹیم نے کاروباری مقام پر فروخت کی سرگرمیوں کا جائزہ لیا۔ اس دوران حاصل ہونے والے اعداد و شمار سے معلوم ہوا کہ ریکارڈ میں درج فروخت اور حقیقی کاروباری حجم میں فرق موجود ہے۔
ابتدائی جانچ مکمل ہونے کے بعد متعلقہ ادارے نے قانونی کارروائی شروع کی اور کمپنی کو واجب الادا رقم جمع کرانے کی ہدایت کی گئی۔ بعد ازاں 40 لاکھ روپے کی رقم قومی خزانے میں جمع کرا دی گئی۔
ماہرین کے مطابق اس نوعیت کی کارروائیاں ٹیکس نظام میں شفافیت بڑھانے اور کاروباری اداروں کو درست مالی ریکارڈ برقرار رکھنے کی ترغیب دیتی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ٹیکس قوانین پر عمل درآمد سے نہ صرف سرکاری آمدنی میں اضافہ ہوتا ہے بلکہ معیشت کی دستاویزی شکل کو بھی فروغ ملتا ہے۔
حکام نے واضح کیا ہے کہ چیزیئس ٹیکس ریکوری سمیت تمام ایسے معاملات میں قانون کے مطابق کارروائی جاری رکھی جائے گی تاکہ ٹیکس نظام کو مزید مؤثر بنایا جا سکے۔