پاک بھارت جنگ کے امکان پر امریکی سی آئی اے کی پرانی خفیہ رپورٹ سامنے آگئی
اشاعت کی تاریخ: 5th, May 2025 GMT
امریکی خفیہ ایجنسی ”سی آئی اے“ کی جانب سے حال ہی میں 1993 میں تیار کردہ ایک خفیہ ”نیشنل انٹیلی جنس رپورٹ“ (NIE) کو ڈی کلاسیفائی کیا گیا ہے، جو اُس وقت بھارت اور پاکستان کے درمیان ممکنہ جنگ کے خدشات کا جائزہ لینے کے لیے تیار کی گئی تھی۔ یہ رپورٹ فروری 2025 میں عوامی سطح پر جاری کی گئی اور اب امریکی حکومت کی ویب سائٹس پر دستیاب ہے۔ حیران کن طور پر تین دہائیوں پرانی اس رپورٹ کی کئی پیش گوئیاں آج بھی درست ثابت ہو رہی ہیں۔
رپورٹ کے مطابق، اگرچہ اُس دور میں روایتی جنگ کے امکانات کو کم قرار دیا گیا، لیکن بھارت اور پاکستان کے درمیان جنگ کے امکان کو پانچ میں سے ایک قرار دیا گیا۔ رپورٹ میں خبردار کیا گیا تھا کہ اگر کسی ایک فریق کو یہ یقین ہو جائے کہ دوسرے نے کسی بڑے دہشت گرد حملے کی سرپرستی کی ہے، تو جنگ بھڑک سکتی ہے۔
رپورٹ میں مقبوضہ کشمیر کی صورتحال پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا گیا کہ ’بھارتی سیکیورٹی فورسز ایک ایسی بغاوت سے نبرد آزما ہیں جس کا کوئی انجام نظر نہیں آ رہا۔ لائن آف کنٹرول پر فائرنگ کے واقعات معمول ہیں، خاص طور پر موسم بہار میں جب کشمیری مجاہدین اپنی جدوجہد کا نیا مرحلہ شروع کرتے ہیں۔ ہماری رائے میں بھارت کشمیر کو پاکستان سے ملنے سے روک سکتا ہے، لیکن وہ اس بغاوت کو ختم کرنے میں اس دہائی کے دوران کامیاب نہیں ہو سکے گا۔‘
یہ امریکی رپورٹ اس بات کا کھلا اعتراف ہے کہ کشمیری حریت پسند بھارت کے لیے مستقل دردِ سر بن چکے ہیں، اور ان کی مزاحمت بھارتی فوج کو مسلسل الجھائے رکھے گی۔ رپورٹ یہ بھی واضح کرتی ہے کہ نئی دہلی کی سخت پالیسیوں نے کشمیری اعتدال پسندوں کو کمزور کر دیا ہے، جس کے نتیجے میں سیاسی عمل بحال کرنے کی بھارتی کوششیں بھی ناکام ہو رہی ہیں۔
رپورٹ کا ایک اہم پہلو یہ ہے کہ بھارت خود پاکستان میں علیحدگی پسند عناصر کی مدد کرتا رہا ہے، تاہم اس کی مداخلت پاکستان کے ردعمل کے مقابلے میں کمزور رہی ہے۔ اس کے برعکس، پاکستان کشمیریوں کے حقِ خودارادیت کی پرزور حمایت کرتا ہے، اور ہر فورم پر بھارت کے جبر کو بے نقاب کرتا ہے۔
سی آئی اے کی اس پرانی رپورٹ میں بتایا گیا کہ اگر بھارت کو یقین ہو جائے کہ پاکستان کشمیر میں بھارت کے خلاف حملے کی تیاری کر رہا ہے تو بھارت پیشگی کارروائی کا منصوبہ رکھتا ہے، جس کے مطابق راجستھان اور پنجاب میں جنگی ماحول بنا کر فوج تعینات کی جائے گی اور جواب میں پاکستان بھی ایسا ہی کرے گا۔
اس کے علاوہ بھارتی فوج کی جانب سے پاکستانی حدود میں سرحد پار کوئی کارروائی تاکہ ’پاکستان کو سزا دی جاسکے‘۔
رپورٹ میں 1987 اور 1990 کے وہ بحران بھی یاد دلائے گئے ہیں جن میں بھارت اور پاکستان جنگ کے دہانے پر پہنچ گئے تھے۔ بھارت کی ”براس ٹیکس“ مشقوں نے خطے کو جنگ کے دہانے پر لا کھڑا کیا تھا، جسے پاکستانی قیادت کی سفارتی حکمت عملی نے ٹال دیا۔ بعد ازاں پاکستان نے ”ضربِ مومن“ کے نام سے بڑی فوجی مشق کے ذریعے بھارت کو پیغام دیا۔
رپورٹ کے مطابق، بھارت کی کشمیر میں اضافی فوجی تعیناتی اور پاکستان کے جوابی عسکری اقدامات 1990 میں ایک اور بڑے بحران کا سبب بنے۔ بھارت نے اس وقت پاکستان کے معمول سے زیادہ فوجی اجتماع کو خطرہ سمجھا اور اپنے آرمرڈ اور آرٹلری یونٹس کو سرحد کے قریب منتقل کر دیا۔
یہ رپورٹ بھارت کی اُس پالیسی کو بھی بے نقاب کرتی ہے جس کے تحت وہ کشمیریوں کی آزادی کی جدوجہد کو کچلنے کے لیے مسلسل فوجی طاقت کا استعمال کرتا رہا ہے، لیکن وہ آج تک اس میں ناکام ہے۔ پاکستان کا مؤقف ہمیشہ یہی رہا ہے کہ مسئلہ کشمیر کا حل اقوام متحدہ کی قراردادوں اور کشمیری عوام کی امنگوں کے مطابق ہونا چاہیے۔
’جنگ فی الحال متوقع نہیں‘
نیشنل انٹیلیجنس ایسٹیمیٹ (NIE) کے مطابق، باوجود اس کے کہ خطے میں متعدد کشیدہ نکات موجود ہیں، بھارت اور پاکستان کے درمیان جنگ کے امکانات مجموعی طور پر پانچ میں سے ایک یعنی 20 فیصد ہیں، اور اس کی وجوہات درج ذیل ہیں:
دونوں ممالک کی قیادت ایک دوسرے کے جوہری ہتھیاروں کی صلاحیت سے خائف ہے، اس لیے ایسی کسی جھڑپ سے اجتناب کریں گے جو جوہری جنگ کی طرف جا سکتی ہو۔
بھارت اور پاکستان کی اعلیٰ قیادت کو اس بات کی شدید فکر ہے کہ اگر چوتھی جنگ ہوئی تو اسے محدود رکھنا ممکن نہیں ہوگا۔
جوہری صلاحیت کے حامل میزائلوں کی تنصیب اور جوہری ہتھیاروں کی تیاری سے دونوں ممالک کے درمیان تناؤ تو بڑھے گا، لیکن طویل المدت میں خاص طور پر پاکستان کے لیے ایک مؤثر دفاعی رکاوٹ مہیا کرے گا۔
عسکری قیادت بھی احتیاط برتے گی کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ کسی جنگ میں فتح کی کوئی قیمت قبول کرنے کے قابل نہیں ہوگی۔ دونوں افواج جنگ کے لیے مکمل تیار نہیں ہیں۔
رپورٹ کے مطابق بجٹ کی کمی، سپلائی کے مسائل، اور اندرونی سیکیورٹی کی ذمہ داریاں ان کی تیاریوں پر اثر انداز ہو رہی ہیں۔
سی آئی اے کی رپورٹ ایک مرتبہ پھر اس حقیقت کو دنیا کے سامنے لاتی ہے کہ مسئلہ کشمیر محض دو ممالک کا تنازع نہیں، بلکہ ایک قوم کی آزادی اور انسانیت کے حق کا مسئلہ ہے، جس پر بھارت قابض ہے اور دنیا کی آنکھوں میں دھول جھونک رہا ہے۔
Post Views: 1.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: بھارت اور پاکستان اور پاکستان کے کے درمیان رپورٹ میں سی آئی اے کے مطابق رہا ہے جنگ کے کے لیے
پڑھیں:
بلوچستان، جج کے قتل کے بعد کالعدم بی ایل اے اور داعش کا گٹھ جوڑ سامنے آگیا، اقوام متحدہ سے کارروائی کا مطالبہ
بلوچستان میں حالیہ دہشتگرد حملوں اور ایک جج کے قتل کے تناظر میں کالعدم بی ایل اے اور داعش کے پی کے درمیان مبینہ روابط کے حوالے سے نئے دعوے سامنے آئے ہیں۔
عوام کی جانب سے بی ایل اے کو اقوامِ متحدہ کی دہشتگرد تنظیموں کی فہرست میں شامل کرتے ہوئے کارروائی کا مطالبہ بھی کیا گیا ہے۔
عوامی حلقوں کا کہنا ہے کہ بلوچستان میں شہریوں اور عوامی انفراسٹرکچر کو نشانہ بنانے والے حملوں میں بی ایل اے ملوث رہی ہے۔
یہ بھی پڑھیں:افغانستان میں دہشتگردوں کے خلاف پاکستان کی کامیاب کارروائیاں، ٹی ٹی پی اور بی ایل اے مشترکہ پناہ گاہ ڈھونڈنے پر مجبور
اس کے نتیجے میں بے گناہ شہری اپنی جانوں سے ہاتھ دھو رہے ہیں اور صوبے میں امن و امان کی صورتحال متاثر ہو رہی ہے۔
عوامی انفراسٹرکچر پر حملوں سے شہری متاثرواضح رہے کہ عوامی انفراسٹرکچر، خصوصاً پلوں اور سڑکوں کو نشانہ بنانے سے آمدورفت، کاروباری سرگرمیوں، ہنگامی امدادی خدمات اور روزمرہ زندگی بری طرح متاثر ہوتی ہے۔
اس کا سب سے زیادہ نقصان بلوچستان کے عام شہریوں کو برداشت کرنا پڑتا ہے، جنہیں بنیادی سہولیات تک رسائی میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
جج کے قتل کو عدلیہ پر حملہ قرار دیا گیاعوامی حلقوں میں بلوچستان میں مستونگ کے علاقے میں جج کے قتل کو عدلیہ اور نظامِ انصاف پر براہِ راست حملہ قرار دیا جا رہا ہے جو کہ کالعدم بی ایل اے نے کیا جبکہ اس کی ذمہ داری داعش کے پی نے قبول کی ہے۔
سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر سینیئر صحافی اس صورتحال کو دونوں تنظیموں کے درمیان مبینہ گٹھ جوڑ کے طور پر پیش کر رہے ہیں۔
اقوامِ متحدہ سے کارروائی کا مطالبہواضح رہے کہ کالعدم داعش کے پی پہلے ہی اقوامِ متحدہ کی جانب سے دہشت گرد تنظیم قرار دی جا چکی ہے، جبکہ کالعدم بی ایل اے اب تک اقوامِ متحدہ کی دہشتگرد تنظیموں کی فہرست میں شامل نہیں ہے۔
مزید پڑھیں:ماہرنگ لانگو کے والد کی قبر پر کالعدم بی ایل اے کا پرچم لہرانے کی ویڈیو وائرل، اصل چہرہ بے نقاب
اسی بنیاد پر مطالبہ کیا گیا ہے کہ اقوامِ متحدہ کالعدم بی ایل اے کی سرگرمیوں کا جائزہ لے کر اسے فوری دہشتگرد تنظیموں کی فہرست میں شامل کیا جائے۔
ادھر خیبر پختونخوا سے سینیئر صحافی حسن خان نے ایکس پر لکھا ہے کہ ’بلوچستان کے ضلع مستونگ کے قریب سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے گن مین کے قتل کی ذمہ داری شدت پسند تنظیم آئی ایس کے پی (داعش خراسان) نے قبول کر لی ہے۔
ISKP has claimed responsibility for the targeted killing of Sessions Judge Abdul Hakeem Kakar and his gunman while they were on their way to Mastung early on Thursday. Another judge was injured in the attack, according to officials.
This ISKP claim raises questions about a…
— Hassan khan (@hasankhyber) July 23, 2026
حملے میں ایک اور جج بھی زخمی ہوئے، جبکہ واقعے کے بعد سیکیورٹی اور تحقیقاتی اداروں نے تحقیقات کا دائرہ وسیع کر دیا ہے۔
سرکاری حکام کے مطابق سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ جمعرات کی صبح مستونگ جا رہے تھے کہ نامعلوم مسلح افراد نے ان کی گاڑی کو نشانہ بنایا۔ فائرنگ کے نتیجے میں جج اور ان کا گن مین جاں بحق ہو گئے، جبکہ ایک اور جج زخمی ہوئے۔
آئی ایس کے پی کے دعوے کے بعد نئے سوالاتحملے کے چند گھنٹوں بعد آئی ایس کے پی نے اس کارروائی کی ذمہ داری قبول کر لی، جس کے بعد بعض حلقوں کی جانب سے بی ایل اے اور آئی ایس کے پی کے درمیان مبینہ روابط پر سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں:لاپتا افراد کی آڑ میں کئی نوجوان دہشتگردی میں ملوث، بی ایل اے کا مکرو چہرہ بے نقاب
کچھ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ حملے کا طریقۂ کار ماضی میں بلوچستان میں ہونے والے بعض حملوں سے مماثلت رکھتا ہے، تاہم اس مرحلے پر یہ کہنا قبل از وقت ہوگا کہ اس حملے میں کسی دوسری تنظیم کا کردار تھا یا دونوں گروہوں کے درمیان عملی تعاون موجود ہے۔
عدلیہ کو نشانہ بنانے کے محرکات کی تحقیقات جاریبعض مبصرین کے مطابق یہ حملہ عدلیہ کو خوفزدہ کرنے یا دباؤ میں لانے کی کوشش ہو سکتا ہے، خصوصاً ایسے وقت میں جب حالیہ دنوں میں بلوچ یکجہتی کونسل کی مرکزی رکن ماہ رنگ لانگو کے خلاف عدالتی فیصلہ سامنے آیا ہے۔
تحقیقاتی ادارے مختلف پہلوؤں سے واقعے کا جائزہ لے رہے ہیں تاکہ حملہ آوروں کی شناخت اور ممکنہ سہولت کاروں کا تعین کیا جا سکے۔
ایک روز قبل مسافر بس پر حملہیہ واقعہ ایسے وقت پیش آیا ہے جب ایک روز قبل بلوچستان میں مسافر بس پر حملے میں 5 افراد جاں بحق ہوئے تھے۔ سرکاری حکام نے اس حملے کا الزام بی ایل اے پر عائد کیا تھا۔
حکام کے مطابق مسلح افراد نے بس کو رکنے کا اشارہ کیا اور ڈرائیور کے گاڑی بھگانے پر اندھا دھند فائرنگ کی، جس کے نتیجے میں 5 مسافر جان کی بازی ہار گئے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اقوام متحدہ بی ایل اے پابندی خراسان داعش فہرست کالعدم بلوچستان لبریشن آرمی ماہ رنگ لانگو مطالبہ