پاک فضائیہ کی کارروائی دیکھ کر دل کیا دوبارہ یونیفارم پہن لوں، ایئر وائس مارشل (ریٹائرڈ) نصیر وائیں
اشاعت کی تاریخ: 7th, May 2025 GMT
پاک فضائیہ کے سابق ایئر وائس مارشل نصیر وائیں نے بھارت کے خلاف پاکستان کی فضائی کامیابی پر انتہائی مسرت کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ آج کی کارروائی دیکھ کر دل کیا دوبارہ سے جی سوٹ اور ہیلمٹ پہن کر جہاز میں بیٹھ جاؤں۔
یہ بھی پڑھیں: پاک بھارت کشیدگی: 5 طیارے تباہ ہونے سے بھارت کو کتنا نقصان پہنچا؟
وی نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اس چیز کا ہمیں اطمینان ہے کہ اس وقت پاک فضائیہ اچھے اور محفوظ ہاتھوں میں ہے اور جو نوجوان پائلٹس اس وقت جنگی جہاز اڑا رہے اور جو انجینیئرز جہازوں کو مینٹین کر رہے ہیں وہ یقینناً ہم سے بہتر پرفارم کریں گے۔
پاک فضائیہ نے ایک رات میں بھارت کو ایک ارب ڈالر کا نقصان پہنچایاایئر وائس مارشل ریٹائرڈ نصیر وائیں نے کہا کہ اس خبر سے میں پوری قوم کو مبارکباد دینا چاہتا ہوں کہ پاک فضائیہ نے ایک رات میں بھارت کو کتنا نقصان پہنچایا۔
انہوں نے کہا کہ ایک رافیل طیارے کی قیمت اندازاً 30 کروڑ ڈالر ہے تو اس لحاظ سے اگر 3 طیارے تباہ ہونے کی صورت میں بھارت کو ایک ارب ڈالر سے زیادہ کا نقصان پہنچ چکا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ بھارت کو پہلے سے خبردار کیا جا رہا تھا کہ اگر وہ کوئی مس ایڈونچر کریں گے تو پوری قوت سے جواب دیا جائے گا۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ اس آپریشن کی کامیابی پر پوری قوم مبارکباد کی مستحق ہے۔
بھارت نے انتہائی غیر ذمے دارانہ کارروائی کیایئر وائس مارشل نصیر وائیں نے کہا کہ بھارت نے اس کارروائی میں دور تک مار کرنے والے میزائلوں کا استعمال کیا اور ایسی صورت میں دوسرے ملک کو اندازہ نہیں ہوتا کہ آنے والا میزائل جوہری مواد سے لیس ہے یا نہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان نے بھارت کے مقابلے میں بہت ذمے دارانہ طریقے سے ردعمل دیا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ بھارت نے 6 جگہوں پر حملہ کیا اور میرے خیال سے یہ بہت بڑی بات ہے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ ایک جوہری ملک کو دوسرے جوہری ملک کے خلاف ایسا اقدام نہیں کرنا چاہیے تھا۔
انہوں نے کہا کہ یہ میرے خیال سے بہت بڑی بات ہے اور یہ بڑے پیمانے پر جنگ کے زمرے ہی میں آنا چاہیے اور اگر خدانخواستہ بڑے پیمانے پر جنگ ہوتی ہے تو پاکستان کے پاس اس سے نمٹنے کا انتظام موجود ہے۔
پاکستان کا میزائل ڈیفنس سسٹم کیسا ہے؟پاکستان کے میزائل ڈیفینس سسٹم کے بارے میں بات کرتے ہوئے نصیر وائیں نے کہا کہ پاکستان کے پاس موجود میزائل ڈیفنس سسٹم کسی طرح بھی ایس 400 سے کم نہیں ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ مجھے معلوم ہے کہ ہمارے پاس بہت بہتر ایئر ڈیفنس نظام موجود ہے اور ہمیں اس سلسلے میں پریشان ہونے کی ضرورت نہیں۔
کیا بھارتی فضائیہ نے پاکستانی حدود کی خلاف ورزی کی؟اس بات کے جواب میں نصیر وائیں نے کہا آپریشن کی تفصیلات تو آئی ایس پی آر بتا سکتا ہے لیکن دونوں ملکوں کے پاس صلاحیت ہے کہ وہ سرحد عبور کیے بغیر ایک دوسرے کے خلاف کارروائی کر سکتے ہیں۔ لیکن جب ایک میزائل نے سرحد عبور کر لی تو یہ چیز غیر اہم ہو جاتی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ جب ان کا میزائل آ گیا تو انہوں نے جنگی اقدام تو کر دیا۔
پاک فضائیہ کو کیا چیز بھارتی فضائیہ سے برتر بناتی ہے؟اس سوال کے جواب میں ایئر وائس مارشل ریٹائرڈ نصیر وائیں نے کہا کہ اس میں کچھ عناصر شامل ہیں، ایک یہ کہ آپ کو پہلے سے معلومات مل جائے کیوں کہ جتنی جلدی معلومات ملتی ہیں آپ کو ردعمل دینے کے لیے اتنا زیادہ وقت مل جاتا ہے اور اس کا انحصار آپ کی ہیومن انٹیلی جنس اور آلات پر ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان فضائی طاقت کا تناسب 1:3 ہے لیکن اس کے باوجود پاکستان نے ہمیشہ ایسی صلاحیت رکھی ہے جو بڑے سائز کی فضائی طاقت کو مات دے سکتی ہے۔
ایئر وائس مارشل ریٹائرڈ نصیر وائیں نے مزید کہا کہ اس کے بعد ایک اور عنصر یہ ہے کہ آپ کے پائلٹس کی تربیت کیسی ہے، ہم سنہ 1983 سے ایف 16 اڑا رہے ہیں، جے ایف 17 ہم سنہ 2007 سے استعمال کر رہے ہیں، جے 10 ہم 2 سال سے استعمال کر رہے ہیں تو یہ اہم بات ہے کہ ہمارے پائلٹس جن طیاروں کو اُڑا رہے ہیں اور ہمارے انجینیئرز جن طیاروں کو مینٹین کر رہے ہیں اور اس چیز میں ہمارا تجربہ کافی سالوں پر محیط ہے۔
بھارت کے رافیل طیارےاس سوال کے جواب میں نصیر وائیں نے کہا کہ رافیل کو بھارتی فضائیہ میں شامل ہوئے ابھی ڈیڑھ سے 2 سال ہوئے ہیں اور یہ بھی سننے میں آیا ہے کہ اس کی صلاحیت 100 فیصد نہیں ہے۔
پاک فضائیہ کے جوانوں کا مورال کیسا ہے؟اس سوال کے جواب میں نصیر وائیں نے کہا کہ پوری قوم اس وقت اپنے اختلافات بھلا کر اکٹھی ہو چکی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان ایئر فورس ایسی واحد فورس ہے جس میں آفیسرز سامنے آ کر لڑتے ہیں اور کسی بھی ایسے حملے کے نتیجے میں پاک فضائیہ کے پائلٹس کا جذبہ اس قدر زیادہ ہوتا ہے کہ انہیں لگتا ہے اب کام کرنے کا موقع آیا ہے۔
’قیادت کا کردار انتہائی اہم ہے‘انہوں نے کہا کہ یہ بھی اہم ہے کہ کسی ادارے کو کس طرح کی قیادت دستیاب ہے۔ اس وقت فوج اور حکومت کی قیادت پرعزم ہے اور وہ اپنی لگن کا اظہار کر رہی ہے۔ اس وقت جو فوجی اور سیاسی قیات ہے، اس نے پہلے ہی بھارت کو خبردار کیا تھا کہ اگر کسی مس ایڈونچر کی کوشش کی گئی تو اس کا بھرپور جواب دیا جائے گا۔
’بھارت کا فوجی ایکشن جنگی جرم سے بڑھ کر ایک گناہ ہے‘ایئر وائس مارشل ریٹائرڈ نصیر وائیں نے کہا کہ دنیا میں اس وقت جو جوہری صلاحیت کے حامل ملک ہیں وہ جنگی جنون کی باتیں نہیں کرتے۔ انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان کو بھارت کا کیس جوہری تحفیف کے عالمی ادارے آئی اے ای اے کے سامنے رکھنا چاہیے کہ ایک جنگی جنون میں مبتلا ملک ایک دوسرے ایسے ملک کے خلاف جنگ کی باتیں کرتا ہے جو خود بھی ایک جوہری ملک ہے۔
’مساجد پر حملہ کرنا بھارت کا ایک اور سنگین جرم‘انہوں نے کہا کہ بھارت کا دوسرا جرم یہ ہے کہ اگر بڑے پیمانے پر بھی جنگ ہو تو کوئی ملک کسی دوسرے ملک کے عبادتخانوں پر حملے نہیں کرتا جبکہ بھارت نے مسجدوں پر حملہ کیا ہے جس کا عالمی قوتوں کو نوٹس لینا چاہیے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
بھارتی طیارے رافیل پاک بھارت کشیدگی پاکستان کا میزائل ڈیفنس سسٹم سابق ایئر وائس مارشل نصیر وائیں.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: بھارتی طیارے رافیل پاک بھارت کشیدگی پاکستان کا میزائل ڈیفنس سسٹم سابق ایئر وائس مارشل نصیر وائیں ایئر وائس مارشل ریٹائرڈ نصیر وائیں نے نصیر وائیں نے کہا کہ انہوں نے مزید کہا کہ انہوں نے کہا کہ کہا کہ پاکستان کے جواب میں پاک فضائیہ کر رہے ہیں کہا کہ اس کہ بھارت بھارت نے بھارت کو بھارت کا بھارت کے ا چاہیے ہیں اور کے خلاف ہے کہ ا ہے اور
پڑھیں:
بعض حکمران عناصر بینظر انکم سپورٹ پروگرام کو ختم کرنا چاہتے ہیں، تاہم پیپلز پارٹی ایسا نہیں ہونے دے دی، بلاول بھٹو
چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ ایران میں جاری جنگ کے اثرات کے باعث معاشی بحران نے جنم لیا ہے اور موجودہ معاشی چیلنجز سے نمٹنے کی صلاحیت صرف پیپلز پارٹی کے پاس ہے، گلگت بلتستان کے عوام 7 جون کو تیر پر مہر لگائیں۔
اسکردو میں جلسے سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے پاکستان کی جانب سے امن کے قیام کے لیے کی جانے والی کوششوں کو قابل فخر قرار دیتے ہوئے امید ظاہر کی کہ جنگ بندی کے لیے کی جانے والی کاوشیں کامیاب ہوں گی۔
مزید پڑھیں: کسی پر تنقید کرکے نہیں بلکہ کارکردگی پر ووٹ مانگتا ہوں، نواز شریف کا گلگت میں خطاب
چیئرمین پیپلز پارٹی نے کہاکہ ان کی جماعت ملک کے پسماندہ اور محروم طبقات کی حقیقی نمائندہ ہے۔ ایسی ترقی اور معاشی پالیسی کا کیا فائدہ جس میں امیر مزید امیر اور غریب مزید مشکلات کا شکار ہو جائے۔
ان کا کہنا تھا کہ بینظیر انکم سپورٹ پروگرام ملک کا واحد ایسا ادارہ ہے جو براہ راست مستحق خاندانوں تک پہنچتا ہے اور اس پروگرام کے خلاف ہونے والی سیاسی سازشیں ناکام ہوں گی۔
بدقسمتی اس ملک کی ہے کہ ہمارے سیاست دان ایسے ہیں کہ جب معاشی حالات خراب ہوتے ہیں تو وہ یہ نہیں سوچتے کہ ہم اپنے امیر دوستوں کی سبسڈی کیسے ختم کریں، وہ یہ نہیں سوچتے کہ کاروباری طبقہ کتنا ٹیکس دے رہا ہے، وہ سیدھا اس پر پہنچتے ہیں کہ بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کو ختم کرو، مگر ہم یہ… pic.twitter.com/ioZikOPLZU
— WE News (@WENewsPk) June 2, 2026
انہوں نے دعویٰ کیا کہ بعض حکمران عناصر اس پروگرام کو ختم کرنا چاہتے ہیں، تاہم پیپلز پارٹی اسے بچانے کے لیے ہر ممکن اقدام کرے گی اور آئندہ بجٹ میں اس کے فنڈز میں اضافے کے لیے وزیراعظم سے بات کی جائے گی۔
بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ پاکستان کو ایٹمی طاقت بنانے کی بنیاد شہید ذوالفقار علی بھٹو نے رکھی جبکہ میزائل ٹیکنالوجی کے فروغ میں شہید محترمہ بینظیر بھٹو کا کردار نمایاں رہا۔
انہوں نے کہا کہ ماضی میں گلگت بلتستان کو شمالی علاقہ جات کہا جاتا تھا لیکن اس خطے کو موجودہ شناخت صدر آصف علی زرداری نے دی۔ ذوالفقار علی بھٹو نے بلتستان کی سرزمین سے پاکستان کو ایٹمی قوت بنانے کا اعلان کیا تھا۔
انہوں نے کہاکہ اگر 18ویں آئینی ترمیم کے تحت صوبوں کو دیے گئے اختیارات گلگت بلتستان کو بھی منتقل کر دیے جائیں تو خطے کے متعدد مسائل حل ہو سکتے ہیں۔
بلاول بھٹو نے کہاکہ حق حاکمیت کے بعد عوام کو حق ملکیت بھی ملنا چاہیے اور اسلام آباد کو تسلیم کرنا ہوگا کہ گلگت بلتستان کے وسائل پر سب سے پہلا حق مقامی آبادی کا ہے۔
انہوں نے کہا کہ جب تک اس حقیقت کو تسلیم نہیں کیا جاتا، نہ گلگت بلتستان اور نہ ہی پاکستان حقیقی ترقی کر سکتا ہے۔
پیپلز پارٹی کے چیئرمین نے سندھ حکومت کی کارکردگی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ سیلاب سے متاثرہ خاندانوں کو گھر فراہم کیے گئے اور یہی عوامی خدمت پیپلز پارٹی کی سیاست کا بنیادی محور ہے۔
ان کے مطابق پارٹی ہمیشہ عام آدمی، مزدور اور محروم طبقات کے حقوق کی سیاست کرتی آئی ہے۔
انہوں نے کہا کہ صدر آصف علی زرداری نے روٹی، کپڑا اور مکان کے نعرے کو بینظیر کارڈ کے ذریعے عملی شکل دی، جبکہ بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کو دنیا کے کئی ممالک نے قابل تقلید ماڈل قرار دیا۔
بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ مسلم دنیا میں ایٹمی صلاحیت رکھنے والا واحد ملک پاکستان ہے اور اس صلاحیت کا سہرا شہید ذوالفقار علی بھٹو کے سر جاتا ہے۔
انہوں نے کہاکہ آج بھی گڑھی خدا بخش سے پاکستان کے دفاع کی روایت جڑی ہوئی ہے۔ جنرل مشرف کے دور میں غیر ملکی ممالک کو پاکستان میں اڈے حاصل تھے، تاہم سلالہ واقعے کے بعد صدر آصف علی زرداری نے ان اڈوں کو بند کروا دیا۔
انہوں نے سی پیک کے تحت تھرکول منصوبے کو سب سے کامیاب منصوبہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ وہاں 80 فیصد ملازمتیں مقامی افراد کو فراہم کی گئیں۔
ان کا کہنا تھا کہ پیپلز پارٹی کی کوشش ہوتی ہے کہ زیادہ سے زیادہ روزگار کے مواقع پیدا کیے جائیں، جبکہ دیگر سیاسی قوتیں لوگوں کو بے روزگار کرنے کی پالیسی اپناتی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ان کی جماعت غریب نوجوانوں کو روزگار فراہم کرکے معاشی طور پر مضبوط بنانا چاہتی ہے۔
مزید پڑھیں: کسی بھی نئی آئینی ترمیم میں گلگت بلتستان کے عوامی حقوق کا تحفظ یقینی بنانا چاہیے، بلاول بھٹو
چیئرمین پیپلز پارٹی نے سندھ میں سیلاب کے بعد بحالی کے اقدامات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ایسا محسوس ہوتا تھا جیسے پورا صوبہ پانی میں ڈوب گیا ہو، تاہم حکومت 20 لاکھ متاثرہ گھروں کی تعمیر کر رہی ہے اور اتنے ہی خاندانوں کو مالکانہ حقوق کے ساتھ رہائش فراہم کی جا رہی ہے۔
بلاول بھٹو نے کہاکہ فیصلہ کیا گیا تھا کہ سڑکوں کی تعمیر سے پہلے متاثرین کو گھر دیے جائیں۔ اس منصوبے کے نتیجے میں قریباً 10 لاکھ افراد کو روزگار ملا۔
انہوں نے گلگت بلتستان کے عوام سے اپیل کی کہ 7 جون کو تیر کے انتخابی نشان پر مہر لگائیں، پیپلز پارٹی یہاں بھی سندھ طرز کے عوامی فلاحی منصوبے متعارف کرائے گی۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
wenews بلاول بھٹو چیئرمین پیپلز پارٹی گلگت بلتستان الیکشن وی نیوز