اسلام آبا((طارق محمودسمیر)بھارت کی طرف سے پہلگام واقعہ کی آڑمیں رات کی تاریکی میں بزدل اور مکاردشمن کی طرح پاکستان پر جو حملہ کیااوراس کے جواب میں پاکستانی فوج اور فضائیہ نے جوابی وارکرکے نہ صرف رافیل سمیت پانچ بھارتی اورلائن آف کنٹرول پربریگیڈکمانڈسمیت دیگرچوکیوں کو تباہ کرکے بھارت کو دندان شکن اور منہ توڑجواب دے کر ثابت کردیاہے کہ پاکستان کی مسلح افواج تعداد میں کم ہونے کے باوجود پروفیشنل اورجذبہ ایمانی سے سرشارہے،ایئرفورس کی تاریخ میں ایک گھنٹے کی فائٹ کا بھی ایک نیاریکارڈقائم ہواہے ، بھارت کی طرف سے پاکستان اور آزادکشمیرمیں ہونے والے بڑے فضائی حملے میں 70 سے80 لڑاکاطیاروں نے حصہ لیا جب کہ اس حملے کو ناکام بنانے کے لئے پاک فضائیہ کے 30لڑاکاطیاروں نے اڑان بھری،ایک گھنٹے تک فضائی جنگ ہوئی جس میں پاکستان کا پلڑابھارتی رہااور بھارت کے پانچ طیارے مارگرائے گئے جن میں رافیل،مگ 29،سخوئی وغیرہ شامل ہیں،ماہرین اور تجزیہ نگاروں کے مطابق ستمبر1965میں جب پاکستان کے ہیروایم ایم عالم نے ایک منٹ میں بھارت کے پانچ طیارے تباہ کرکے عالمی ریکارڈقائم کیاتھااور اب فضائیہ نے بہادری ،جرات مندی اور بروقت کارروائی کرکے دنیامیں یہ ثابت کردیاہیکہ پاکستان کسی سے پیچھے نہیں ہے،ستمبر1965کی جنگ میں ایم ایم عالم نے جو ریکارڈبنایاتھاوہ آج تک نہیں ٹوٹ سکا،ان کی عقابی بصیرت اور نشانہ بازی کی مہارت نے ریکارڈ قائم کرایاتھا،پٹھان کوٹ میں بھارت کے طیارے تباہ ہوئے،65ء کی جنگ میں پی اے ایف نے مجموعی طور پر دشمن کے 35طیاروں کو فضااور43کو زمین پر نشانہ بنایاجب کہ 32طیاروں کو طیارہ شکن گنوں کے ذریعے شکارکیاتھااس طرح مجموعی طورپربھارت کے 110طیارے تباہ ہوئے تھے اور پاکستا ن کے 19طیاوروں کو اس وقت نشانہ بنایاگیاگزشتہ رات کی فائٹ کا ایک جائزہ لیاجائے تو فضائی تاریخ میں اسے گھنٹے کی طویل ترین فضائی جنگ کا نام دیاجارہاہے،رافیل کمپنی کے طیارے اپناسوفیصدہدف حاصل نہ کرسکے اور ان طیاروں کو تباہ کرناایک بڑاکارنامہ ہے،دوسری طرف دیکھاجائے تو لائن آف کنٹرول پر بھی پاک فوج نے کامیاب ٹارگٹ کئے اور بھارتی فوج میدان چھوڑکربھاگی ،سفیدپرچم بھی لہرائے،پاکستان نے فوجی ٹارگٹس کو نشانہ بنایااور بھارت نے سویلینزاور مساجد کو نشانے پر لیا،پاکستانی عوام کاجوش وجذبہ قابل دیدہے،دوسری طرف قومی اسمبلی میں خطاب اور قومی سلامتی کمیٹی کے فیصلوں کے مطابق پاکستان جوابی کارروائی کا حق محفوظ رکھتاہے بالخصوص نیلم جہلم ہائیڈروپاورپروجیکٹ اور سویلینزکو نشانہ بنانے پر پاکستان کی مسلح افواج کو وزیراعظم کی طرف سے اختیارات دیئے گئے ہیں اورپاک فوج کے ترجمان نے واضح طور پر اعلان کیاہے کہ پاکستان اپنی پلاننگ اور اپنے وضع کردہ ٹارگٹس پر اپنے وقت پر کارروائی کرے گا،بھارت کی اس جارحانہ سوچ اور روش پر سخت عالمی ردعمل آیااور امریکی صدرنے بھارتی حملے کو شرمناک قراردیاجب کہ امریکی وزیرخارجہ سمیت دیگرعالمی رہنماوں نے پاکستانی قیادت سے رابطے کئے ،وزیردفاع خواجہ آصف نے سی این این کو انٹرویومیں اس خدشے کااظہارکیاہے کہ مزیدحملے ہوسکتے ہیںاور بھارت کی طرف سے لائن آف کنٹرول اور ورکنگ باونڈری کے علاوہ عالمی بارڈرکی خلاف ورزی کامقصدجنگ کے دائرہ کارکو پھیلاناہے،قومی اسمبلی میں قومی یکجہتی کا بھی اظہارکیاگیااوروزیراعظم نے طویل عرصے بعدپی ٹی آئی رہنماوں کو بھائی کرمذاکرات کی دعوت دی ہے جو خوش آئندہے،سیاسی ماحول بہتربناناضروری ہے اورتحریک انصاف کے ساتھ مذاکرات کا عمل دوربارہ بحال ہوناچاہئے اوراس حوالے سے چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹرگوہرنے بھی مثبت ردعمل دیاہے۔

Post Views: 3.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

کلیدی لفظ: کی طرف سے بھارت کی بھارت کے

پڑھیں:

علاقائی کشیدگی اور بحرین میں شیعہ اکثریتی آبادی کو نشانہ بنانے کی پالیسی

اسلام ٹائمز: موجودہ پیش رفت کو دو بنیادی زاویوں سے سمجھا جا سکتا ہے، نمبر ایک سکیورٹی ریاست سے نظریاتی مخالف ریاست کی طرف منتقلی اور دوسرا علاقائی طور پر کشیدہ حالات کو سکیورٹی کنٹرول کے فروغ کے لیے استعمال کرنا۔ بعض تجزیہ کاروں کے مطابق بحرینی سرکاری بیانیہ اب مخصوص افراد کے خلاف قانونی کارروائی سے آگے بڑھ کر ایک مذہبی نظریے اور مرجعیت (ولایتِ فقیہ) کو بذاتِ خود خطرہ قرار دینے کی سمت جا رہا ہے۔ اس تبدیلی کے نتیجے میں شیعہ شہریوں کے ایک وسیع طبقے کو ممکنہ خطرے کے منصوبے کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے۔ ان کے نزدیک یہ رجحان ایک ایسی ریاست کی علامت ہے جو محض سیاسی مخالفین کا تعاقب کرنے کے بجائے ایک مخصوص مذہبی تعبیر کو قابلِ قبول قرار دیتی ہے اور اس سے ہٹ کر ہر نظریے کو جرم تصور کرتی ہے۔ تحریر: عبداللہ البحرانی

مملکتِ بحرین میں شیعہ اکثریتی آبادی کو نشانہ بنانے کے اقدامات میں نمایاں شدت آ گئی ہے، جو وسیع پیمانے پر گرفتاریوں، شہریت کی منسوخی اور مذہبی شعائر پر پابندیوں کی صورت میں ظاہر ہو رہی ہے۔ مرآۃ البحرین کے حوالے سے عبداللہ البحرانی نے لکھا کہ یہ پیش رفت ایک ایسے حساس علاقائی ماحول میں رونما ہو رہی ہے جہاں داخلی سلامتی کے خدشات بدلتے ہوئے علاقائی اتحادوں کے ساتھ جڑے ہوئے ہیں، خصوصاً اسرائیل کے ساتھ تعلقات کی معمول سازی اور ایران کے ساتھ بڑھتی ہوئی کشیدگی کے بعد۔ اس رپورٹ کا مقصد سرکاری بیانات، انسانی حقوق کے اداروں کے ردِعمل اور سرکاری مؤقف کے تقابلی جائزے کے ذریعے اس مہم کے سیاسی اور قانونی پہلوؤں کا تجزیہ کرنا ہے۔

تاریخی اور سیاسی پس منظر:
انہوں نے لکھا کہ بحرین میں حکومت اور شیعہ اکثریتی آبادی، جو ملک کی اکثریتی آبادی پر مشتمل ہے، ان کے درمیان کشیدگی ایک طویل عرصے سے موجود ہے۔ اس کشیدگی کی جڑیں سیاسی نمائندگی، اصلاحات کے مطالبات اور امتیازی سلوک کے الزامات میں پیوست ہیں۔ یہ تناؤ خاص طور پر 2011ء کے عوامی احتجاجی مظاہروں کے بعد بڑھ گیا، جب احتجاجی تحریک کو سخت سکیورٹی کارروائیوں کا سامنا کرنا پڑا اور شیعہ کارکنان اور علمائے دین کو نمایاں طور پر نشانہ بنایا گیا۔

حالیہ پیش رفت، مئی 2026 کی مہم:
البحرانی کے مطابق مئی 2026 کے آغاز میں بحرین کی وزارتِ داخلہ نے اعلان کیا کہ ایران کے خلاف جنگ کی مخالفت کرنے والے بحرینی شہریوں کے ایک گروہ سے متعلق کارروائی کی گئی ہے اور 41 افراد کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔ ان افراد پر جارحیت کا جواب دینے کے حوالے سے ایران کے مؤقف سے ہمدردی کا الزام عائد کیا گیا۔ یہ اعلان بحرین کے فرمانروا شاہ حمد بن عیسیٰ آل خلیفہ کے اپریل 2026 کے اواخر میں دیے گئے اس بیان کے فوراً بعد سامنے آیا جس میں انہوں نے کہا تھا کہ بحرینی شہریت کوئی ایسا کاغذ نہیں جو محض عطا کر دیا جائے، بلکہ یہ ایک عہد و پیمان ہے، اور جو اس عہد کو توڑے گا وہ اپنے ہاتھوں سے اپنے حق کو ساقط کر دے گا۔ اس بیان کو شہریت کی منسوخی کی دھمکی کے طور پر دیکھا گیا۔ بعد ازاں مئی 2026 کے آغاز میں حکومت نے 69 افراد کی شہریت منسوخ کرنے کے فیصلے جاری کیے، جن میں بعض کے اہلِ خانہ بھی شامل تھے۔ اسی طرح پانچ افراد کو عمر قید اور مزید 24 افراد کو پانچ سے دس سال تک قید کی سزائیں سنائی گئیں۔ ان تمام افراد پر ایران کے ردِعمل کی حمایت یا تائید سے متعلق الزامات عائد کیے گئے تھے۔

مذہبی آزادیوں اور انسانی حقوق پر پابندیاں:
البحرانی کے مطابق یہ مہم صرف سکیورٹی پہلو تک محدود نہیں رہی بلکہ اس نے مذہبی آزادی اور آزادیِ عقیدہ کو بھی متاثر کیا ہے۔ تنظیم Americans for Democracy & Human Rights in Bahrain (ADHRB) نے مارچ 2026 میں اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل کے 61ویں اجلاس کے دوران بحرین میں شیعہ مذہبی رسومات پر بڑھتی ہوئی پابندیوں کی مذمت کی۔ تنظیم نے کعبہ کے ماڈل اور دیگر مذہبی علامات کو ہٹانے، نیز المعامیر گاؤں میں مذہبی تقریبات میں شرکت کرنے والوں کی طلبی اور گرفتاریوں کی نشاندہی کی۔ انسانی حقوق کی رپورٹس کے مطابق یہ اقدامات کوئی نئی بات نہیں بلکہ 2011ء سے شیعہ اکثریتی آبادی کے حقوق پر جاری دباؤ کا تسلسل ہیں، جن میں مساجد کی بندش، نمازِ جمعہ پر پابندیاں اور مذہبی مناسبات کے انعقاد میں رکاوٹیں شامل ہیں۔

سیاسی اور قانونی پہلو:
البحرانی کا کہنا ہے کہ موجودہ پیش رفت کو دو بنیادی زاویوں سے سمجھا جا سکتا ہے، نمبر ایک سکیورٹی ریاست سے نظریاتی مخالف ریاست کی طرف منتقلی اور دوسرا علاقائی طور پر کشیدہ حالات کو سکیورٹی کنٹرول کے فروغ کے لیے استعمال کرنا۔ بعض تجزیہ کاروں کے مطابق بحرینی سرکاری بیانیہ اب مخصوص افراد کے خلاف قانونی کارروائی سے آگے بڑھ کر ایک مذہبی نظریے اور مرجعیت (ولایتِ فقیہ) کو بذاتِ خود خطرہ قرار دینے کی سمت جا رہا ہے۔ اس تبدیلی کے نتیجے میں شیعہ شہریوں کے ایک وسیع طبقے کو ممکنہ خطرے کے منصوبے کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے۔ ان کے نزدیک یہ رجحان ایک ایسی ریاست کی علامت ہے جو محض سیاسی مخالفین کا تعاقب کرنے کے بجائے ایک مخصوص مذہبی تعبیر کو قابلِ قبول قرار دیتی ہے اور اس سے ہٹ کر ہر نظریے کو جرم تصور کرتی ہے۔

علاقائی حالات سے فائدہ اٹھانے کی عوام دشمن پالیسی:
البحرانی نے مزید لکھا کہ یہ داخلی مہم خطے میں رونما ہونے والی بڑی تبدیلیوں کے ساتھ جڑی ہوئی ہے، خصوصاً امریکہ اور اسرائیل ایک جانب اور ایران دوسری جانب بڑھتی ہوئی کشیدگی کے تناظر میں، جو فروری 2026 میں مسلح تصادم تک جا پہنچی۔ ان کے مطابق بحرینی حکومت اس ماحول کو داخلی سکیورٹی کنٹرول مضبوط کرنے کے لیے استعمال کر رہی ہے اور ایران کے حامی سمجھے جانے والے کسی بھی عوامی یا مذہبی رجحان کو قومی سلامتی کے لیے خطرہ قرار دے رہی ہے۔ یہ طرزِ عمل ایک نئی علاقائی سکیورٹی حکمتِ عملی کا حصہ معلوم ہوتا ہے جس کی بنیاد اسرائیل کے ساتھ تعلقات کی معمول سازی، ایران کے ساتھ سیاسی و سکیورٹی مخالفت اور اس مؤقف سے اختلاف رکھنے والی عوامی یا مذہبی سرگرمیوں کو جرم قرار دینے پر رکھی گئی ہے۔

چند تجاویز:
البحرانی کے مطابق دہشت گردی سے نمٹنے یا بیرونی فریقوں سے تعلقات کے نام پر بحرین میں شیعہ اکثریتی آبادی کو نشانہ بنانا انسانی حقوق اور بنیادی آزادیوں، خصوصاً مذہبی آزادی، آزادیِ عقیدہ اور حقِ شہریت کی صریح خلاف ورزی ہے۔ مذہبی شناخت کو سکیورٹی خطرے سے جوڑنے کا عمل خوف اور عدم استحکام کی فضا پیدا کرتا ہے اور بحرینی معاشرے کے سماجی تانے بانے کے لیے خطرہ بن جاتا ہے۔ البحرانی نے سفارشات پیش کی ہیں کہ من مانی گرفتاریوں اور شہریت کی منسوخی کا فوری خاتمہ کیا جائے، جن شہریوں کی شہریت منسوخ کی گئی ہے، انہیں ان کا حق واپس دیا جائے، مذہبی آزادی اور آزادیِ عقیدہ کا مکمل احترام کیا جائے، شیعہ مذہبی شعائر اور رسومات پر عائد پابندیاں ختم کی جائیں، بحرین اپنے بین الاقوامی انسانی حقوق کے معاہدوں اور ذمہ داریوں کی پابندی کرے، معاشرے کے تمام طبقات کی شمولیت سے ایک جامع قومی مکالمہ شروع کیا جائے تاکہ کشیدگی کے اسباب کا جائزہ لے کر قومی مفاہمت کی راہ ہموار کی جا سکے، مضمون کے اختتام پر البحرانی نے زور دیا کہ پائیدار استحکام اور قومی یکجہتی کے لیے جامع اور بامعنی قومی مذاکرات ناگزیر ہیں۔

متعلقہ مضامین

  • دنیا شدید گرمی اور تباہ کن موسم کے لیے تیار ہوجائے، اقوام متحدہ نے بڑی وارننگ جاری کردی 
  • آبنائے ہرمز میں کشیدگی میں اضافہ: قشم جزیرے پر امریکی حملے، ایران کے کویت اور بحرین میں امریکی اہداف پر وار
  • کیا لاہور کو آؤٹ سائیڈرز نے تباہ کیا ہے؟
  • بھارت میں ’کاکروچ جنتا پارٹی‘ کیا ہے اور یہ بھارتی حکومت کے لیے دردِ سر کیوں بن گئی ہے؟
  • امریکا، اسرائیل کو جارحیت کے دوران ایرانی فضائی دفاع نے بھاری نقصان پہنچایا، ایرانی کمانڈر
  • فیکٹ چیک: تھائی لینڈ کی ویڈیو پاکستانی فوجی افسر سے منسوب کرنے کی بھارتی کوشش ناکام
  • علاقائی کشیدگی اور بحرین میں شیعہ اکثریتی آبادی کو نشانہ بنانے کی پالیسی
  • تاریخ میں پہلی بار پاکستان کے دو پروجیکٹ اقوام متحدہ کی سطح پر شارٹ لسٹ
  • بھارت: میسی کا 70 فٹ بلند مجسمہ حفاظتی خدشات کے باعث ہٹا دیا گیا
  • افغان ٹیم پہلی بار بھارت میں ٹی ٹوئنٹی سیریز کی میزبانی کرے گی