سٹی42:  بھارت کے  ہندوتوا کو دنیا پر مسلط کرنے کا خواب دیکھنے والے احمق وزیراعظم نریندر مودی کی پاکستانی ائیر بیسز پر حملوں کی ناپاک جسارت کے  بعد دانت توڑ دینے والا جواب ملا تو چار ہی گھنٹے کے کاؤنٹر اوفینسو نے نریندر مودی کے دوست ڈونالڈ ٹرمپ کو صلح کا جھنڈا لہرانے اور بھارت ک یطرف سے  سیز فائر کی پیش کش کرنے پر مجبور کر دیا۔  

 ڈونلڈ ٹرمپ ای کدن پہلے تک کہہ رہے تھے کہ وہ پاکستان کو بھارت ک یجارحیت سے بچانے کے لئے مداخلت نہین کرین  گے، آج صبح پاکستان کے بنیان مرصوص کے  قلندرانہ  کاؤنٹر اوفینسو آپریشن کے صرف چار ہی گھنٹے کے بعد انڈیا کی قیادت گھٹنوں پر آ گئی، رو رو کر واشنگٹن کے ہاؤٹ ہاؤس کو آنسوؤں کے سیلاب سے ڈبو دیا۔ دو دن پہلے"پاکستان اور اندیا کے جھگڑے"  مین مداخلت کرنے والے ٹرمپ نے آک نئی دہلی میں اپنے  ساتھی نریندر مودی کو مکمل بربادی سے بچانے کے لئے پہلے اپنے وزیر خارجہ مارکو روبیو  کے ذریعہ  پاکستان کے وزیر خارجہ اسحاق ڈار تک پیغام پہنچایا کہ اندیا اب ڈی ایسکلیشن چاہتا ہے، سیز فائر کر دیجئے۔

پاک بھارت کشیدگی، وزارت داخلہ میں کنٹرول سنٹر  قائم

اب کچھ دیر پہلے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک سوشل پوسٹ میں اعلان کیا ہے کہ پاکستان انڈیا کے ساتھ سیز فائر پر مان گیا ہے۔

 جو بات ٹرمپ بتانے  سے شرما گئے وہ یہ ہے کہ فتح ون کے ٹھڈے کھا کھا کر انڈیا  کی ہندوتوا کی بالادستی کے خمار سے نکل چکی قیادت نے رو رو کر پاکستان سے سیز فائر کی بھیک مانگی ہے۔

Waseem Azmet.

ذریعہ

ذریعہ: City 42

کلیدی لفظ: سیز فائر

پڑھیں:

ٹرمپ کو ریلیف مل گیا؛ امریکی سینیٹ نے ایران جنگ ختم کرنے کی قرارداد مسترد کر دی

امریکی سینیٹ نے ایران کے ساتھ جاری فوجی تنازع میں امریکا کی شمولیت ختم کرنے کے لیے پیش کی گئی جنگی اختیارات کی قرارداد مسترد کر دی۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق امریکی سینیٹ نے جمعرات کو صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران کے خلاف جاری فوجی کارروائیوں سے امریکی افواج واپس بلانے کی ہدایت دینے والی قرارداد منظور کرنے سے انکار کر دیا۔

میری لینڈ سے تعلق رکھنے والے ڈیموکریٹ سینیٹر کرس وین ہولن کی پیش کردہ وار پاورز ریزولوشن پر ووٹنگ ہوئی تاہم قرارداد 47 کے مقابلے میں 49 ووٹوں سے مسترد ہوگئی اور مطلوبہ حمایت حاصل نہ کرسکی۔

ریپبلکن سینیٹر سوسن کولنز نے اپنی جماعت کی پالیسی کے برعکس قرارداد کے حق میں ووٹ دیا جبکہ ڈیموکریٹ سینیٹر جان فیٹرمین نے اپنی پارٹی سے اختلاف کرتے ہوئے قرارداد کی مخالفت کی۔

تین سینیٹرز نے رائے شماری میں حصہ نہیں لیا جن میں سینیٹر کیٹی برٹ، مچ میک کونل، لیزا مرکووسکی اور رینڈ پال شامل ہیں۔

اس قرارداد میں مطالبہ کیا گیا تھا کہ اگر کانگریس باقاعدہ جنگ کا اعلان نہ کرے یا صدر کو خصوصی اجازت نہ دے، تو صدر ٹرمپ ایران کے اندر یا ایران کے خلاف جاری فوجی کارروائیوں سے امریکی افواج کو واپس بلائیں۔

ڈیموکریٹ ارکان اور بعض ریپبلکن قانون سازوں کا مؤقف ہے کہ ایران کے خلاف موجودہ فوجی کارروائیوں میں صدر ٹرمپ نے کانگریس کے اس آئینی اختیار کو نظر انداز کیا ہے جس کے تحت صرف کانگریس کو جنگ کا اعلان کرنے کا اختیار حاصل ہے۔

اس سے چند گھنٹے قبل امریکی ایوانِ نمائندگان نے ایران جنگ محدود کرنے کی اپنی وار پاورز قرارداد منظور کی تھی تاہم اسے گزشتہ ماہ کے مقابلے میں ایک ووٹ کم ملا جس سے کانگریس میں بھی اس معاملے پر اختلافات نمایاں ہیں۔

گزشتہ ماہ بھی سینیٹ نے اسی نوعیت کی ایک قرارداد 50 کے مقابلے میں 48 ووٹوں سے منظور کی تھی۔ اس وقت چند ریپبلکن ارکان نے بھی ڈیموکریٹس کا ساتھ دیا تھا لیکن اس وقت ایران اور امریکا کے درمیان جنگ بندی نافذ تھی اور مزید امریکی جانی نقصان نہیں ہوا تھا۔

آئینی ماہرین کے مطابق 1973 کے وار پاورز ایکٹ کا مقصد صدر کے فوجی اختیارات پر کانگریس کی نگرانی کو یقینی بنانا تھا لیکن اب تک کسی بھی امریکی صدر نے اسے مکمل طور پر پابند قانون کے طور پر تسلیم نہیں کیا۔

مزید یہ کہ اس قانون کی آئینی حیثیت پر کبھی امریکی عدالتوں نے حتمی فیصلہ نہیں دیا اسی لیے اگر قرارداد منظور بھی ہو جاتی تو اس کے نتیجے میں صدر کو فوری طور پر فوج واپس بلانے کا قانونی پابند بنانا مشکل ہوتا۔

 

 

متعلقہ مضامین

  • سونم وانگچک نے 26 روز تک جاری رہنے والی اپنی بھوک ہڑتال ختم کر دی
  • ٹرمپ کو ریلیف مل گیا؛ امریکی سینیٹ نے ایران جنگ ختم کرنے کی قرارداد مسترد کر دی
  • ’سب کچھ تیار ہے‘ ٹرمپ نے ایران پر تاریخ کے سب سے بڑے حملے کا اشارہ دیدیا
  • فیفا ورلڈ کپ دیکھنے کیلیے کینیڈا جانیوالے 175 غیر ملکیوں نے سیاسی پناہ مانگ لی
  • مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال قابو سے باہر، فوری جنگ بندی ضروری ہے، انتونیو گوتریس
  • ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدہ ابراہیمی معاہدہ میں شمولیت سے مشروط کر دیا
  • گل فیروزہ، سدرہ امین اور نشرہ سندھو کی شاندار کارکردگی، پاکستان نے سری لنکا کیخلاف پہلا پہلے ون ڈے جیت لیا
  • مودی کا امتحانی پرچے لیک کرنے والوں کے خلاف فاسٹ ٹریک عدالتیں قائم کرنے کا اعلان
  • سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے:سینیٹر شیری رحمان
  • مقبوضہ کشمیر میں تیز بارشیں، بھارت نے پانی کا بڑا ریلہ پاکستان کی جانب چھوڑ دیا