جی ایچ کیو حملہ اور 9 مئی مقدمات کی سماعت پھر ملتوی؛ ملزمان پر فرد جرم کی تاریخ مقرر
اشاعت کی تاریخ: 17th, May 2025 GMT
راولپنڈی:جی ایچ کیو حملہ اور 9 مئی کے 13 مقدمات کی سماعت ایک بار پھر ملتوی ہو گئی جب کہ عدالت نے ملزمان پر فرد جرم عائد کرنے کے لیے تاریخ مقرر کردی۔
نجی ٹی وی کے مطابق سانحہ 9 مئی کے 13 مقدمات اور جی ایچ کیو حملہ کیس کی سماعت انسداد دہشت گردی عدالت کے جج امجد علی شاہ کے روبرو ہوئی، جس میں سرکاری پراسیکیوٹر، وکلائے صفائی ملک فیصل اور ان کی ٹیم اور ملزمان عدالت پہنچے۔
علاوہ ازیں رکن قومی اسمبلی شاندانہ گلزار، سابق وزیر داخلہ اور عوامی مسلم لیگ کے سربراہ شیخ رشید احمد، سپرنٹنڈنٹ اڈیالہ جیل، زرتاج گل اور علیمہ خان و دیگر کمرہ عدالت میں پہنچے، جہاں شیخ رشید حاضری لگوا کر واپس روانہ ہوئے۔
دوران سماعت جی ایچ کیو حملہ کیس کے گواہوں کے عدالت نہ آنے پر جیل ٹرائل ایک بار پھر ٹل گیا جب کہ 26 نومبر تحریک انصاف احتجاج سے متعلق 23 مقدمات میں ملزمان میں چالان کی نقول تقسیم کردی گئیں۔
علاوہ ازیں سانحہ 9 مئی کے 11 مقدمات میں بھی عدالت میں حاضر ملزمان ملزمان میں چالان کی نقول تقسیم کی گئی۔
بعد ازاں عدالت نے 26نومبر تحریک انصاف احتجاج سے متعلق 32 کیسز کی سماعت 3جون تک ملتوی کردی۔ آئندہ تاریخ پر ملزمان پر فرد جرم عائد کی جائے گی۔
عدالت میں کیسز کی سماعت کے موقع پر بانی پی ٹی آئی کے وکیل فیصل ملک نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ہم نے عدالت سے کہا ہے کہ ہم ٹرائل کے لیے تیار ہیں، ہمیں جیل لے کر چلیں ۔ بانی چیئرمین سے کیس کی مشاورت بھی کرنی ہے۔ ان کی درخواست ہے کہ 9 مئی کے تمام کیسز یکجا کیے جائیں۔
زرتاج گل نے میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ جھوٹے اور بے بنیاد کیسز ہیں، انہیں ختم ہو جانا چاہیے۔
Post Views: 6.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: جی ایچ کیو حملہ کی سماعت مئی کے
پڑھیں:
مستونگ میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ فائرنگ میں شہید، گن مین بھی جاں بحق
بلوچستان کے ضلع مستونگ میں قومی شاہراہ پر نامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ کے نتیجے میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے گن مین شہید ہوگئے، جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہو گئے۔ واقعے کے بعد قانون نافذ کرنے والے اداروں نے علاقے کو گھیرے میں لے کر حملہ آوروں کی تلاش اور تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔
ڈپٹی کمشنر مستونگ بہرام سلیم کے مطابق سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کوئٹہ سے مستونگ جا رہے تھے کہ قومی شاہراہ پر نامعلوم مسلح افراد نے ان کی گاڑی پر اندھا دھند فائرنگ کر دی۔ حملے کے نتیجے میں سیشن جج اور ان کے گن مین موقع پر ہی شہید ہوگئے، جبکہ گاڑی میں سوار ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہوئے۔
واقعے کے فوری بعد شہداء اور زخمیوں کو قریبی اسپتال منتقل کیا گیا، جہاں زخمیوں کو طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔ سکیورٹی فورسز نے جائے وقوعہ کو گھیرے میں لے کر شواہد اکٹھے کیے اور حملہ آوروں کی گرفتاری کے لیے سرچ آپریشن شروع کر دیا ہے۔
دوسری جانب بلوچستان بار کونسل نے حملے کو نظامِ انصاف پر دہشت گردانہ حملہ قرار دیتے ہوئے شدید مذمت کی ہے۔ بار کونسل نے واقعے کے خلاف صوبہ بھر میں دو روزہ عدالتی ہڑتال اور تین روزہ سوگ کا اعلان کیا ہے۔ اعلامیے میں ججز، وکلا اور شہریوں کی سکیورٹی یقینی بنانے، حملے میں ملوث عناصر کی فوری گرفتاری اور انہیں قانون کے مطابق سزا دینے کا مطالبہ بھی کیا گیا۔
وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی اور صوبائی وزیر داخلہ میر ضیاء اللہ لانگو نے بھی واقعے کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے شہداء کے اہل خانہ سے اظہار تعزیت کیا۔ انہوں نے متعلقہ اداروں کو حملہ آوروں کی فوری گرفتاری اور واقعے کی جامع تحقیقات کی ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ ذمہ دار عناصر کو قانون کی گرفت سے نہیں بچنے دیا جائے گا۔