راولپنڈی:جی ایچ کیو حملہ اور 9 مئی کے 13 مقدمات کی سماعت ایک بار پھر ملتوی ہو گئی جب کہ عدالت نے ملزمان پر فرد جرم عائد کرنے کے لیے تاریخ مقرر کردی۔

نجی ٹی وی کے مطابق سانحہ 9 مئی کے 13 مقدمات اور جی ایچ کیو حملہ کیس کی سماعت انسداد دہشت گردی عدالت کے جج امجد علی شاہ کے روبرو ہوئی، جس میں سرکاری پراسیکیوٹر، وکلائے صفائی ملک فیصل اور ان کی ٹیم اور ملزمان عدالت پہنچے۔

علاوہ ازیں رکن قومی اسمبلی شاندانہ گلزار، سابق وزیر داخلہ اور عوامی مسلم لیگ کے سربراہ شیخ رشید احمد، سپرنٹنڈنٹ اڈیالہ جیل، زرتاج گل اور علیمہ خان و دیگر کمرہ عدالت میں پہنچے، جہاں شیخ رشید حاضری لگوا کر واپس روانہ ہوئے۔

دوران سماعت جی ایچ کیو حملہ کیس کے گواہوں کے عدالت نہ آنے پر جیل ٹرائل ایک بار پھر ٹل گیا جب کہ 26 نومبر تحریک انصاف احتجاج سے متعلق 23 مقدمات میں ملزمان میں چالان کی نقول تقسیم کردی گئیں۔

علاوہ ازیں سانحہ 9 مئی کے 11 مقدمات میں بھی عدالت میں حاضر ملزمان ملزمان میں چالان کی نقول تقسیم کی گئی۔

بعد ازاں عدالت نے 26نومبر تحریک انصاف احتجاج سے متعلق 32 کیسز کی سماعت 3جون تک ملتوی کردی۔ آئندہ تاریخ پر ملزمان پر فرد جرم عائد کی جائے گی۔

عدالت میں کیسز کی سماعت کے موقع پر بانی پی ٹی آئی کے وکیل فیصل ملک نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ہم نے عدالت سے کہا ہے کہ ہم ٹرائل کے لیے تیار ہیں، ہمیں جیل لے کر چلیں ۔ بانی چیئرمین سے کیس کی مشاورت بھی کرنی ہے۔ ان کی درخواست ہے کہ 9 مئی کے تمام کیسز یکجا کیے جائیں۔

زرتاج گل نے میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ جھوٹے اور بے بنیاد کیسز ہیں، انہیں ختم ہو جانا چاہیے۔

Post Views: 6.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

کلیدی لفظ: جی ایچ کیو حملہ کی سماعت مئی کے

پڑھیں:

کم از کم ماہانہ اجرت 45 ہزار مقرر کرنے کی سفارش

اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)پاکستان انسٹیٹیوٹ آف ڈویلپمنٹ اکنامکس (پائیڈ) نے آئندہ مالی سال کیلئے کم از کم ماہانہ اجرت 45 ہزار روپے مقرر کرنے کی سفارش کر دی۔

نجی ٹی وی چینل ہم نیوز کے مطابق پائیڈ نے کم از کم اجرت کے تعین کیلئے شواہد پر مبنی فریم ورک رپورٹ تیار کرلی، کم از کم اجرت 40 ہزار سے بڑھا کر 45 ہزار روپے کرنے کی تجویز دی گئی ہے، اس طرح تنخواہوں میں 12.5 فیصد اضافہ ممکن ہوگا۔

رپورٹ کے مطابق کم از کم ماہانہ تنخواہ میں 12.5 فیصد اضافے سے کم آمدنی والے طبقے کی قوتِ خرید بہتر ہوگی اور انہیں مہنگائی کے اثرات سے تحفظ مل سکے گا۔ پائیڈ کا کہنا ہے کہ اجرتی پالیسی کا اثر غربت، روزگار، گھریلو طلب اور مقامی معیشت پر براہِ راست پڑتا ہے، اس لیے کم از کم اجرت کا معاملہ اب صرف لیبر ڈیپارٹمنٹ تک محدود نہیں رہا۔

اے این پی نے سوشل میڈیا پر مذہبی اشتعال انگیز مہم کیخلاف این سی سی آئی اے میں درخواست جمع کرادی

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ جولائی تا اپریل مالی سال 2025-26 کے دوران اوسط افراطِ زر 6.19 فیصد رہی، جبکہ اپریل 2026 میں سالانہ بنیادوں پر مہنگائی کی شرح 10.9 فیصد ریکارڈ کی گئی۔

پائیڈ نے زور دیا ہے کہ اجرتوں کو مہنگائی اور موجودہ معاشی حقائق کے مطابق بنایا جائے تاکہ سماجی استحکام، غربت میں کمی اور معاشی سرگرمیوں کے فروغ کو یقینی بنایا جا سکے۔
 

مزید :

متعلقہ مضامین

  • کم از کم ماہانہ اجرت 45 ہزار مقرر کرنے کی سفارش
  • پنجاب حکومت کے دو پراجیکٹ ورلڈ سمٹ انفارمیشن سوسائٹی کی ٹاپ لسٹ میں شامل، دنیا میں پاکستان کا تشخص نمایاں ہوا: مریم نواز
  • جسٹس ریٹائرڈ مقبول باقر سندھ انسانی حقوق کمیشن کے چیئرپرسن مقرر
  • بجلی کی قیمت میں ایک روپے 72 پیسے اضافے کا امکان
  • مالی سال 26-2025 کے اختتام پر کلیمز جمع کرانے کی آخری تاریخ 12 جون مقرر
  • سپریم کورٹ: اے پی ایس شہداء لواحقین کو پیکیج نہ ملنے پر وفاقی حکومت سے جواب طلب
  • تاریخ میں پہلی بار پاکستان کے دو پروجیکٹ اقوام متحدہ کی سطح پر شارٹ لسٹ
  • اے پی ایس شہدا کے لواحقین کو معاوضہ پیکج کی عدم ادائیگی، سپریم کورٹ نے وفاقی حکومت سے جواب طلب کرلیا
  • زیر التوا مقدمات کو جلد نمٹانے کے لیے سپریم کورٹ کا بڑا انتظامی فیصلہ
  • سارا انعام قتل کیس: شاہنواز امیر کی اپیلوں پر سماعت موسم گرما کی تعطیلات کے بعد تک ملتوی