175 بلین ڈالر کا امریکی دفاعی منصوبہ گولڈن ڈوم کیا ہے؟ کیسے کام کرتا ہے؟
اشاعت کی تاریخ: 22nd, May 2025 GMT
اسلام ٹائمز: مقامی سطح پر گولڈن ڈوم کو ڈیموکریٹس کی مخالفت کا بھی سامنا کرنا پڑا ہے۔ قانون ساز نظام کی خریداری کے عمل کے بارے میں فکر مند ہیں، خاص طور پر ٹرمپ کے اتحادی ایلون مسک کی کمپنی اسپیس ایکس کی اس منصوبے میں ممکنہ شمولیت کی روشنی میں۔ ایلون مسک کی اسپیس ایکس، پلانٹیر اور انڈرل جیسی کمپنیاں اس منصوبے کے لیے کلیدی اجزا تیار کرنے میں سب سے آگے بتائی جا رہی ہیں۔ قانون ساز اس بارے میں بھی شکوک و شبہات کا شکار ہیں کہ آیا یہ کتنا کارآمد ثابت ہو گا۔ خصوصی رپورٹ:
امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے منگل کے روز ایک ایسے دفاعی نظام تیار کرنے کے منصوبے کی نقاب کشائی کی، جو آنے والے میزائلوں کا پتہ لگانے، ٹریک کرنے اور ممکنہ طور پر انہیں روکنے کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ان کے "گولڈن ڈوم" نامی اس منصوبے پر 175 بلین امریکی ڈالر کی لاگت آئے گی۔ صدر ٹرمپ کا کہنا ہے کہ وہ چاہتے ہیں کہ یہ میری مدت ختم ہونے سے پہلے ہی مکمل طور پر کام کرنا شروع کر دے۔ ٹرمپ نے اس پروگرام کے لیے ابتدائی 25 بلین ڈالر کا مطالبہ کیا ہے۔ ٹیکس میں کمی سے متعلق ایک بڑے بل میں اس منصوبے کو بھی شامل کیا گیا ہے، جس کا کانگریس میں فی الحال جائزہ لیا جا رہا ہے۔ ٹرمپ نے وائٹ ہاؤس میں کہا کہ انتخابی مہم کے دوران میں نے امریکی عوام سے وعدہ کیا تھا کہ میں ایک جدید میزائل ڈیفنس شیلڈ بناؤں گا۔
گولڈن ڈوم کیوں؟
ٹرمپ کا کہنا ہے کہ ایک بار مکمل طور پر تعمیر ہونے کے بعد گولڈن ڈوم ایسے میزائلوں کو روکنے کے قابل ہو گا، جو چاہے وہ دنیا کے دوسرے اطراف سے لانچ کیے جائیں اور چاہے وہ خلا میں کہیں سے بھی بھیجے جائیں۔ انہوں نے دلیل دی کہ یہ ہمارے ملک کی کامیابی اور یہاں تک کہ بقا کے لیے بھی بہت اہم ہے۔ "ٹرمپ نے کہا کہ ڈوم کے مزید وسیع اہداف میں سے زمین، سمندر اور خلا میں اگلی نسل کی ٹیکنالوجیز سمیت خلائی سینسرز اور انٹرسیپٹرز کی تعیناتی شامل ہو گی۔
وائٹ ہاؤس میں ہی امریکی صدر کے ساتھ بات کرتے ہوئے پنٹاگون کے سربراہ پیٹ ہیگستھ نے کہا کہ اس نظام کا مقصد وطن کو، چاہے وہ روایتی ہوں یا جوہری، کروز میزائلوں، بیلسٹک میزائلوں، ہائپر سونک میزائلوں اور ڈرونز سے بچانا ہے۔ صدر ٹرمپ سے جب پوچھا گیا کہ کیا فوجی کمانڈروں نے اس نظام کا مطالبہ کیا ہے، تو انہوں نے جواب دیا، میں نے تجویز کیا اور سب نے کہا کہ ہمیں یہ خیال پسند ہے جناب۔
کیسے کام کرتا ہے؟
میزائل شیلڈ کا مقصد آنے والے میزائلوں کا پتہ لگانا، انہیں ٹریک کرنے اور ممکنہ طور پر روکنے کے لیے سیٹلائٹ کا ایک نیٹ ورک تیار کرنا ہے۔ اس ڈوم میں میزائل کا پتہ لگانے اور انہیں ٹریک کرنے کے لیے سینکڑوں سیٹلائٹس کو تعینات کرنے کی صلاحیت ہو گی۔اس کا نام اور تصور اسرائیل کے آئرن ڈوم ایئر ڈیفنس سسٹم سے ہی ماخوذ ہے، جس نے سن 2011 میں کام شروع کرنے کے بعد سے ہزاروں کم فاصلے تک مار کرنے والے راکٹ اور دیگر پروجیکٹائل کو روکنے کا کام کیا ہے۔ تاہم امریکہ کے لیے میزائل سے خطرات، مختصر فاصلے تک مار کرنے والے ہتھیاروں سے بالکل مختلف ہیں، جو عام طور پر اسرائیل کا آئرن ڈوم کرتا ہے۔
سن 2022 میں امریکی میزائل ڈیفنس ریویو میں روس اور چین سے بڑھتے ہوئے خطرات کا حوالہ دیا گیا تھا۔ ایک طرف جہاں بیجنگ بیلسٹک اور ہائپرسونک میزائل ٹیکنالوجی میں ترقی کر رہا ہے، تو دوسری جانب ماسکو بھی اپنے بین البراعظمی رینج کے میزائل سسٹم کو جدید بنا رہا ہے اور جدید ترین درستگی سے مار کرنے والے میزائل تیار کر رہا ہے۔ امریکی جائزے میں شمالی کوریا اور ایران سے بیلسٹک میزائلوں کے بڑھتے ہوئے خطرات کی طرف بھی اشارہ کیا گیا تھا۔
خدشات کیا ہیں؟
روس اور چین دونوں نے ہی میزائل شیلڈ تیار کرنے کے منصوبوں پر تنقید کی ہے۔ اس ماہ کے اوائل میں انہوں نے اس منصوبے کو گہرا عدم استحکام قرار دیا تھا اور دلیل دی کہ گولڈن ڈوم سے خلا کو میدان جنگ میں تبدیل کرنے کا خطرہ پیدا ہو گیا ہے۔ چین اور روس کے درمیان بات چیت کے بعد کریملن نے ایک بیان میں کہا کہ ڈوم کا یہ منصوبہ واضح طور پر جنگی کارروائیوں کے لیے خلا میں ہتھیاروں کو نمایاں طور پر تعینات کرنے اور مضبوط بنانے کے لیے موقع فراہم کرتا ہے۔
امریکہ میں مقامی سطح پر گولڈن ڈوم کو ڈیموکریٹس کی مخالفت کا بھی سامنا کرنا پڑا ہے۔ قانون ساز نظام کی خریداری کے عمل کے بارے میں فکر مند ہیں، خاص طور پر ٹرمپ کے اتحادی ایلون مسک کی کمپنی اسپیس ایکس کی اس منصوبے میں ممکنہ شمولیت کی روشنی میں۔ ایلون مسک کی اسپیس ایکس، پلانٹیر اور انڈرل جیسی کمپنیاں اس منصوبے کے لیے کلیدی اجزا تیار کرنے میں سب سے آگے بتائی جا رہی ہیں۔ قانون ساز اس بارے میں بھی شکوک و شبہات کا شکار ہیں کہ آیا یہ کتنا کارآمد ثابت ہو گا۔
2022 کی میزائل دفاعی جائزہ رپورٹ میں روس اور چین سے بڑھتے خطرات کی نشاندہی کی گئی تھی۔ رپورٹ کے مطابق بیجنگ بیلسٹک اور ہائپر سونک میزائل ٹیکنالوجی میں واشنگٹن کے برابر آ رہا ہے جبکہ ماسکو بین البراعظمی میزائل نظام کو جدید بنا رہا ہے اور جدید ترین درست حملے کرنے والے میزائل تیار کر رہا ہے۔ اس رپورٹ میں مزید خبردار کیا گیا تھا کہ ڈرونز کا خطرہ، جو یوکرین کی جنگ میں کلیدی کردار ادا کر چکے ہیں، مزید بڑھے گا۔ اس کے ساتھ ساتھ شمالی کوریا اور ایران سے بیلسٹک میزائل خطرات اور غیر ریاستی عناصر سے راکٹ و میزائل حملوں کی بھی نشاندہی کی گئی۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: ایلون مسک کی والے میزائل اسپیس ایکس تیار کرنے گولڈن ڈوم کرنے والے کرنے کے کیا گیا کرتا ہے تیار کر کہا کہ رہا ہے کیا ہے کے لیے
پڑھیں:
ایران-امریکا مجوزہ معاہدہ، عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت میں کمی
ایران کی جانب سے امریکا کے ساتھ مجوزہ معاہدے پر نظرثانی کی رپورٹس کے بعد عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت گر گئی ہے۔
غیرملکی خبرایجنسی نے بتایا کہ ایران کی جانب سے امریکی مجوزہ معاہدے کا جائزہ لینے کی ایرانی میڈیا کی رپورٹس کے بعد عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتیں کم ہوگئی ہیں جو پہلے سیشن میں بلند ہوگئی تھیں۔
عالمی مارکیٹ میں برینٹ خام تیل کی قیمت 0.69 ڈالر یا 0.7 فیصد کمی کے ساتھ 94.29 ڈالر فی بیرل اور ویسٹ ٹیکساس کی قیمت 0.82 ڈالر یا 0.9 فیصد کمی کے بعد 91.34 ڈالر فی بیرل کی سطح پر آگئی ہے۔
گزشتہ کے اواخر میں امریکا اور ایران کے درمیان امن معاہدے کی امیدوں کی توقعات پر تیل کی قیمت 16 فیصد سے زیادہ کمی آئی تھی لیکن گزشتہ روز برینٹ اور ویسٹ ٹیکساس کی قیمتوں میں بالترتیب 3 اور 5 فیصد اضافہ ہوگیا تھا۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بیان میں کہا تھا کہ ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں اور اگلے ہفتے کے بعد جنگ بندی میں توسیع اور آبنائے ہرمز کی بحالی کے لیے معاہدہ ہوسکتا ہے۔
ایرانی میڈیا نے رپورٹ کیا کہ عارضی امریکا تجاویز پر تاحال ایران کی جانب سے کوئی جواب نہیں دیا گیا ہے تاہم جائزہ لیا جا رہا ہے۔
امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات میں پیش رفت کی رپورٹس کے باوجود آبنائے ہرمز سے تیل کی سپلائی بدستور محدود ہے اور ماہرین نے تیل کے سرمایہ کاروں کے لیے یہ خطرناک قرار دیا ہے۔