ملک میں سیاسی یکجہتی کا ماحول ہونا چاہیے، شاہد خاقان عباسی
اشاعت کی تاریخ: 25th, May 2025 GMT
کوٹلہ موسیٰ خان میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے سربراہ عوام پاکستان پارٹی کا کہنا تھا کہ بھارت نے جارحیت کا مظاہرہ کیا، مسلح افواج نے جواب دے کر برتری حاصل کی۔ انہوں نے کہا کہ جس طرح پاک بھارت جنگ میں پوری قوم نے یکجہتی کا مظاہرہ کیا، اسی طرح ملک میں سیاسی یکجہتی کا ماحول ہونا چاہیے۔ اسلام ٹائمز۔ سابق وزیراعظم و سربراہ عوام پاکستان پارٹی شاہد خاقان عباسی نے کہا ہے ملک میں سیاسی یکجہتی کا ماحول ہونا چاہیے۔ جنوبی پنجاب کے نواحی علاقہ کوٹلہ موسیٰ خان میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے شاہد خاقان عباسی کا کہنا تھا کہ بھارت نے جارحیت کا مظاہرہ کیا، مسلح افواج نے جواب دے کر برتری حاصل کی۔ انہوں نے کہا کہ جس طرح پاک بھارت جنگ میں پوری قوم نے یکجہتی کا مظاہرہ کیا، اسی طرح ملک میں سیاسی یکجہتی کا ماحول ہونا چاہیے۔
سربراہ عوام پاکستان پارٹی کا کہنا تھا کہ میں اصولوں کی سیاست کرتا ہوں، میاں نواز شریف سے دیرینہ تعلق رہا ہے، انہوں نے سیاست کے عروج پر ووٹ کو عزت دو والا بیانیہ چھوڑ دیا۔ شاہد خاقان عباسی کا مزید کہنا تھا کہ کسان اور زراعت کی ترقی کے بغیر کوئی ملک معاشی ترقی نہیں کرسکتا، 2200 روپے فی من گندم میں کاشتکار کے اخراجات پورے نہیں ہورہے، اگلی فصل کیسے کاشت کرے گا۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: شاہد خاقان عباسی کا مظاہرہ کیا کہنا تھا کہ
پڑھیں:
مہاجرین کی نشستوں کے مستقبل پر بڑا فیصلہ قریب، اہم پیش رفت سامنے آگئی
مظفرآباد: مہاجرین کی نشستیں آزاد جموں و کشمیر کی سیاست میں ایک بار پھر توجہ کا مرکز بن گئی ہیں، جہاں ان نشستوں کے مستقبل سے متعلق اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔ ذرائع کے مطابق وفاقی حکومت نے اس معاملے پر نرم رویہ اختیار کرتے ہوئے مکمل خاتمے کے بجائے نشستوں کی تعداد میں کمی کی تجویز پر غور شروع کر دیا ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ وادی کشمیر سے تعلق رکھنے والے مہاجرین کی چھ نشستیں کم کرنے کی ابتدائی تجویز زیر غور ہے۔ اس پیش رفت کو انتخابی اصلاحات کے حوالے سے ایک اہم قدم قرار دیا جا رہا ہے، جس سے طویل عرصے سے جاری سیاسی بحث کو کسی نتیجے تک پہنچانے میں مدد مل سکتی ہے۔
اطلاعات کے مطابق وفاقی حکومت جلد آزاد کشمیر کی قیادت کو اپنے مؤقف سے آگاہ کرے گی۔ اس سلسلے میں وزیراعظم آزاد کشمیر کی جانب سے جوائنٹ پبلک ایکشن کمیٹی سے رابطے کا بھی امکان ظاہر کیا جا رہا ہے تاکہ مختلف سیاسی اور سماجی حلقوں کو اعتماد میں لیا جا سکے۔
دوسری جانب آزاد کشمیر میں انتخابی اصلاحات کے موضوع پر کل ہونے والی آل پارٹیز کانفرنس بھی غیر معمولی اہمیت اختیار کر گئی ہے۔ سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ مہاجرین کی نشستیں کم کرنے کی تجویز پر اتفاق رائے پیدا ہونے سے انتخابی نظام میں اصلاحات کی راہ ہموار ہو سکتی ہے۔
ذرائع کے مطابق اس معاملے پر مختلف سیاسی جماعتوں اور اسٹیک ہولڈرز کے درمیان مشاورت جاری ہے، جبکہ وفاقی حکومت بھی ایسا حل تلاش کرنے کی کوشش کر رہی ہے جو تمام فریقوں کے لیے قابل قبول ہو۔
سیاسی حلقوں کا ماننا ہے کہ اگر اس معاملے پر اتفاق رائے پیدا ہو جاتا ہے تو یہ آزاد کشمیر کی سیاسی تاریخ میں ایک اہم سنگ میل ثابت ہو سکتا ہے۔