Islam Times:
2026-07-24@01:38:50 GMT

وزیراعظم پاکستان کا ایران کے حق میں جرات مندانہ مؤقف

اشاعت کی تاریخ: 27th, May 2025 GMT

وزیراعظم پاکستان کا ایران کے حق میں جرات مندانہ مؤقف

اسلام ٹائمز: وزیراعظم پاکستان جناب شہباز شریف کا حالیہ دورۂ ایران نہ صرف دو برادر اسلامی ممالک کے مابین اخوت و اعتماد کے رشتے کو مزید مضبوط کرنے کا سبب بنا، بلکہ انہوں نے اس موقع پر جس جرات مندی اور حکمت سے بین الاقوامی اور امتِ مسلمہ کے اہم ترین مسائل پر پاکستان کا مؤقف پیش کیا، وہ قابلِ تحسین اور لائقِ فخر ہے۔ جناب وزیراعظم نے ایران کے پرامن ایٹمی پروگرام کی مکمل حمایت کرتے ہوئے اسے ایران کا جائز اور بنیادی حق قرار دیا۔ ان کا یہ مؤقف نہ صرف انصاف پر مبنی ہے بلکہ بین الاقوامی سطح پر طاقت کے یکطرفہ استعمال اور دباؤ کے خلاف ایک واضح پیغام بھی ہے۔ پاکستان نے ہمیشہ پرامن ایٹمی توانائی کے حق کو تسلیم کیا ہے اور اس مرتبہ جناب شہباز شریف نے اسے دوٹوک انداز میں دہرا کر ایران کے ساتھ یکجہتی کا عملی ثبوت فراہم کیا۔ تحریر: آغا زمانی

وزیراعظم اسلامی جمہوریہ پاکستان میاں محمد شہباز شریف اور چیف آف آرمی اسٹاف جنرل سید عاصم منیر نے جمہوری اسلامی ایران کا دو روزہ سرکاری دورہ کیا۔ یہ دورہ ایسے وقت میں عمل میں آیا، جب خطے کی جغرافیائی اور سیاسی صورتحال غیر معمولی کشیدگی کا شکار ہے، خصوصاً اسرائیل کی طرف سے جاری جارحیت، فلسطینیوں کی نسل کشی اور مسلم امہ کی تقسیم کے تناظر میں۔ ایسے میں وزیراعظم پاکستان کا ایران کا دورہ اور وہاں دیئے گئے بیانات ایک غیر معمولی سیاسی و سفارتی اہمیت کے حامل ہیں۔ وزیراعظم شہباز شریف نے ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ العظمیٰ سید علی خامنہ ای سے ملاقات کے دوران جس عاجزی، عقیدت اور روحانی احترام کا مظاہرہ کیا، خصوصاً جوتے اتار کر ملاقات کرنا، وہ عالمی سفارت کاری میں ایک غیر روایتی مگر بامعنی قدم ہے۔ یہ عمل نہ صرف تہذیبی شائستگی کی علامت ہے بلکہ اسلامی شعائر سے جڑے سیاسی رویوں کا مظہر بھی ہے۔ ناقدین نے بھی اس عمل کو خراج تحسین پیش کیا، جو قومی سیاست میں ایک غیر معمولی اتفاقِ رائے کو ظاہر کرتا ہے۔

ایران اور پاکستان تاریخی، ثقافتی، مذہبی اور جغرافیائی طور پر باہم جُڑے ہوئے ہیں۔ ایران نے 1947ء میں سب سے پہلے پاکستان کو تسلیم کیا اور وقت کے ساتھ ساتھ دونوں ممالک نے ایک دوسرے کا ساتھ دیا۔ اس دورے نے ان تعلقات کو نہ صرف رسمی طور پر بلکہ قلبی طور پر بھی مضبوط کیا۔ وزیراعظم نے ایران کو دوسرا گھر قرار دے کر جذباتی وابستگی کا اظہار کیا، جو دونوں اقوام کو مزید قریب لانے میں مؤثر ثابت ہوسکتا ہے۔ وزیراعظم نے ایران کے ساتھ کھڑے ہو کر نہ صرف غاصب اسرائیلی مظالم کی کھل کر مذمت کی بلکہ فلسطینیوں کے حقِ خود ارادیت کی بھرپور حمایت کی۔ ان کا یہ بیانیہ پاکستان کی روایتی پالیسی کا تسلسل تو ہے، لیکن جس جرات مندی، وضاحت اور عالمی ضمیر کو جھنجھوڑنے کے انداز میں اسے پیش کیا گیا، وہ لائقِ تحسین ہے۔ اس بیانیے نے پاکستان کو ایک بار پھر امتِ مسلمہ کے ضمیر کی ترجمانی کرنے والی ریاست کے طور پر متعارف کرایا ہے۔

وزیراعظم شہباز شریف نے ایران کے پرامن ایٹمی پروگرام کی مکمل حمایت کا اعلان کرتے ہوئے اسے ایران کا بنیادی حق قرار دیا۔ یہ بیان نہ صرف ایران کے لیے ایک اخلاقی اور سفارتی پشت پناہی ہے بلکہ مغربی طاقتوں کو طاقت کے یکطرفہ استعمال کے خلاف ایک اصولی پیغام بھی ہے۔ اس مؤقف نے پاکستان کو انصاف پسند اور خوددار مسلم ریاست کے طور پر پیش کیا ہے۔ دورے کے دوران وزیراعظم پاکستان نے ایرانی صدر ڈاکٹر مسعود پزشکیان اور سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای سے اہم ملاقاتیں کیں۔ ان ملاقاتوں میں باہمی تجارتی، دفاعی، سرحدی اور ثقافتی امور پر گفتگو ہوئی۔ ایرانی قیادت نے وزیراعظم کے مؤقف کو سراہا اور پاکستان کی ترقی و استحکام کے لیے خصوصی دعاؤں کا اہتمام کیا۔

وزیراعظم شہباز شریف کا یہ دورہ ایک رسمی سفارتی دورے سے کہیں بڑھ کر تھا۔ ان کا انداز، بیانات اور ایران کے ساتھ اظہارِ یکجہتی نہ صرف دونوں ممالک کے تعلقات کو نئی جہت دے رہے ہیں بلکہ امت مسلمہ کے اتحاد، عالمی عدل و انصاف اور مظلوموں کے حق میں ایک مضبوط آواز بن کر ابھر رہے ہیں۔ یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ یہ دورہ ایک تاریخی موڑ ہے، جو نہ صرف پاکستان اور ایران کے تعلقات کو مستحکم کرے گا بلکہ عالمِ اسلام میں پاکستان کے مؤقف کو نئی وقعت دے گا۔ وزیراعظم کا یہ جرات مندانہ، اصولی اور بصیرت افروز مؤقف آنے والے وقت میں مسلم دنیا کے لیے ایک نئی سمت متعین کرسکتا ہے۔

وزیراعظم پاکستان جناب شہباز شریف کا حالیہ دورۂ ایران نہ صرف دو برادر اسلامی ممالک کے مابین اخوت و اعتماد کے رشتے کو مزید مضبوط کرنے کا سبب بنا، بلکہ انہوں نے اس موقع پر جس جرات مندی اور حکمت سے بین الاقوامی اور امتِ مسلمہ کے اہم ترین مسائل پر پاکستان کا مؤقف پیش کیا، وہ قابلِ تحسین اور لائقِ فخر ہے۔ جناب وزیراعظم نے ایران کے پرامن ایٹمی پروگرام کی مکمل حمایت کرتے ہوئے اسے ایران کا جائز اور بنیادی حق قرار دیا۔ ان کا یہ مؤقف نہ صرف انصاف پر مبنی ہے بلکہ بین الاقوامی سطح پر طاقت کے یکطرفہ استعمال اور دباؤ کے خلاف ایک واضح پیغام بھی ہے۔ پاکستان نے ہمیشہ پرامن ایٹمی توانائی کے حق کو تسلیم کیا ہے اور اس مرتبہ جناب شہباز شریف نے اسے دوٹوک انداز میں دہرا کر ایران کے ساتھ یکجہتی کا عملی ثبوت فراہم کیا۔

اسی طرح غاصب اسرائیل کی جاری جارحیت، فلسطینی عوام کی نسل کشی اور انسانی حقوق کی سنگین پامالیوں کے خلاف وزیراعظم کا ایران کے ساتھ کھڑا ہونا ایک تاریخی قدم ہے۔ انہوں نے واضح الفاظ میں فلسطینیوں کے حقِ خود ارادیت، آزادی اور انصاف کی حمایت کی اور اسرائیلی مظالم کی کھل کر مذمت کی۔ ان کے یہ بیانات صرف پاکستان کی روایتی فلسطین پالیسی کی تائید نہیں بلکہ مظلوموں کے ساتھ عملی ہمدردی اور ظالم کے خلاف ڈٹ جانے کا عزم ہیں۔ یہ بیانات نہ صرف پاکستان کے عوام کے جذبات کی عکاسی کرتے ہیں، بلکہ عالمی ضمیر کو جھنجھوڑنے کی ایک سنجیدہ کوشش بھی ہیں۔ وزیراعظم شہباز شریف نے امتِ مسلمہ کے ایک ذمہ دار راہنماء کی حیثیت سے جو آواز بلند کی ہے، وہ آج کے شور زدہ اور دباؤ زدہ عالمی ماحول میں ایک تازہ ہوا کا جھونکا ہے۔

ہم بطور پاکستانی، وزیراعظم کے ان جرات مندانہ بیانات پر فخر محسوس کرتے ہیں اور دعا گو ہیں کہ برادر اسلامی ملک ایران کے ساتھ تعلقات مزید مضبوط ہوں اور عالمِ اسلام مظلوموں کے حق میں ایک صف میں کھڑا ہو کر عالمی انصاف کے لیے مؤثر کردار ادا کرے اور یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ شہباز شریف کا یہ رویہ محض ایک رسمی ملاقات کا حصہ نہیں بلکہ پاک ایران تعلقات کی روحانی گہرائیوں کی ایک جھلک ہے، جو آنے والے وقت میں دونوں ممالک کے لیے خیر و برکت کا ذریعہ بن سکتی ہے۔(منگل، 27 مئی 2025ء ، 29 ذیقعدہ 1446ھ)

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: وزیراعظم شہباز شریف وزیراعظم نے ایران وزیراعظم پاکستان جناب شہباز شریف ایران کے ساتھ شہباز شریف کا شہباز شریف نے بین الاقوامی پرامن ایٹمی نے ایران کے پاکستان کا ایران کا مسلمہ کے ممالک کے پیش کیا میں ایک کے خلاف ہے بلکہ کے لیے بھی ہے

پڑھیں:

وزیراعظم کا  آئی ٹی برآمدات 4.6 ارب ڈالر تک پہنچنے پر اطمینان کا اظہار

سٹی42: وزیراعظم محمد شہباز شریف کی زیرِ صدارت آئی ٹی شعبے کے اسٹرٹیجک روڈ میپ پر پیش رفت کا جائزہ لینے کے لیے اعلیٰ سطح کا اجلاس منعقد ہوا، جس میں وزارتِ انفارمیشن ٹیکنالوجی و ٹیلی کام کی کارکردگی اور ڈیجیٹل معیشت کے فروغ سے متعلق اقدامات پر بریفنگ دی گئی۔

پاکستان کے ماحولیاتی نمونوں میں پولیو وائرس کی مثبت شرح میں کمی آگئی

اجلاس میں وزیراعظم نے پاکستان کی سالانہ آئی ٹی برآمدات میں 21 فیصد اضافے کے ساتھ 4.6 ارب امریکی ڈالر تک پہنچنے پر وزیرِ انفارمیشن ٹیکنالوجی اور متعلقہ ٹیم کو مبارکباد دی۔ انہوں نے کہا کہ آئی ٹی برآمدات میں نمایاں اضافہ حکومت کی ڈیجیٹل معیشت کے فروغ کے لیے اختیار کی گئی پالیسیوں کا نتیجہ ہے اور آئی ٹی شعبے کی ترقی حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے۔ وزیراعظم نے ہدایت کی کہ آئی ٹی سے متعلق تربیتی کورسز کی معتبر تھرڈ پارٹی ویلیڈیشن یقینی بنائی جائے اور تربیت کے معیار پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہ کیا جائے۔ انہوں نے ملک بھر میں ڈیجیٹل انفراسٹرکچر کو مزید بہتر بنانے کی بھی ہدایت کی۔

جعلی امیدواروں کی شامت، پی پی ایس سی امتحانات میں بائیو میٹرک نظام نافذ

اجلاس کو بریفنگ میں بتایا گیا کہ موبائل اسپیکٹرم جون 2025 کے 274 میگا ہرٹز سے بڑھ کر جون 2026 میں 880 میگا ہرٹز ہو چکا ہے، جس سے انٹرنیٹ کی رفتار اور کنیکٹیویٹی میں نمایاں بہتری آئے گی۔ اس کے علاوہ "کنیکٹ پاکستان وژن 2030" کے اجراء کی تیاریوں سے بھی آگاہ کیا گیا۔بریفنگ کے مطابق باغ، آزاد جموں و کشمیر میں سافٹ ویئر ٹیکنالوجی پارک مکمل ہو چکا ہے، جبکہ پاکستان میں اسمارٹ فون استعمال کرنے والوں کا تناسب 2024 کے 62 فیصد سے بڑھ کر جون 2026 میں 72 فیصد ہو گیا ہے۔ جون 2026 تک 5.1 ملین گھروں کو فکسڈ براڈ بینڈ یا فائبر کنکشن فراہم کیے جا چکے ہیں۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ گزشتہ مالی سال آئی ٹی برآمدات میں فری لانسرز کا حصہ 1.164 ارب ڈالر رہا، جبکہ "ڈیجیٹل نیشن پاکستان" کے تحت 130 سرکاری خدمات کو ڈیجیٹلائز کیا جا چکا ہے۔ اسی عرصے میں آئی ٹی شعبے میں 942,646 تربیتی سرٹیفکیٹس جاری کیے گئے، 5,053 ہائی اینڈ تربیتی پروگرام اور لیڈرشپ و سافٹ اسکلز سے متعلق 2,700 تربیتی سیشنز منعقد کیے گئے۔

بارشی پانی کی نکاسی نہ ہونے سے گاڑیاں اور موٹرسائیکلیں بند، شہری شدید مشکلات کا شکار

بریفنگ میں مزید بتایا گیا کہ ویمن انوویشن اینڈ اسٹارٹ اپ ایمپاورمنٹ لیب کا افتتاح جلد کیا جائے گا، جبکہ چینی کمپنی علی بابا کے ساتھ مفاہمتی یادداشت کے تحت متعدد وفاقی وزارتوں اور اداروں میں مصنوعی ذہانت کے منصوبوں اور تربیتی پروگراموں پر کام جاری ہے۔

اجلاس میں وفاقی وزراء اعظم نذیر تارڑ، احد خان چیمہ، شزا فاطمہ خواجہ، خالد مقبول صدیقی، وزیرِ مملکت بلال اظہر کیانی، گورنر اسٹیٹ بینک جمیل احمد اور متعلقہ اعلیٰ سرکاری حکام نے شرکت کی۔

شہر میں بارش سے بجلی کا ترسیلی نظام متاثر، 130 سے زائد فیڈرز بند

متعلقہ مضامین

  • ایران عرب ممالک پر نہیں بلکہ شیطانی اور دہشتگردی کے اڈوں پر حملے کر رہا ہے، علامہ رمضان توقیر
  • علی الزیدی کا ایران کا اہم دورہ، دوطرفہ تعلقات بڑھانے پر اتفاق
  • سعودی توانائی معاہدہ ابراہیمی معاہدوں سے مشروط، وائٹ ہاؤس نے ٹرمپ کا مؤقف دہرا دیا
  • کالم نگار کو بیوروکریسی کے بارے میں مبینہ ریمارکس پر نوٹس صرف مؤقف حاصل کرنے کے لیے جاری کیا گیا تھا، اس پر کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی، سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں این سی سی آئی کی بریفنگ
  • وزیراعظم کا  آئی ٹی برآمدات 4.6 ارب ڈالر تک پہنچنے پر اطمینان کا اظہار
  • وزیر اعظم شہباز شریف سے چینی کاروباری وفد کی ملاقات، بزنس ٹو بزنس شراکت داری سے پاک چین دوستی مزید مستحکم ہو گی ، وزیر اعظم
  • فیلڈ مارشل، میں اور قوم سعودیہ کیساتھ ہیں، وزیراعظم کا ولی عہد سے رابطہ، آئل ٹینکرز پر حملے کی مذمت
  • پاکستان کے دفاع، سیکیورٹی کے شعبے میں ٹیکنالوجی کا استعمال قابل فخر ہے، وزیراعظم
  • رائیونڈ کا ایک شہری اب آزاد کشمیر کا وزیراعظم بننا چاہتا ہے، بلاول بھٹو
  • شہباز شریف سمیت حکومتی شخصیات کو 21 تحائف ملے، توشہ خانہ کا ریکارڈ جاری