مودی شکست خوردہ وزیراعظم ہے،صرف دھمکیاں دے سکتا ہے، وفاقی وزیراطلاعات
اشاعت کی تاریخ: 28th, May 2025 GMT
مودی شکست خوردہ وزیراعظم ہے،صرف دھمکیاں دے سکتا ہے، وفاقی وزیراطلاعات WhatsAppFacebookTwitter 0 28 May, 2025 سب نیوز
لاچین (سب نیوز)وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ نے کہا ہے کہ ترکیہ اور آذر بائیجان کے ساتھ اسٹریٹجک تعلقات ہیں، وزیراعظم شہبازشریف نے جو ڈپلومیسی شروع کی ہے اس سے پاکستان کے بین الاقوامی تعلقات مضبوط ہوں گے۔
آذربائیجان کے د ورے پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ ہم اللہ تعالی کا شکر ادا کرتے ہیں جس نے ہمیں معرکہ حق اور آپریشن بنیان مرصوص میں فتح دی، میں سمجھتا ہوں کہ یہ پاکستان کی بڑی خوش قسمتی ہے کہ وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اس وقت ہمارے ساتھ اس دورے پر موجود ہیں۔انہوں نے کہا کہ بھارت کے خلاف پاکستان کی فتح پر ترکیہ اور آذر بائیجان کے عوام نے بڑی خوشیاں منائیں، آج آذر بائیجان کا یوم جمہوریہ ہے اور ہمارا یوم تکبیر ہے، اور یہاں پر ایک جشن کا سماں ہے۔
انہوں نے کہا کہ میں سمجھتا ہوں کہ یہ جو ڈپلومیسی وزیراعظم پاکستان کی طرف سے شروع کی گئی ہے، یہ پاکستان کے بین الاقوامی تعلقات کو مزید مضبوط کرے گی، معرکہ حق میں فتح کے بعد ان دوروں کی اہمیت مزید بڑھ گئی ہے۔وفاقی وزیر نے کہا کہ ہمارا مشرقی ہمسایہ اب اپنی ہزیمت مٹانے کے لیے طرح طرح کے بیانات دے رہا ہے،تو ایک ہارا ہوا وزیراعظم اور ایک ناکام سیاست دان اس طرح کے بیانات دے رہا ہے، مودی شکست خوردہ وزیراعظم ہے،صرف دھمکیاں دے سکتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ہمارے وزیراعظم اور ہمارے فیلڈ مارشل سید عاصم منیر بیرونی دوروں پر ہیں، بیرون ملک جا رہے ہیں اور پاکستان کا مقدمہ پوری دنیا مان رہی ہے، اور دوسری طرف ہمارا جو مشرقی ہمسایہ ہے، وہ بوکھلاہٹ کا شکار ہے۔عطا تارڑ نے کہا پاکستان کی فتح کے حوالے سے بات چیت پوری دنیا میں ہوتی رہے گی اور قیام امن میں پاکستان کے کردار کو پوری دنیا مانے گی، پاکستان اور پاکستانیوں کے لیے ایک فخر کا مقام ہے کہ پاکستان کی تجارت اور مختلف شعبوں میں جو تعاون ہے، اس کے فروغ کے لیے ہم کتنا آگے بڑھے ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ دیکھیں کل یہ فیصلہ ہوا ہے کہ وفود کی سطح پر جلد ایک ملاقات ہوگی جس میں مزید پیشرفت ہوگی، اور معاملات کو حتمی شکل دی جائے گی، تو اس حوالے سے بھی آذربائیجان کے صدر بہت زیادہ پرجوش نظر آئے اور وہ چاہتے ہیں کہ پاکستان اور آذربائیجان کے تعلقات کو ایک اور سطح پر لے کر جایا جائے۔وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ آج جو سہ فریقی مذاکرات ہورہے ہیں تو یہ میں سمجھتا ہوں کہ تینوں ممالک کے عوام، تینوں ممالک کی حکومتیں، اور تینوں ممالک کی قیادت، یہ آپس میں ہم آہنگ ہیں۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرڈاکٹر عبدالقدیر پاکستان کیلئے بہت کچھ کرنا چاہتے تھے، لیکن کرنے نہیں دیا گیا، بیٹی کا شکوہ ڈاکٹر عبدالقدیر پاکستان کیلئے بہت کچھ کرنا چاہتے تھے، لیکن کرنے نہیں دیا گیا، بیٹی کا شکوہ ایران کا امریکی معائنہ کاروں کو جوہری تنصیبات کے معائنے کی اجازت دینے پر غور کا عندیہ مظفرآباد،پولیس کی گاڑی گہری کھائی میں گرنے سے 5اہلکار شہید الیکشن کمیشن نے پنجاب سے سینیٹ کی خالی نشست پر انتخاب موخر کر دیا پاکستان میں ذی الحج 1446ہجری کا چاند نظر آگیا وفاقی وزیر احسن اقبال کا این ایف سی ایوارڈ میں تقسیم وسائل کا معیار تبدیل کرنے کا مطالبہCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہمارے بارے ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
پڑھیں:
مودی حکومت کی غیرملکی فنڈنگ قانون میں ترمیم سے تنقیدی آوازوں کودبانے کی کوشش
عالمی ادارہ ایمنسٹی انٹرنیشنل بھارت میں غیر سرکاری تنظیموں اور تنقیدی آوازوں کو دبانےکا مذموم منصوبہ سامنے لے آیا۔
ایمنسٹی انٹرنیشنل سمیت8انسانی حقوق کی تنظیموں نے فارن کنٹری بیوشن ریگولیشن ایکٹ کے قواعد میں کی جانے والی ترمیم واپس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔ ایمنسٹی انٹرنیشنل کی رپورٹ کےمطابق بھارت کے نئےغیرملکی فنڈنگ قوانین، سول سوسائٹی پر سخت نگرانی اورتنظیم سازی کی آزادی کے حق کو دبا رہے ہیں۔
انسانی حقوق،پالیسی تحقیق،عوامی شعور،قانونی اصلاحات اورحکومتی احتساب پرکام کرنے والی ہزاروں تنظیمیں زد میں آئیں گی ، بھارت کے قوانین عالمی اصولوں کیخلاف ہیں جن کے ذریعے این جی اوز پرغیر ضروری اور حد سے زیادہ پابندیاں عائد کی گئیں۔
بھارتی حکومت گزشتہ ایک دہائی میں انسانی حقوق کی 22 ہزار 498تنظیموں کی رجسٹریشن منسوخ کر کےانہیں کام سے روک چکی ، اقوام متحدہ کے خصوصی نمائندے بھی 2016میں این جی اوز پر پابندیوں کے کالے قوانین کو ختم کرنے کا مطالبہ کر چکے ہیں۔
اقوام متحدہ کے خصوصی نمائندوں کے مطابق بھارتی حکومت یہ قوانین تنقید کرنے والی این جی اوزکو دبانے کیلئے استعمال کر رہی ہے۔ مالیاتی شفافیت کے نام پر بنائے گئے یہ قوانین دراصل سول سوسائٹی کو کنٹرول کرنے کا ہتھکنڈہ بن چکے ہیں۔