عمران خان کے پنجاب میں قائم سیاسی کمیٹی پر تحفظات، عالیہ حمزہ سربراہ مقرر
اشاعت کی تاریخ: 29th, May 2025 GMT
اسلام آباد:بانی پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) نے پنجاب میں بنائی جانے والی 4 رکنی سیاسی کمیٹی پر تحفظات کا اظہار کر دیا۔
بانی پی ٹی آئی نے سیاسی کمیٹی کا نوٹیفکیشن دوبارہ جاری کرنے کی ہدایت کی، عمران خان نے سینیٹر علی ظفر کے ذریعے پارٹی لیڈر شپ کو پیغام بھجوا دیا۔
بانی پی ٹی آئی نے عالیہ حمزہ کو پنجاب میں سیاسی کمیٹی کا سربراہ مقرر کر دیا۔
سیاسی کمیٹی میں سلمان اکرم راجہ، عمر ایوب، احمد خان بچھر اور عثمان اکرم شامل تھے، بانی پی ٹی آئی کو پارٹی رہنماؤں نے عالیہ حمزہ کے اوپر بنائی جانے والی کمیٹی سے آگاہ کیا جس پر عمران خان نے پنجاب میں بنائی جانے والی کمیٹی پر شدید تحفظات کا اظہار کیا۔
بانی پاکستان تحریک انصاف عمران خان نے سینٹر علی ظفر کو ہدایت کی کہ عالیہ حمزہ کو کمیٹی کا سربراہ مقرر کیا جائے اور شمیم نقوی کو فیصلے سے آگاہ کیا جائے۔
جیل میں صحافیوں سے غیر رسمی گفتگو کرتے ہوئے سینیٹر علی ظفر، وکیل عالیہ حمزہ، علی عمران اور وکیل فیصل چودھری نے تصدیق کر دی۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: سیاسی کمیٹی عالیہ حمزہ پی ٹی ا ئی
پڑھیں:
بجٹ 2026-27، پائیڈ کی کم از کم ماہانہ تنخواہ 45 ہزار روپے مقرر کرنے کی تجویز
اسلام آباد، نئے مالی سال 2026-27 کے بجٹ میں کم از کم ماہانہ اجرت یا تنخواہ (minimum wages monthly)کے تعین کے حوالے سے پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف ڈیویلپمنٹ اکنامکس (پائیڈ) نے اہم سفارشات پیش کر دی ہیں۔
پائیڈ نے مالی سال 2026-27 کیلئے کم از کم ماہانہ اجرت 40 ہزار روپے سے بڑھا کر 45 ہزار روپے مقرر کرنے کی تجویز دی ہے، جو موجودہ کم از کم اجرت کے مقابلے میں 12.5 فیصد اضافے کے برابر ہے۔
ادارے نے کم از کم اجرت کے تعین کیلئے شفاف اور سائنسی بنیادوں پر مبنی نظام تجویز کرتے ہوئے کہا ہے کہ اجرت کا تعلق غربت، مہنگائی اور عوام کی قوتِ خرید سے براہِ راست جڑا ہوا ہے۔
سفارشات کے مطابق سندھ میں کم از کم ماہانہ اجرت 46 ہزار روپے، پنجاب اور خیبرپختونخوا میں 45 ہزار روپے جبکہ بلوچستان میں 45 ہزار 500 روپے مقرر کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔
پائیڈ نے کم از کم اجرت کے نفاذ کو مرحلہ وار یقینی بنانے کی سفارش کرتے ہوئے کہا ہے کہ سرکاری ٹھیکوں اور آؤٹ سورس خدمات میں کم از کم اجرت پر عملدرآمد کو لازمی قرار دیا جانا چاہیے۔
ادارے کے مطابق پاکستان میں 80 فیصد سے زائد روزگار غیر رسمی شعبے میں ہونے کے باعث کم از کم اجرت کے قانون پر عملدرآمد ایک بڑا چیلنج ہے۔
پائیڈ نے یہ بھی تجویز دی ہے کہ تمام صوبے سالانہ کم از کم اجرت پر عملدرآمد کی رپورٹ جاری کریں تاکہ نظام کی نگرانی اور مؤثر جائزہ ممکن ہو سکے۔رپورٹ کے مطابق مجوزہ فریم ورک پلاننگ کمیشن کو غور کیلئے بھجوا دیا گیا ہے۔
مزید پڑھیں:سانحہ اٹلی، جاں بحق افراد کی شہریت کی تصدیق تاحال نہیں ہو سکی، دفتر خارجہ
پائیڈ کا کہنا ہے کہ کم از کم اجرت کا نظام محض سالانہ اعلان تک محدود نہیں ہونا چاہیے بلکہ اسے مؤثر طرزِ حکمرانی، نگرانی اور عملدرآمد کے نظام سے جوڑا جانا ضروری ہے۔