بھارت سے آنے والے دریائے چناب کے بہاؤ میں 54 ہزار کیوسک کی بڑی کمی
اشاعت کی تاریخ: 30th, May 2025 GMT
بھارت سے آنے والے دریائے چناب کے بہاؤ میں 54 ہزار کیوسک کی بڑی کمی WhatsAppFacebookTwitter 0 30 May, 2025 سب نیوز
بھارت سے پاکستان میں داخل ہونے والے دریائےچناب کے بہاؤ میں بڑی کمی واقع ہوگئی، گزشتہ روز کےمقابلےہیڈمرالہ میں دریائےچناب پر پانی کی آمد میں 54 ہزار 200 کیوسک کی کمی ہوگئی۔
تفصیلات کے مطابق بھارت سے پاکستان میں داخل ہونے والے دریائےچناب کے بہاؤ میں بڑی کمی ہوئی ہے، گزشتہ روز کے مقابلے ہیڈمرالہ میں دریائے چناب پر پانی کی آمد میں 54 ہزار 200 کیوسک کی کمی واقع ہوئی ہے۔
ترجمان واپڈا کے مطابق ہیڈ مرالہ کے مقام پر دریائے چناب میں آج پانی کی آمد 44 ہزار 800 کیوسک رہ گئی جبکہ گزشتہ روز یہاں پانی کی آمد98 ہزار200 کیوسک تھی۔
ترجمان کے مطابق دریائے سندھ میں تربیلا کے مقام پر پانی کی آمد ایک لاکھ 77 ہزار 500کیوسک جبکہ اخراج ایک لاکھ 52 ہزار کیوسک ہے، اسی طرح منگلا کے مقام پر دریائے جہلم میں پانی کی آمد 39 ہزار 600 کیوسک جبکہ اخراج 10 ہزار 800 کیوسک ہے۔
ترجمان واپڈا کے مطابق چشمہ بیراج میں پانی کی آمد2 لاکھ 28 ہزار 700کیوسک اور اخراج ایک لاکھ 83 ہزار کیوسک ہے، اسی طرح ہیڈ مرالہ کے مقام پر دریائے چناب میں پانی کی آمد44 ہزار 800 کیوسک اور اخراج 17 ہزار 100 کیوسک ہے۔
دریائے کابل میں نوشہرہ کے مقام پر پانی کی آمد 37 ہزار 100 کیوسک اور اخراج 37 ہزار 100 کیوسک ہے جبکہ تربیلا ڈیم میں آج پانی کی سطح 1478.
ترجمان واپڈا کے مطابق منگلا ریزروائر میں آج پانی کی سطح 1161.05فٹ جبکہ پانی کا ذخیرہ 21 لاکھ 68 ہزار ایکڑ فٹ ہے جبکہ چشمہ ریزروائر میں آج پانی کی سطح 647.20 فٹ اور پانی کا ذخیرہ2لاکھ 21 ہزار ایکڑ فٹ ہے
ترجمان واپڈا کے مطابق تربیلا، منگلا اور چشمہ ریزوائر میں قابل استعمال پانی کا مجموعی ذخیرہ45 لاکھ28 ہزار ایکڑ فٹ ہے۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرسندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزی ناقابل قبول؛ بھارت کو ریڈلائن عبور نہیں کرنے دینگے، وزیراعظم سیکیورٹی فورسز کی خیبرپختونخوا میں دو مختلف کارروائیوں میں فتنہ الخوارج کے 7دہشت گرد ہلاک ، 4جوان وطن پر قربان بانی پی ٹی آئی 9مئی کی کس بات پر معافی مانگیں؟، علیمہ خان آئی ایم ایف کا پالیسی سازی اور عملدرآمد میں کرپشن اور غیر ضروری اثر و رسوخ کم کرنے کا مطالبہ عالمی برادری غیر ذمہ دارانہ رویے پر بھارت سے جواب دہی کرے، وزیراعظم شہباز شریف کی تاجک صدر سے ملاقات میں گفتگو تحریک تحفظ آئین پاکستان کو دوبارہ متحرک اور سیاسی سرگرمیاں شروع کرنے کا فیصلہ وزارت خزانہ نے نئے بجٹ سے قبل ہی مہنگائی میں اضافے کا خدشہ ظاہر کر دیاCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہمارے بارے ہماری ٹیم
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: ترجمان واپڈا کے مطابق میں ا ج پانی کی پر پانی کی ا مد چناب کے بہاو دریائے چناب والے دریائے ہزار کیوسک کے مقام پر کیوسک ہے کیوسک کی بھارت سے پانی کا بڑی کمی
پڑھیں:
لاہور میں موسلا دھار بارش، سڑکیں زیر آب، معمولات زندگی متاثر
لاہور میں مون سون کی شدید بارشوں نے معمولات زندگی متاثر کر دیے، کئی علاقوں میں سڑکیں، چوراہے اور انڈر پاسز پانی میں ڈوب گئے جبکہ ٹریفک کی روانی شدید متاثر ہوئی۔ محکمہ موسمیات کے مطابق گزشتہ 48 گھنٹوں کے دوران شہر میں 343 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی، جس کے باعث متعدد نشیبی علاقوں میں پانی جمع ہوگیا۔
لاہور کے مختلف علاقوں میں بارش کا پانی جمع ہونے سے شہریوں کو آمدورفت میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ بعض سڑکوں اور گلیوں میں 3 سے 4 فٹ تک پانی کھڑا رہا، جبکہ کئی مقامات پر گاڑیوں کی لمبی قطاریں لگ گئیں۔
یہ بھی پڑھیں: لاہور میں بارش کے بعد کئی علاقے زیر آب، ’اب آفس جانےکے لیے کشتی کی ضرورت ہوگی‘
ڈیفنس کے فیز ون سے فیز فائیو تک مختلف مقامات پر پانی جمع ہونے سے ٹریفک متاثر ہوئی، جبکہ غازی انڈر پاس اور مسجد چوک انڈر پاس کو پانی بھرنے کے باعث بند کرنا پڑا اور ٹریفک کو متبادل راستوں پر منتقل کیا گیا۔
حربنس پورہ، مال روڈ، کوپر روڈ، لکشمی چوک اور چوبرجی چوک سمیت متعدد علاقوں میں بھی پانی جمع ہونے کی اطلاعات ملیں، جہاں واسا کی ٹیمیں نکاسی آب میں مصروف رہیں۔
شدید بارش کے باعث شہر کی کئی سڑکوں پر گڑھے بھی پڑ گئے۔ کینال روڈ، جوہر ٹاؤن مین بلیوارڈ اور بھیکے والا موڑ سمیت مختلف مقامات پر سڑکیں متاثر ہوئیں، جس کے بعد ٹریفک پولیس نے متاثرہ علاقوں کو بند کرکے متبادل راستے فراہم کیے۔
یہ بھی پڑھیں: مون سون سیزن: لاہور سے ایک گھنٹے میں بارش کا پانی نکالنا ہدف ہے، ڈی ایم ڈی واسا
صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کے مطابق پنجاب میں حالیہ مون سون بارشوں کے دوران مختلف حادثات میں اب تک 21 افراد جاں بحق اور 154 زخمی ہو چکے ہیں۔ جاں بحق ہونے والوں میں 15 افراد مکانات گرنے، 2 آسمانی بجلی گرنے، 3 کرنٹ لگنے جبکہ ایک شخص ڈوبنے سے جاں بحق ہوا۔
واسا لاہور کے مطابق شہر میں ہنگامی بنیادوں پر نکاسی آب کا عمل جاری ہے، تمام ڈسپوزل اسٹیشن مکمل استعداد کے ساتھ کام کر رہے ہیں جبکہ متاثرہ مقامات پر اضافی مشینری اور عملہ تعینات کیا گیا ہے۔
ضلعی انتظامیہ اور واسا نے شہریوں کو غیر ضروری سفر سے گریز کرنے، نشیبی علاقوں اور بجلی کے کھمبوں سے دور رہنے کی ہدایت کی ہے۔ شہریوں نے تاہم ہر سال بارشوں کے دوران پانی جمع ہونے کے مسئلے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے نکاسی آب کے نظام کو بہتر بنانے کا مطالبہ کیا ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
we news بارش پانی زیر آب لاہور