Islam Times:
2026-06-03@01:44:47 GMT

بھارت کے مقابلے میں پاکستان کی علاقائی حکمت عملی

اشاعت کی تاریخ: 30th, May 2025 GMT

بھارت کے مقابلے میں پاکستان کی علاقائی حکمت عملی

اسلام ٹائمز: چین ہی کی مدد سے یا خود براہِ راست، پاکستان کو ایران کیساتھ اپنے معاملات سلجھانے چاہییں۔ میرے خیال میں، جتنا فائدہ ایران پاکستان کو دے سکتا ہے، اتنا شاید چین بھی نہیں دے سکتا۔ کیونکہ خود چین انرجی کے میدان میں ایران کا محتاج ہے۔ ایران کے پاس توانائی کے ذرائع موجود ہیں۔ تیل، گیس اور بجلی ہے۔ ہر چند کہ آج کل وہ خود بجلی کے بحران سے دوچار ہے، لیکن یہ قلت انرجی کی نہیں بلکہ پابندیوں کی وجہ سے ہے۔ تحریر: علامہ سید جواد نقوی

دنیا کے نقشے پر کچھ سرزمینیں صرف خطے نہیں ہوتیں، تہذیبوں کے سنگم، سازشوں کے نشانے اور طاقتوں کی رسہ کشی کا محور ہوا کرتی ہیں۔ پاکستان انہی میں سے ایک ہے۔ چار بڑے پڑوسیوں میں گھرا ہوا یہ ملک محض ایک جغفرافیائی وحدت نہیں بلکہ سوق الجیشی کا حامل قلعہ ہے۔ چین کی دوستی، ایران کی توانائی، افغانستان کی سرحدیں اور بھارت کی دشمنی ان چار دیواروں کے بیچ پاکستان کی بقا، ترقی اور خود مختاری کا راز پوشیدہ ہے، ایسے میں جب چین ثالثی کا کردار ادا کر رہا ہے، افغانستان و پاکستان کو ایک دوسرے کے قریب لانے کی کوشش ہو رہی ہے۔ ایک نشست بھی ہوچکی ہے اور ہمارے وزیر خارجہ، جو نائب وزیراعظم بھی ہیں، انہوں نے بھی اس پر مثبت رائے کا اظہار کیا ہے۔ پاکستان کے چار پڑوسی ممالک ہیں، چین، ہندوستان افغانستان اور ایران۔ چین کیساتھ پاکستان کے تعلقات دوستانہ اور خوشگوار ہیں اور چین کو پاکستان کی اشد ضرورت ہے۔

بدقسمتی سے پاکستان کے سیاستدان اور حکمران اس نزاکت کو صحیح طور پر نہیں سمجھتے۔ اگر انہیں اندازہ ہو جائے کہ پاکستان چین کیلئے کس قدر اہمیت رکھتا ہے، تو یہ چین سے کہیں زیادہ فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔ لیکن مسئلہ یہ ہے کہ ہم دوسری جانب امریکہ اور برطانیہ کے بھی غلام ہیں اور ساتھ ہی سعودی عرب کے بھی ماتحت۔ یہی وجہ ہے کہ چین کیساتھ جس درجے کے تعلقات ہونے چاہئیں، وہ نہیں ہو پائے۔ اگرچہ موجودہ تعلقات خوش آئند اور بہتر ہیں، لیکن پاکستان کی اسٹریٹجک پوزیشن کو دیکھتے ہوئے، اس سے کہیں مضبوط تعلقات ممکن تھے۔ چین کے ایک بڑے لیڈر نے کہا تھا کہ "پاکستان کی ہمارے لیے وہی حیثیت ہے، جو امریکہ کیلئے اسرائیل کی"، یعنی جیسے امریکہ اسرائیل کو کبھی تنہا نہیں چھوڑے گا، ویسے ہی چین پاکستان کو کبھی تنہا نہیں چھوڑے گا۔

تاہم، پچھلی حکومت نے چین کیساتھ تعلقات کو شدید دھچکا پہنچایا، حتیٰ کہ ایک موقع پر باقاعدہ ناراضگیاں اور دوریاں پیدا ہوچکی تھیں۔ بعد ازاں ان تعلقات کو بحال کیا گیا اور اب صورتحال قدرے بہتر ہے۔ ایک پڑوسی سے دوستی کرکے تین پڑوسیوں سے دشمنی کرنا کوئی دانشمندی نہیں۔ افغانستان نے پاکستان کو ہندوستان سے بھی زیادہ نقصان پہنچایا ہے۔ ہر پہلو سے پاکستان کو زک پہنچائی ہے۔ موجودہ دہشتگردی کی سرپرستی کرتے ہوئے انہوں نے پاکستان کے وجود کو ہی خطرے میں ڈال دیا ہے۔ یہ وہ افغان نہیں، جو پاکستان کے مخالف تھے، بلکہ یہ وہ طالبان ہیں، جو پاکستان کے پروردہ ہیں۔ ان کا ایک ایک سیل پاکستان میں تیار ہوا، لیکن ہمیشہ کی طرح وقت آنے پر وہ پاکستان کے دشمن بن گئے۔ پاکستان کیلئے ضروری ہے کہ وہ دو محاذ نہ کھولے۔ طالبان سے شکوہ و شکایت بجا ہیں، لیکن جس طرح ہندوستان کو بھرپور جواب دیا گیا، اسی طرح کا جواب افغانستان کو بھی دینا چاہیئے تھا۔

بعض ذمہ داران کی جانب سے کئی بار اس بات کا اظہار کیا گیا کہ ہم دہشتگردوں کے ٹھکانوں پر افغانستان کے اندر حملے کریں گے اور علامتی طور پر ایک دو حملے کیے بھی گئے، لیکن پھر بعض افراد محض کوششیں کرتے رہے، عملاً کوئی اقدام نہیں کیا گیا۔ وہ کسی سمجھوتے کی سعی میں مصروف رہتے ہیں، مگر افغانیوں کی طرف سے کوئی مثبت ردعمل موصول نہیں ہوتا۔ پہلی مرتبہ یہ امید پیدا ہوئی ہے کہ افغانستان کیساتھ پاکستان کے تعلقات کسی حد تک بہتر ہوسکتے ہیں اور افغانستان کی جانب سے جو مشکلات ہیں، انہیں کنٹرول کیا جا سکتا ہے۔ یہ سب چین کی کاوشوں کا نتیجہ ہے۔ چین نے عندیہ دیا ہے کہ سی پیک کا دوسرا مرحلہ، جس میں پاکستان کیساتھ افغانستان کو بھی شامل کیا جائے گا، زیرِ غور ہے۔ یہ ایک سوچ، ایک آئیڈیا اور منصوبہ بندی کا حصہ ہے، جس پر کام ہو رہا ہے۔ پاکستان نے اس منصوبے کو قبول کیا ہے اور چین، افغانستان کو اقتصادی ترغیبات دے کر اسے پاکستان کیساتھ مذاکرات کی میز پر لانے کی کوشش کر رہا ہے۔

بہرکیف، یہ ایک بہترین حکمتِ عملی ہے کہ افغانستان کو کسی نہ کسی طرح اعتماد میں لیا جائے، اس کیساتھ مفاہمت یا معاہدہ کیا جائے، تاکہ دہشتگردی کا سدباب ممکن ہوسکے۔ یہی طریقہ ایران کیساتھ بھی اپنانا چاہیئے، کیونکہ پاکستان اور ایران کے تعلقات کی نوعیت بھی اہم ہے۔ بھارت کی نظریں دونوں پڑوسیوں، یعنی ایران اور افغانستان (طالبان) پر ہیں۔ بھارت طالبان میں کافی حد تک رسوخ حاصل کرچکا ہے۔ طالبان بھارت کو زیادہ اہمیت دیتے ہیں۔ جنگ کے زمانے میں، جب سات مئی کو جنگ شروع ہوئی اور دس مئی تک جاری رہی، انہی دنوں افغانستان کی سلامتی کونسل کے سربراہ نے خفیہ طور پر بھارت کا دورہ کیا اور وہاں کے دفاعی مشیروں سے ملاقات کی۔ یہ بات پاکستانی ذرائع ابلاغ اور اخبارات میں بھی رپورٹ ہوچکی ہے۔ یہ تسلیم شدہ حقیقت ہے کہ افغانستان نے اس جنگ میں بھارت کا ساتھ دیا۔ وہ کھل کر بھارت کیساتھ کھڑے ہوئے اور ان کے حق میں بیانات بھی دیئے۔ دو ممالک واضح طور پر بھارت کیساتھ کھڑے ہوئے۔ ایک اسرائیل اور دوسرا طالبان۔ انہوں نے کسی قسم کا لحاظ نہیں رکھا۔ دوسری طرف ایران ہے۔

ظاہر ہے کہ بھارت کے ایران کیساتھ تعلقات، پاکستان کی نسبت بہتر ہیں۔ ایران اور بھارت کے درمیان تجارت بھی ہے، معاہدے بھی ہیں، سیاسی و اقتصادی روابط بھی بہتر ہیں اور دیگر معاملات میں بھی وہ ایک دوسرے کے ساتھ ہیں۔ باوجود اس کے کہ نظریاتی لحاظ سے بھارت، ایران کے مقابل ہے، کیونکہ بھارت اسرائیل کا اتحادی ہے، لیکن علاقائی مفادات کے تحت ایران، اپنی مشکلات کے پیش نظر، بھارت کو رعایت دیتا ہے۔ بھارت ایران کیساتھ معاہدے بھی کرتا ہے اور امریکہ سے اقتصادی پابندیوں میں چھوٹ بھی حاصل کرتا ہے۔ مثال کے طور پر، بھارت اس وقت ایران سے تیل خرید رہا ہے اور امریکہ نے اسے اس پر روکا نہیں، کیونکہ بھارت نے یہ چھوٹ پہلے سے لے رکھی ہے۔ اسی طرح چاہ بہار بندرگاہ اور دیگر معاملات میں بھی بھارت کو ایران کی جانب سے خصوصی رعایتیں حاصل ہیں۔

بھارت کی کئی دلچسپیاں ہیں، لیکن اس کی سب سے بڑی دلچسپی یہ ہے کہ اگر ایران کیساتھ تعلقات درست کیے جائیں، تو ایران اکیلا نہیں رہے گا، بلکہ افغانستان بھی بھارت کا دوست بن جائے گا، اور اس طرح پاکستان کا مکمل محاصرہ ممکن ہو جائے گا۔ صرف چین باقی رہ جائے گا، جبکہ چین کیساتھ پاکستان کی کوئی بڑی، کھلی اور آزاد میدانی سرحد نہیں۔ ایک پہاڑی درہ ہے، جہاں سے گزر کر پاکستان اور چین کے درمیان راستہ قائم ہوتا ہے۔ باقی ایسی کوئی سرحد موجود نہیں، جیسی سرحدیں پاکستان ایران، افغانستان یا بھارت کیساتھ رکھتا ہے، یعنی میدانی، دریائی اور زمینی رابطے۔ لہٰذا بھارت کی پوری کوشش ہے کہ ایران کو اعتماد میں لے اور ایران کے ذریعے افغانستان کو سپورٹ کرے، جیسا کہ اس نے کیا بھی ہے۔ بھارت نے پاکستان سے افغان تجارت ختم کروا دی ہے، تاکہ پاکستان افغان ٹرانزٹ روٹ نہ بن سکے اور اس کے بجائے ایران کو یہ کردار ملے۔

بھارت نے چاہ بہار بندرگاہ بھی اسی مقصد کیلئے حاصل کی ہے۔ درحقیقت، بھارت کو چاہ بہار کی ضرورت اپنے لیے نہیں بلکہ افغانستان کے لیے ہے، کیونکہ یہی واحد بندرگاہ ہے، جو افغانستان کے قریب واقع ہے اور اس بندرگاہ کے ذریعے وہ افغانستان کو متبادل راستہ دے کر پاکستان کا محاصرہ مکمل کرنا چاہتا ہے۔ جس طرح ہمارے سفارتکار چین کی مدد سے یہ کوشش کر رہے ہیں کہ پاکستان اور افغانستان کے تعلقات بہتر ہوں اور چین نے اس حوالے سے پیشکش کی ہے، جسے پاکستان نے سراہا ہے، اسی طرح چین ہی کی مدد سے یا خود براہِ راست، پاکستان کو ایران کیساتھ اپنے معاملات سلجھانے چاہییں۔ میرے خیال میں، جتنا فائدہ ایران پاکستان کو دے سکتا ہے، اتنا شاید چین بھی نہیں دے سکتا۔ کیونکہ خود چین انرجی کے میدان میں ایران کا محتاج ہے۔

ایران کے پاس توانائی کے ذرائع موجود ہیں۔ تیل، گیس اور بجلی ہے۔ ہر چند کہ آج کل وہ خود بجلی کے بحران سے دوچار ہے، لیکن یہ قلت انرجی کی نہیں بلکہ پابندیوں کی وجہ سے ہے۔ ان کے بجلی پیدا کرنیوالے پلانٹس پابندیوں کی بنا پر فعال نہیں، اس لیے یہ ایک وقتی بحران ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ ایران کے پاس بجلی موجود ہے، جبکہ پاکستان میں بجلی، پٹرولیم، کیمیکلز اور گیس کی کمی ہے۔ یعنی بنیادی انرجی کے حوالے سے پاکستان کو شدید ضرورت ہے۔ اس ضرورت کو پورا کرنے کیلئے ہم افسانوی راستے تلاش کرتے ہیں، جیسے افغانستان سے سرنگیں لگائیں گے، یا کبھی قازقستان سے گیس لائیں گے، کبھی آذربائیجان سے، کبھی کسی اور سے۔ لیکن یہ سب دور دراز کے خواب ہیں۔ جب پڑوس میں ایران موجود ہے، جہاں ہمارے ساتھ معاہدے بھی ہیں اور ہم خود ان معاہدوں کے پابند بھی ہیں، تو وہاں سے انرجی کیوں نہ لی جائے؟

صرف اپنے سیاسی معاملات درست کر لیں۔ ایران کا بھی مفاد اسی میں ہے۔ ایران اور پاکستان کی مشکلات ایک جیسی ہیں، دونوں دہشت گردی کی زد میں ہیں، دونوں کو ایک جیسے مسائل درپیش ہیں، دونوں پابندیوں کے زیر اثر ہیں تو ایک مشترکہ اتحاد وجود میں آسکتا ہے۔ ایران اور پاکستان دونوں کے چین کیساتھ اچھے تعلقات ہیں۔ جب یہ طے ہے کہ بھارت پاکستان کا دشمن ہے، تو مودی کی موجودگی میں ہندوستان کیساتھ نہ دوستی ممکن ہے، نہ معمول کے تعلقات۔ مودی پاکستان کیلئے نیتن یاہو بنتا جا رہا ہے اور اس نے وہی عزائم اپنا لیے ہیں، جو اسرائیل نے اپنے دشمنوں کیخلاف اپنائے۔ لہٰذا پاکستان کو مستقبل میں ہر پہلو سے تیار رہنا ہوگا کہ اگر مودی اقتدار میں ہے تو پاکستان میں امن نہیں آسکتا۔ پاکستان کیلئے امن صرف اس وقت ممکن ہے، جب افغانستان، ایران اور چین کی طرف سے بھی امن ہو، تاکہ صرف ایک سرحد پر دشمن کا سامنا کرنا پڑے۔ ہمیں امید ہے کہ ہمارے سیاسی اور عسکری قائدین ان شاء اللہ سنجیدگی سے اس مسئلے کو حل کریں گے۔ صحافی : تصور حسین شہزاد

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: افغانستان کے افغانستان کو ایران کیساتھ افغانستان کی کہ افغانستان سے پاکستان چین کیساتھ پاکستان کے کہ پاکستان پاکستان کی پاکستان کو ایران اور نہیں بلکہ کے تعلقات کہ بھارت بھارت کی ایران کی ایران کے بھارت کو سکتا ہے اور چین بھی ہیں ہیں اور دے سکتا جائے گا ہے اور رہا ہے چین کی اور اس

پڑھیں:

ایران، امریکا مذاکرات: یورپی یونین بھی پاکستان کے کردار کی معترف لیکن مسئلے کا حل تاحال تاخیر کا شکار کیوں؟

ایران امریکا مذاکرات میں دُنیا پاکستان کے ثالثی کردار کی تعریف کر رہی ہے۔ یورپی یونین کی نائب صدر کاجا کالاس نے گزشتہ روز اسلام آباد میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے پاکستان کے کردار کی زبردست تعریف کی۔

اس سے قبل پاکستان کے نائب وزیراعظم و وزیرخارجہ اسحاق ڈار نے دورہ واشنگٹن کے دوران جب امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو سے ملاقات کی تو انہوں نے بھی پاکستان کے کردار کی کھل کر تعریف کی۔

لیکن اِس سب کے باوجود امریکا ایران تنازعے کا پائیدار حل نظر نہیں آ رہا جس کی بُنیادی وجہ دونوں فریقین کے درمیان اعتماد کا فقدان اور اسرائیل کی جانب سے غزہ اور اب لبنان میں نہ رُکنے والی جنگی جارحیت ہے، حالاں کہ ایرانی وزیرِخارجہ عباس عراقچی نے اس بات کو کھل کر دُہرایا کہ جنگ بندی معاہدے میں لبنان بھی شامل ہے۔

گزشتہ 10 روز میں کیا پیش رفت ہوئی؟

مختلف سفارتی ذرائع کے مطابق حالیہ دنوں میں تہران اور واشنگٹن کے درمیان متعدد بالواسطہ رابطے اور مذاکرات ہوئے جن کے بنیادی نکات میں جنگ بندی پر عملدرآمد، آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کا تحفظ، پابندیوں میں ممکنہ نرمی، منجمد ایرانی اثاثوں کا معاملہ اور ایران کے جوہری پروگرام سے متعلق اختلافات کو دور کرنا شامل تھا۔

مغربی میڈیا کے مطابق فریقین ایک عبوری معاہدے کے قریب پہنچ گئے تھے تاہم ایرانی حُکام ایسی خبروں کی تردید کر رہے ہیں۔ ایرانی حُکام اپنا مؤقف کھل کر بیان کر رہے ہیں کہ کسی بھی حتمی معاہدے کے اعلان سے قبل عملی اقدامات اور قابلِ تصدیق ضمانتیں ضروری ہیں، یہی وجہ ہے کہ مذاکرات جاری ہونے کے باوجود حتمی پیش رفت کا اعلان ابھی تک سامنے نہیں آیا۔

لبنان پر اسرائیلی جارحیت اور ایرانی وزیرِ خارجہ کا بیان

تازہ ترین اور شاید سب سے اہم پیش رفت ایرانی وزیر خارجہ سید عباس عراقچی کے اس بیان کی صورت میں سامنے آئی جس میں انہوں نے واضح کیا ہے کہ ایران اور امریکا کے درمیان ہونے والی کسی بھی جنگ بندی کا اطلاق پورے خطے پر ہوگا۔

عباس عراقچی نے اپنے بیان میں کہا کہ ایران اور امریکا کے درمیان سیز فائر کا اطلاق ’تمام محاذوں پر مکمل جنگ بندی‘ سے تعبیر ہے، جس میں لبنان بھی شامل ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ’اگر کسی ایک محاذ پر جنگ بندی کی خلاف ورزی ہوئی تو اسے تمام محاذوں پر جنگ بندی کی خلاف ورزی تصور کیا جائے گا اور اس کے نتائج کی ذمہ داری امریکا اور اسرائیل پر عائد ہوگی‘۔

پاکستان کی تازہ سفارتکاری کوششیں

گزشتہ 10 روز کے دوران پاکستان کی سفارتی سرگرمیوں میں غیر معمولی اضافہ دیکھنے میں آیا ہے، وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کے  تہران کے دورے، ایرانی قیادت سے ملاقاتیں اور پاکستانی حکام کی مسلسل رابطہ کاری نے یہ تاثر مضبوط کیا کہ اسلام آباد تہران اور واشنگٹن کے درمیان ایک اہم سفارتی چینل کے طور پر کام کر رہا ہے۔

اسی دوران پاکستان کے فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کے دورہ تہران نے سفارتی حلقوں کی خصوصی توجہ حاصل کی۔ متعدد مبصرین کے مطابق پاکستان صرف پیغامات منتقل نہیں کر رہا بلکہ اعتماد سازی اور مذاکراتی عمل کو برقرار رکھنے میں بھی کردار ادا کر رہا ہے۔

واشنگٹن میں اسحاق ڈار اور مارکو روبیو کی ملاقات

پاکستان کی سفارت کاری کی اہمیت اس وقت مزید نمایاں ہوئی جب نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار کی امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو سے ملاقات ہوئی۔اس ملاقات میں ایران، امریکا مذاکرات، علاقائی سلامتی، آبنائے ہرمز اور پاکستان کی سفارتی کوششوں پر تفصیلی تبادلۂ خیال کیا گیا۔

امریکی قیادت کی جانب سے پاکستان کے کردار کو سراہا جانا اس بات کا اشارہ تھا کہ واشنگٹن اسلام آباد کو ایک مؤثر رابطہ کار کے طور پر دیکھ رہا ہے۔

یورپی یونین کی غیر معمولی تائید

یکم جون 2026 کو اسلام آباد میں ہونے والے 8 ویں پاکستان، یورپی یونین اسٹریٹجک ڈائیلاگ نے پاکستان کی سفارتی حیثیت کو مزید تقویت دی۔

اجلاس کی صدارت پاکستان کے وزیر خارجہ اسحاق ڈار اور یورپی یونین کی اعلیٰ نمائندہ کاجا کلاس نے مشترکہ  طور پر کی جس کے بعد جاری مشترکہ اعلامیے کا سب سے اہم پہلو یہ تھا کہ کاجا کالاس نے ایران اور امریکا کے درمیان ثالثی کی پاکستانی کوششوں کو تعمیری اور بامعنی قرار دیا۔

اعلامیے میں خاص طور پر امریکا اور ایران کے درمیان پاکستان کی ثالثی اور اسلام آباد مذاکرات کا ذکر کیا گیا ہے۔ یورپی یونین نے نہ صرف پاکستان کے کردار کو سراہا بلکہ آبنائے ہرمز میں آزاد اور محفوظ بحری آمدورفت کی ضرورت پر بھی زور دیا۔

یہ ایک غیر معمولی سفارتی پیش رفت ہے کیونکہ اس سے قبل پاکستان کی ثالثی کو زیادہ تر علاقائی تناظر میں دیکھا جا رہا تھا، جبکہ اب یورپی یونین بھی اسے باضابطہ طور پر تسلیم کر رہی ہے۔

’آبنائے ہرمز ‘ مذاکرات کا اصل مرکز

موجودہ بحران میں ’آبنائے ہرمز‘ صرف ایک بحری گزرگاہ نہیں بلکہ عالمی سیاست اور معیشت کا مرکزی نقطہ بن چکی ہے۔ دنیا کے بیشتر ممالک کو توانائی سپلائی کا ایک بڑا حصہ اسی راستے سے گزرتا ہے۔اسی لیے ایران، امریکا، یورپی یونین اور پاکستان سب اس بات پر متفق دکھائی دیتے ہیں کہ ’آبنائے ہرمز‘ میں کشیدگی کم کرنا اور محفوظ جہاز رانی کو یقینی بنانا ضروری ہے۔

اگرچہ جنگ بندی برقرار ہے، سفارتی رابطے بھی جاری ہیں لیکن اختلافی مسائل اب بھی باقی ہیں۔تاہم ایک حقیقت واضح ہے کہ ’ مذاکرات ٹوٹے نہیں بلکہ آگے بڑھے ہیں‘۔

امریکا، ایران، پاکستان اور یورپی یونین سب سفارتی راستے کو زندہ رکھنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ اگر آنے والے ہفتوں میں کوئی عبوری معاہدہ، توسیع شدہ جنگ بندی یا وسیع علاقائی سلامتی فریم ورک وجود میں آتا ہے تو پاکستان کو صرف ایک سہولت کار نہیں بلکہ اس پورے سفارتی عمل کے اہم معماروں میں شمار کیا جائے گا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

اسرائیل امریکا ایران پاکستان تہران سفارت کاری کاجا کالاس مذاکرات واشنگٹن یورپی یونین

متعلقہ مضامین

  • کراچی، شہر کے مختلف علاقوں میں پولیس مقابلے، 6 زخمیوں سمیت 9 ڈاکو گرفتار
  • جنگ امن اور معیشت کی کہانی
  • ٹرمپ کے بدلتے پینترے
  • ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں، ڈونلڈ ٹرمپ
  • علاقائی کشیدگی اور بحرین میں شیعہ اکثریتی آبادی کو نشانہ بنانے کی پالیسی
  • شیخ رشید کا وکالت شروع کرنے کا اعلان
  • بھارت: میسی کا 70 فٹ بلند مجسمہ حفاظتی خدشات کے باعث ہٹا دیا گیا
  • افغان ٹیم پہلی بار بھارت میں ٹی ٹوئنٹی سیریز کی میزبانی کرے گی
  • ایران، امریکا مذاکرات: یورپی یونین بھی پاکستان کے کردار کی معترف لیکن مسئلے کا حل تاحال تاخیر کا شکار کیوں؟
  • خطے میں تنازعات کے پُرامن حل کیلئے کوششیں جاری رکھیں گے: اسحاق ڈار