Express News:
2026-07-24@04:07:30 GMT

دنیا کی سب سے سے اونچی تھری ڈی عمارت

اشاعت کی تاریخ: 6th, June 2025 GMT

دنیا کی سب سے اونچی تھری ڈی (3D) پرنٹ شدہ عمارت کا اعزاز "تور الوا" (Tor Alva) کو حاصل ہے۔

یہ عمار سوئٹزرلینڈ کے چھوٹے سے گاؤں مولینس میں واقع ہے۔ یہ شاندار عمارت تقریباً 30 میٹر (98.5 فٹ) بلند ہے اور 3D پرنٹنگ ٹیکنالوجی کا ایک نمایاں مظہر ہے۔ 

مولینس ایک پہاڑی گاؤں جس کی آبادی محض 11 افراد پر مشتمل ہے۔ اس عمارت کو تعمیراتی کمپنی ای ٹی ایچ زیورک اور فنڈیزن اوریجن نے مشترکہ بنایا ہے۔ اس کے معمار مائیکل ہینسمائر اور بینجمن ڈیلنبرگر ہیں۔

یہ عمارت تقریباً 5 ماہ کی تھری ڈی پرنٹنگ کے بعد مکمل ہوئی۔ اس کی خصوصیت 32 سفید کنکریٹ کے ستون، 4 منزلیں اور ایک گنبد نما تھیٹر جس میں 32 افراد کی گنجائش ہے۔ 

تور آلوہ کی تعمیر میں جدید 3D پرنٹنگ تکنیک استعمال کی گئی، جس میں خاص قسم کے نرم کنکریٹ کو روبوٹ کے ذریعے تہہ در تہہ پرنٹ کیا گیا۔ ہر 26 سینٹی میٹر کی بلندی پر اسٹیل کی تقویت شامل کی گئی، جس سے ساخت مضبوط اور پائیدار بنی۔ 

یہ عمارت صرف ایک تکنیکی کارنامہ نہیں بلکہ ایک ثقافتی مرکز بھی ہے۔ اس کے اندر ایک گنبد نما تھیٹر موجود ہے جہاں جولائی 2025 سے تھیٹر پرفارمنسز کا آغاز ہوگا۔ تور الوہ کو 2030 تک مولینس میں رکھا جائے گا، جس کے بعد اسے ممکنہ طور پر کسی اور مقام پر منتقل کیا جائے گا۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

پڑھیں:

کوئٹہ، ہماری عبادتگاہ مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانا قابل مذمت ہے، سکھ برادری

پریس کلب کوئٹہ میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے سکھ برادری کے رہنماؤں نے کہا کہ سکھ برادری کو اعتماد میں لئے بغیر انکی عبادتگاہ کی عمارت کو منہدم کر دیا گیا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ کوئٹہ میں سکھ برادری کے رہنماء سردار جسبیر سنگھ اور کنزیومر سول سوسائٹی بلوچستان کے رہنماء خیر محمد شاہین نے کہا ہے کہ آرچر روڈ پر موجود سکھوں کا قدیمی گردوارہ 1953ء سے سینٹ گیبریل سکول قائم تھا، جسے مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانے کا کام شروع کیا گیا ہے، جس کی مذمت کرتے ہیں۔ یہ گردوارہ سکھ برادری نے تعلیمی سرگرمیوں کے لئے سینٹ گیبرل سکول کو دے رکھا تھا۔ انہوں نے وزیراعظم پاکستان اور دیگر اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ گزشتہ دنوں نامعلوم افراد کی جانب سے سکھوں کے مقدس گردوارے کی 90 سالہ پرانی عمارت کو مسمار کرنے کا نوٹس لیکر گردوارے سکھ برادری کے حوالے کیا جائے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے کوئٹہ پریس کلب میں پریس کانفرنس کے دوران کیا۔

انہوں نے کہا کہ ملک بھر میں سکھ برادری کی ہزاروں ایکڑ اراضیات، مقدس مقامات بدستور لینڈ مافیا کے قبضے میں ہیں۔ حکومت کی جانب سے ان کی واگزاری کے لئے کوششیں بار آور ثابت نہیں ہو رہی ہے۔ آرچر روڈ پر واقع گردوارہ کو شری سنگھ بنیاد گرودت سنگھ نے تعمیر کیا تھا اور پرانے بندوبست کے ریکارڈ میں فرد انتقالات انہی کے نام سے اب بھی موجود ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ وہی گرودت سنگھ ہے۔ جنہوں نے گورنمنٹ اسپیشل ہائی اسکول جو خالصہ کہلاتی تھی کی بنیاد رکھی تھی اور جاتے ہوئے اسکول کی 20 ایکڑ اراضی مقامی بچوں کی تعلیمی مقاصد کے لئے وقف کر دی تھی۔ یہ عمارت سینٹ گیبرل اسکول یا محکمہ اوقاف کی نہیں، بلکہ سکھوں کی مذہبی عبادت گاہ گردوارہ سکھ سبھا کی ملکیت ہے۔ سکھ برادری کو اعتماد میں لئے بغیر ان کی عبادت گاہ کی عمارت کو منہدم کر دیا گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ مبینہ طور پر کہا جا رہا ہے کہ محکمہ اوقاف نے تجارتی مقاصد کے لئے عمارت کی زمین تجارتی بنیادوں پر فروخت کر دی ہے، اگر یہ درست ہے تو انتہائی تشویش کی بات ہے کہ محکمہ اوقاف متروکہ عمارت کی نگران ہوتی ہے مالک نہیں۔ محکمہ اوقاف سکھوں کے نمائندوں کی موجودگی میں سکھوں کی متراکہ املاک کو کس طرح قانون کے تحت فروخت کرنے کی مجاز ہے۔ 2014ء میں سپریم کورٹ نے واضح فیصلہ دیا تھا کہ پاکستان میں سکھوں کے تمام مقدس مقامات پر جائیدادوں کو حکومت پاکستان کی جانب سے مکمل تحفظ فراہم رہے گا۔ اس کے علاوہ آئین میں تمام اقلیتوں کے مذہبی عمارات کو تحفظ کا حق حاصل ہے۔ ہم وزیراعظم پاکستان اور اعلیٰ حکام سے مطالبہ کرتے ہیں کہ آرچر روڈ کے منہدم مذکورہ گردوارے کو فی الفور اس کی اصل حالت میں بحال کرکے اسے سکھ برادری کے حوالے کیا جائے تاکہ انصاف کے تقاضے پورے ہوسکیں۔

متعلقہ مضامین

  • کوئٹہ، ہماری عبادتگاہ مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانا قابل مذمت ہے، سکھ برادری