مودی عالمی برادری سے بھی جھوٹ بول رہا ہے، بلاول بھٹو
اشاعت کی تاریخ: 7th, June 2025 GMT
نیویارک:
پاکستانی سفارتی مشن کے سربراہ بلاول بھٹو زرداری نے ایک بار پھر واضح کیا ہے کہ ہم بھارت کے ساتھ بات چیت کیلیے تیار ہیں، مودی عالمی برادری سے بھی جھوٹ بول رہا ہے۔
واشنگٹن میں نیوز کانفرنس کرتے ہوئے بلاول بھٹو نے کہا کہ پاکستان امن کا خواہش مند ہے اور اس کے لیے مسلسل اقدامات بھی کررہا ہے جبکہ بھارتی وزیراعظم نے دھمکی آمیز اور جارحانہ رویہ اختیار کیا ہوا ہے۔
انہوں نے کہا کہ خطے میں امن کیلیے ہم بھارت کے ساتھ بات چیت کیلیے تیار ہیں۔
بلاول نے کہا کہ پاکستان میں ہونے والی دہشت گردی کی کارروائیوں میں بھارت ملوث ہے، بھارتی نیوی کا افسر کلبھوشن بلوچستان سے گرفتار ہوا۔
اُن کا کہنا تھا کہ بھارت پانی کو بطور ہتھیار استعمال کر رہا ہے اور اُس کا پانی روکنے کا اقدام جارحیت ہے۔
سفارتی مشن کے سربراہ نے کہا کہ بھارتی وزیراعظم اپنے عوام اور عالمی برادری سے جھوٹ بول رہا ہے جبکہ بھارتی میڈیا نے کشیدگی کے دوران مسلسل جھوٹ بولا۔
بلاول نے ایک بار پھر اعتراف کیا کہ ٹرمپ نے جنگ بندی میں اہم کردار ادا کیا اور اب عالمی برادری کو بھارت کو جارحیت سے دور کرنے کیلیے بھی کردار ادا کرنا ہوگا کیونکہ کوئی ایک فریق یکطرفہ طور پر سندھ طاس معاہدہ معطل نہیں کرسکتا۔
انہوں نے کہا کہ ہمارے شاہینوں نے 6 بھارتی طیارے گرائے جس کے اعتراف میں بھارت کو ایک ماہ کا وقت لگا جبکہ پاکستان کے کسی ایک طیارے کو نقصان نہیں پہنچا۔
بلاول بھٹو نے کہا کہ پاکستان دہشت گردی سے سب سے زیادہ متاثر ہے اور ہم نے اس کے لیے قربانیاں دیں ہیں۔
سفارتی مشن کے سربراہ نے پاک بھارت کشیدگی کے دوران پاکستان کی حمایت کرنے والے دوست ممالک کا ایک بار پھر شکریہ ادا کیا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: عالمی برادری بلاول بھٹو نے کہا کہ رہا ہے
پڑھیں:
مودی کا امتحانی پرچے لیک کرنے والوں کے خلاف فاسٹ ٹریک عدالتیں قائم کرنے کا اعلان
بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے امتحانی پرچوں کے لیک ہونے کے بڑھتے ہوئے واقعات کے خلاف سخت اقدامات کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایسے جرائم میں ملوث افراد کو جلد انصاف کے کٹہرے میں لانے کے لیےفاسٹ ٹریک عدالتیںقائم کی جائیں گی۔ انہوں نے واضح کیا کہ طلبہ کے مستقبل سے کھیلنے والوں کے ساتھ کسی قسم کی رعایت نہیں برتی جائے گی۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (X) پر جاری اپنے بیان میں وزیراعظم مودی نے کہا کہ نوجوانوں کا مستقبل حکومت کی اولین ترجیح ہے اور امتحانی نظام میں بدعنوانی یا پرچے لیک کرنے جیسے جرائم میں ملوث عناصر کو سخت اور فوری سزا دی جائے گی۔
یہ امتحانی پرچوں کے لیک ہونے کے معاملے پر وزیراعظم مودی کا پہلا عوامی بیان ہے۔ تاہم ان کے ردعمل کے بعد بھی ملک بھر میں جاری طلبہ احتجاج میں کمی نہیں آئی۔ متعدد طلبہ اور سماجی حلقوں نے سوال اٹھایا کہ حکومت نے اس حساس معاملے پر ردعمل دینے میں اتنی تاخیر کیوں کی۔
دوسری جانب لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہل گاندھی نے وزیراعظم کے بیان کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے حکومت پر تعلیمی نظام کو کمزور کرنے کا الزام عائد کیا۔
راہل گاندھی نے ایکس پر اپنی پوسٹ میں لکھا کہ نوجوانوں کے مستقبل کو سب سے زیادہ نقصان موجودہ حکومت نے پہنچایا ہے۔ ان کے مطابق حکومت نے نہ صرف تعلیمی نظام کو تباہ ہونے دیا بلکہ ذمہ دار افراد کو بھی تحفظ فراہم کیا۔
انہوں نے کہا کہ احتجاج کرنے والے طلبہ کے تین بنیادی مطالبات ہیں، جن میں وزیر تعلیم دھرمندر پردھان کو عہدے سے ہٹانا، طلبہ سے باضابطہ معافی مانگنا اور احتجاج کے دوران طلبہ پر مبینہ تشدد میں ملوث افراد کے خلاف کارروائی شامل ہے۔
واضح رہے کہ ملک میں تعلیمی اصلاحات اور امتحانی نظام میں شفافیت کے مطالبات کے حوالے سے احتجاجی تحریک جاری ہے۔ حالیہ دنوں میں طلبہ اور پولیس کے درمیان جھڑپوں کے بعد یہ معاملہ مزید شدت اختیار کر گیا ہے، جبکہ امتحانی پرچے لیک ہونے کے واقعات نے بھارت کے تعلیمی نظام پر سنجیدہ سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔