Express News:
2026-07-24@04:16:20 GMT

گوشت، متوازن غذا کا اہم جزو

اشاعت کی تاریخ: 9th, June 2025 GMT

عیدالاضحی، جسے بڑی عید بھی کہا جاتا ہے، پوری دنیا کے مسلمانوں کیلئے ایک بڑا تہوار ہے۔ اس دن مسلمان سنت ابراہیمی کی یاد تازہ کرتے ہوئے جانوروں کی قربانی کرتے ہیں۔ مختلف مسلم معاشروں کی روایات کے لحاظ سے اس دن کی اپنی منفرد ثقافتی حیثیت بھی ہے۔

عید کے موقع پر تو خیر خاندان کے لوگ اکٹھے ہوتے ہی ہیں، دوست احباب کی محفلیں بھی سجتی ہیں، لیکن عیدالاضحی کی خصوصیت یہ ہے کہ اس موقع پر گوشت کی مختلف ڈشز تیار کرکے لذت کام و دہن کا بھی بھر پور اہتمام کیا جاتا ہے۔ گوشت کو روسٹ کرایا جاتا ہے، یا بعض گھروں میں باربی کیو پارٹی کا انتظام بھی ہوتا ہے۔ قیمہ بنایا جاتا ہے، شامی تیار کیئے جاتے ہیں، غرض یہ کہ گوشت کو مختلف طریقوں سے استعمال کیا جاتا ہے۔

تاہم ضرورت اس امر کی ہے کہ ان چیزوں کو اعتدال میں رہتے ہوئے عام دنوں کی طرح کھایا جائے۔ اگر اس سلسلے میں بے احتیاطی کی گئی تو بہت سے طبی مسائل کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے۔ جو لوگ پہلے سے مختلف بیماریوں کا شکار ہیں، انہیں خاص طور پر اس موقع پر محتاط رہنا چاہیے اور ڈاکٹر کی ہدایات کے مطابق گوشت کھانا چاہیے۔ عید کے موقع پر گوشت کو زیادہ عرصہ تک سٹور کرنا بھی درست نہیں ہے۔

اپنی غذائی ضروریات پوری کرنے کے لیے انسان مختلف اقسام کی خوراک کھاتا ہے، جس میں پھل، سبزیاں، گوشت، مشروبات وغیرہ شامل ہیں۔ ان تمام چیزوں کی اپنی جگہ پر خاص اہمیت ہے۔ متوازن غذا کھانے کے لیے ضروری ہے کہ اپنی عمر، صنف اور صحت کے مطابق ان سب چیزوں کا اعتدال میں استعمال کیا جائے۔

دوسرے غذائی اجزاء کے علاوہ گوشت بھی انسانی خوراک کا اہم جزو ہے، جس سے جسم کو پروٹین، لمحیات، آئرن، وٹامن B وغیرہ حاصل ہوتی ہیں، جوکہ ایک صحت مند جسم کیلئے ضروری ہیں۔ تاہم ہر قسم کی غذا کے اپنے فوائد اور نقصانات ہوتے ہیں۔ اس لیے اس کو عام حالات میں ضرورت کے مطابق کھانا چاہیے، گوشت کھانے میں غیر معمولی زیادتی سنگین قسم کے صحت کے مسائل کا سبب بن جاتی ہے۔ تاہم عام حالات میں کسی بیماری کے بغیر گوشت کو مکمل طور پر اپنی غذا سے خارج کر دینا بھی آپ کی صحت کے لیے نقصان دہ ہو سکتا ہے۔

دو تین سال قبل ذرائع ابلاغ پر خبر آئی کہ کئی برسوں سے صرف کچی سبزیاں اور پھل کھا کر زندہ رہنے والی روسی انفلونسر ژانا سمسونوا 40 سال کی عمر میں چل بسی۔ ان کی موت مبینہ طور پر غذائی قلت اور تھکن کے باعث ہوئی۔ وہ 10 سال سے صرف کچی سبزیاں، پھل اور ان کا جوس غذا کے طور پر استعمال کر رہی تھی۔ حتی کہ وہ پانی پینے کو بھی غیرضروری سمجھتی تھیں۔

اس کے متعلق انسٹاگرام پر انہوں نے لکھا تھا: ’’پانی نہ پینا کچی سبزیوں اور پھلوں پر انحصار کرنے والوں میں عام ہے۔ مجھے پیاس نہیں لگتی اور میں پانی نہیں پینا چاہتی، مجھے پھلوں اور ناریل سے پانی حاصل ہو جاتا ہے، جس سے مطمئن ہوں۔‘‘ ڈاکٹروں کے مطابق ژانا سمسونوا کی موت ہیضے کی طرح کے ایک انفیکشن کی وجہ سے ہوئی جو کہ صرف سبزی اور پھلوں پر مشتمل غذا پر انحصار کے باعث ہوتا ہے۔ چنانچہ شدید قسم کے ڈائیٹ پلان سے گریز کرتے ہوئے اپنی تمام غذائی ضروریات پوری کرنے پر دھیان دینا چاہیے۔

کلیورلینڈ کلینک کے مطابق ، صرف پھلوں پر گزارا کرنے والے کا جسم غذائی قلت کا شکار ہو جاتا ہے، ایسے افراد اپنے جسم کو ضروری غذائی اجزاء جیسے وٹامن، لیپڈز اور پروٹین وغیرہ سے محروم کر دیتے ہیں۔ چنانچہ غذائی قلت کو محسوس کرتے ہوئے جسم ضروری افعال کے لیے توانائی بچانے پر توجہ مرکوز کر دیتا ہے اور میٹابولزم (خوراک کو توانائی میں بدلنا) کا عمل کمزور پڑ جاتا ہے۔ دراصل انسانی جسم کو ہر طرح کی غذا کی ضرورت ہوتی ہے۔

کسی بھی متوازن غذا میں گوشت کی اپنی جگہ پر اہمیت ہے تاہم اس کی مناسب مقدار کا تعین کھانے والے شخص کی صحت، عمر، کام کی نوعیت اور روزمرہ روٹین کے مطابق کیا جا سکتا ہے۔ مچھلی اور مرغی کے گوشت کو عام طور پر سفید گوشت (meat White ) کہا جاتا ہے۔ اس سے انسانی جسم کو پروٹین وغیرہ حاصل ہوتی ہیں۔ سفید گوشت میں کلوریز اور چکنائی کی مقدار بھی نسبتاً کم ہوتی ہے۔ اس طرح چوپائیوں اور دودھ پلانے والے جانوروں (Mamals) کا گوشت، سرخ گوشت (meat Red ) کہلاتا ہے۔

مٹن (چھوٹا گوشت) میں چکنائی کی مقدار، چکن کی نسبت زیادہ ہوتی ہے۔ بیف (بڑے گوشت) میں چکنائی کی زیادہ مقدار ہوتی ہے، تاہم اس سے دوسری غذائی ضروریات مثلاً پروٹین، زنک، فاسفورس، آئرن اور وٹامن B وغیرہ پوری ہوتی ہیں۔ سفید اور سرخ گوشت، دونوں کے اپنے اپنے فوائد اور نقصانات ہیں، اس لیے انہیں ایک حد سے زیادہ استعمال نہیں کرنا چاہیے۔

طب اور غذائیات کے میدان میں ہونے والی تحقق سے پتا چلتا ہے کہ عام حالات میں سرخ گوشت کا زیادہ استعمال مختلف سنگین نوعیت کی بیماریوں مثلاً کینسر، دل کے امراض، ذیابیطس، معدہ، جگر کی بیماریوں کا باعث بن سکتا ہے۔ اس کے علاوہ بعض سٹڈیز کے مطابق اس کے زیادہ استعمال سے وقت سے پہلے اموات بھی واقع ہوسکتی ہیں۔ بالخصوص وہ لوگ جو پہلے سے ہی مذکورہ بالا بیماریوں میں مبتلا ہیں، انہیں سرخ گوشت کے استعمال میں غیر معمولی احتیاط برتنی چاہیے۔

ہمارے ہاں شہروں میں ڈبوں میں بند گوشت (meat Processed ) کی خریدو فروخت کا رواج بھی عام ہوتا جارہا ہے۔ ڈبوں میں بند سرخ گوشت سے بھی صحت کے مسائل لاحق ہوتے ہیں۔ ’’ہاورڈ سکول آف پبلک ہیلتھ‘‘ کی ایک تحقیق کے مطابق اگر پروسیسڈ سرخ گوشت کو روزانہ ایک بار بھی کھانے میں استعمال کیا جائے تو دل کی بیماریوں میں مبتلا ہونے کے امکانات 42% تک، جبکہ ذیابیطس میں مبتلا ہونے کے امکانات 19% تک بڑھ جاتے ہیں۔

ڈبوں میں بند گوشت کو محفوظ کرنے کیلئے نائٹریٹس (Nitrates) کا استعمال کیا جاتا ہے، جوکہ بعض سائنسدانوں کے نزدیک کینسر پیدا کرنے کا موجب بنتے ہیں۔ اس لیے اس تحقیق میں لوگوں کو تاکید کی گئی ہے کہ وہ کینسر کے خطرے سے بچنے کیلئے پروسیسڈ سرخ گوشت سے اجتناب کریں۔

جو لوگ صحت کے حوالے سے مختلف مسائل کا شکار ہوتے ہیں، اگر وہ سرخ گوشت کی مقدار اپنی معمول کی خوراک میں کم کردیں تو سٹڈیز کے مطابق ان کی صحت میں بھی بہتری کی کافی گنجائش موجود ہے۔ چند برس قبل برطانیہ کے صحت کے حوالے سے قائم کردہ ’سائنٹفک ایڈوائزری کمیشن‘ نے اپنے شہریوں کیلئے تجویز کیا تھا کہ وہ اوسطاً 70 گرام یا (2.

5oz) روزانہ، جو ہفتے میں تقریباً 500 گرام یا (17oz) بنتا ہے، سرخ گوشت استعمال کرسکتے ہیں تاکہ بڑی آنت کے کینسر کے خطرے کو کم سے کم کیا جاسکے۔

ہمارے ہاں شہروں میں فاسٹ فوڈ کلچر بھی جڑ پکڑ چکا ہے۔ نوجوان اور متوسط طبقے سے تعلق رکھنے والی فیملیز بھی بڑی کثرت اور رغبت کے ساتھ اسے کھاتے ہیں۔ ان فاسٹ فوڈ ایٹمز میں بھی چکن یا گوشت کی دوسری اقسام شامل ہوتی ہیں۔ اسے معمول کا حصہ بنا لینے سے سب سے زیادہ موٹاپے کی شکایت پیدا ہوتی ہے، جوکہ خود ایک بیماری ہے اور بہت سی بیماریوں کا سبب بنتی ہے۔ نیز ان کے استعمال سے صحت کے مختلف دوسرے مسائل کا بھی سامنا کرنا پڑسکتا ہے۔

چنانچہ فاسٹ فوڈز سمیت گوشت کی دوسری تمام مصنوعات کو بڑی احتیاط کے ساتھ اعتدال میں کھانا چاہیے، تاکہ اس سے آپ کے جسم کو نقصان کے بجائے فوائد حاصل ہوسکیں اور آپ ایک صحت مند زندگی گزار سکیں۔ عیدالاضحی کے موقع پر گوشت کھانے میں بے احتیاطی برتنے کی وجہ سے عام طور پر لوگوں کو جن مسائل کا سامنا ہوتا ہے، اس حوالے سے ہم نے معروف ماہر طب ڈاکٹر اظہار الحق ہاشمی سے گفتگو کی، جس میں ڈاکٹر صاحب نے طبی حوالوں سے مختلف پہلوؤں پر روشنی ڈالی۔ گوشت کے استعمال سے متعلق بہتر غذائی عادات اپنانے کے بارے میں ڈاکٹر اظہار الحق ہاشمی کا کہنا ہے: ’’ایک عام انسانی جسم کو متوازن غذا کی ضرورت ہوتی ہے، جس میں لمحیات، پروٹین وغیرہ بھی شامل ہیں جوکہ گوشت اور دوسری چیزوں سے حاصل ہوتی ہیں۔

تاہم یہ ضروری ہے کہ ہر چیز کو اعتدال میں اور ایک مخصوص حد تک استعمال کیا جائے تاکہ بے احتیاطی اور بدپرہیزی کی وجہ سے لوگوں کو صحت کے حوالے سے مختلف مسائل کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ بڑی ضیافتوں میں یا عیدالاضحیٰ کے موقع پر احتیاط نہ کرنے کی وجہ سے لوگوں کو طبی حوالے سے مختلف قسم کے مسائل کا سامنا ہوتا ہے۔

بعض لوگ دانتوں کے مسائل کا شکار ہوجاتے ہیں۔ عام طور پر گوشت کو اچھی طرح سے صاف کرکے نفاست سے نہیں بنایا گیا ہوتا، گوشت کے چھوٹے چھوٹے ذرے دانتوں میں رہ جاتے ہیں، جوکہ نقصان کا باعث بنتے ہیں۔ اس کے علاوہ گوشت کے ریشے یا ہڈی کے چھوٹے چھوٹے ٹکڑے بھی مسوڑھوں یا دانتوں کی تکلیف کا سبب بن سکتے ہیں۔ مسوڑھوں میں سوجن بھی ہوسکتی ہے یا ان میں Cuts بھی لگ سکتے ہیں۔

چھوٹا یا بڑا گوشت زیادہ مقدار میں کھانے سے معدے کی جھلیوں میں سوزش ہوجاتی ہے۔ زیادہ مقدار میں گوشت کھانے سے، گوشت آسانی سے ہضم نہیں ہوتا اور تکلیف کا باعث بنتا ہے۔ اس سے ڈائریا جیسی صورتحال کا سامنا بھی کرنا پڑسکتا ہے، یا Constipation (قبض) بھی ہو سکتی ہے۔

یہ دونوں کیفیات بہت تکلیف دہ ہیں۔ اس لیے ضروری ہے کہ پہلے سے ہی احتیاط کی جائے اور زیادہ مقدار میں گوشت کھانے سے اجتناب کیا جائے۔ گوشت کو زود ہضم بنانے کیلئے ضروری ہے کہ اسے بغیر مصالحے کے یا پھر کم مصالحے میں اور شوربے کے ساتھ بنایا جائے۔ نیز انسانی جسم کو مناسب مقدار میں ایسی غذا مثلاً پھل، سبزیاں وغیرہ لیتے رہنا چاہیے، جس سے اس کے جسم کو فائبر ملتا رہے اور غذا ہضم کرنے میں آسانی رہے۔‘‘

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: مسائل کا سامنا انسانی جسم کو زیادہ مقدار استعمال کیا ضروری ہے کہ گوشت کھانے اعتدال میں متوازن غذا کے موقع پر کی وجہ سے کے مطابق کیا جائے ہوتی ہیں سرخ گوشت کے مسائل سے مختلف لوگوں کو حوالے سے حاصل ہو پر گوشت گوشت کی گوشت کو ہوتا ہے گوشت کے کا شکار جاتا ہے ہوتی ہے کے لیے صحت کے اس لیے

پڑھیں:

پاکستان میں اسمارٹ فون کا استعمال 62 سے بڑھ کر 72 فیصد تک پہنچ گیا، وزیراعظم کو بریفنگ

اسلام آباد:

پاکستان میں اسمارٹ فون استعمال کرنے والوں کا تناسب 2024ء میں 62 فیصد سے بڑھ کر جون 2026ء میں 72 فیصد ہوگیا، وزیراعظم نے ملک بھر میں ڈیجیٹل انفراسٹرکچر مزید بہتر بنانے کی ہدایت کردی۔

ایکسپریس نیوز کے مطابق وزیراعظم کی زیر صدارت وفاقی وزارت انفارمیشن ٹیکنالوجی و ٹیلی کام کی کارکردگی پر اجلاس ہوا جس میں ادارے کی کارکردگی پر بریفنگ دی گئی۔

اجلاس میں وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ ، وزیر اقتصادی امور احد چیمہ ، وزیر آئی ٹی شزا فاطمہ، وزیر تعلیم خالد مقبول، وزیر مملکت خزانہ بلال اظہر کیانی، گورنر اسٹیٹ بینک جمیل احمد اور متعلقہ اعلیٰ سرکاری افسران نے شرکت کی۔

وزیراعظم کو بریفنگ میں بتایا گیا کہ موبائل اسپیکٹرم کی دستیابی جون 2025ء میں 274 میگا ہرٹز سے بڑھ کر جون 2026ء میں 880 میگا ہرٹز ہوگئی، موبائل اسپیکٹرم میں اضافے سے انٹرنیٹ کی رفتار اور کنیکٹیویٹی میں نمایاں بہتری آئے گی۔

وزیراعظم کو "کنیکٹ پاکستان وژن 2030ء " کے اجراء کی تیاریوں پر بریفنگ دی گئی، بتایا گیا ہے کہ باغ، آزاد جموں و کشمیر میں سافٹ ویئر ٹیکنالوجی پارک مکمل ہو چکا ہے، پاکستان میں اسمارٹ فون استعمال کرنے والوں کا تناسب 2024ء میں 62 فیصد سے بڑھ کر جون 2026ء میں 72 فیصد ہوگیا، جون 2026ء تک 5.1 ملین گھروں میں فکسڈ براڈ بینڈ /فائبر کنکشن دئیے گئے، حکومتی اقدامات کی بدولت پچھلے مالی سال آئی ٹی کے شعبے میں ہوئی برآمدات میں فری لانسرز کا حصہ 1164.7 ملین ڈالر رہا۔

بریفنگ میں بتایا گیا کہ ڈیجیٹل نیشن پاکستان کے تحت حکومت پاکستان کی 130 سروسز کو ڈیجیٹائز کیا جا چکا ہے، پچھلے مالی سال آئی ٹی کے شعبے میں 942,646 تربیتی سرٹیفکیٹس دیئے گئے جن میں 5053 ہائے اینڈ تربیتی پروگرام منعقد ہوئے ؛ لیڈرشپ اور سافٹ اسکلز کی 2700 ٹرینینگز کا انعقاد ہوا، ویمن انوویشن اینڈ اسٹارٹ اپ ایمپاورمنٹ لیب کے منصوبہ کا افتتاح جلد ہی ہوگا۔

وزیراعظم کو بتایا گیا کہ چینی کمپنی علی بابا کے ساتھ مفاہمتی یادداشت کے تحت وفاقی حکومت کی کئی وزارتوں اور اداروں میں مصنوعی ذہانت کی نفاذ اور اس حوالے سے کئی منصوبے اور تربیتی سیشنز منعقد کئے جا رہے ہیں۔

بتایا گیا کہ سیکیورٹی اینڈ ایکسچینج کمیشن، وزارت ریلوے، اسٹیٹ بینک آف پاکستان، فیڈرل بورڈ آف ریونیو، آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی، وزارت قومی غذائی تحفظ ، اسمال اینڈ میڈیم انٹرپرائزز ڈویلپمنٹ اتھارٹی، پاکستان سنگل ونڈو، وزارت قومی غذائی تحفظ، ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی آف پاکستان، پاکستان پوسٹ، وفاقی ترقیاتی ادارہ، وزارت بحری امور اور ہائیر ایجوکیشن کمیشن میں علی بابا مصنوعی ذہانت کے کئی منصوبوں پر کام کر رہی ہے۔

وزیراعظم نے پاکستان کی سالانہ آئی ٹی برآمدات 21 فیصد اضافے کے ساتھ 4.6 ارب امریکی ڈالر تک پہنچنے پر وزیر انفارمیشن ٹیکنالوجی اور تمام ٹیم کی پذیرائی کی۔

وزیراعظم نے کہا کہ آئی ٹی برآمدات میں نمایاں اضافہ حکومت کی ڈیجیٹل معیشت کی ترقی کے لیے لئے جانے والے اقدامات پالیسیوں کا ثمر ہے، ملک میں آئی ٹی کے شعبے کا فروغ اور آئی ٹی سے متعلق برآمدات میں اضافہ حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے، آئی ٹی کے شعبے میں دیئے جانے والے تربیتی کورسز کی معتبر تھرڈ پارٹی ویلیڈیشن یقینی بنائی جائے، آئی ٹی کے شعبے میں تربیت کے معیار پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا۔

وزیراعظم نے ملک بھر میں ڈیجیٹل انفراسٹرکچر مزید بہتر بنانے کی ہدایت کی۔

متعلقہ مضامین

  • ملک کے مختلف علاقوں میں بارشوں کا سلسلہ جاری، پنجاب، خیبرپختونخوا اور کشمیر میں مزید بارش کی پیشگوئی
  • موبائل سم صار فین ہوشیار ، پی ٹی اے کا اہم انتباہ جار ی
  • ارشد ندیم کی قیادت میں پاکستانی دستے کی کامن ویلتھ گیمز کی رنگا رنگ افتتاحی تقریب میں شاندار شرکت
  • کراچی، شہر کے مختلف علاقوں میں پولیس مقابلے، 5 ڈاکو زخمی حالت میں گرفتار
  • مشرق وسطیٰ کی صورتحال کنٹرول سے باہر ہوتی جارہی ہے، سیکریٹری جنرل اقوام متحدہ
  • کراچی میں 2 سال قبل شروع ہونیوالی مفت شٹل سروس کمرشل بنیاد پر چلائی جارہی ہے
  • کیا فواد خان نے بھی سرجری کروالی؟ نئی تصاویر پر سوشل میڈیا پر بحث
  • ویپنگ کے نقصانات: نئی تحقیق میں صحت کے سنگین خطرات سے خبردار
  • پاکستان کے دفاع، سیکیورٹی کے شعبے میں ٹیکنالوجی کا استعمال قابل فخر ہے، وزیراعظم
  • پاکستان میں اسمارٹ فون کا استعمال 62 سے بڑھ کر 72 فیصد تک پہنچ گیا، وزیراعظم کو بریفنگ