بانی سے کوئی ڈیل نہیں ،رہائی عدالت سے ہو گی، وفاقی وزیرریلوے
اشاعت کی تاریخ: 10th, June 2025 GMT
حجرہ شاہ مقیم (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 10 جون2025ء)وفاقی وزیر ریلوے حنیف عباسی نے واضح کیا ہے کہ حکومت کی جانب سے چیئرمین پاکستان تحریک انصاف عمران خان کے ساتھ کسی بھی قسم کی کوئی ڈیل نہیں کی جا رہی۔ انہوں نے کہا کہ عمران خان کی رہائی کا واحد راستہ عدالت ہے، ریلوے اسٹیشن کے دورہ کے موقع پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے حنیف عباسی کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی قیادت اور کارکن اب منہ چھپاتے پھر رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ہم نے بھی جیلیں کاٹی ہیں، الیکشن سے قبل سزا یافتہ ہو کر جیل گئے لیکن کبھی رونا دھونا نہیں کیا کیونکہ ہمارا ضمیر مطمئن تھا کہ ہم حق پر ہیں۔وفاقی وزیر نے کہا کہ پی ٹی آئی کو اپنی ماضی کی غلطیوں کا اعتراف کرتے ہوئے قوم سے معافی مانگنی چاہیے، جب بھارت پاکستان پر حملہ آور تھا، اس وقت وہ پاک فوج پر طعن و تشنیع کر رہے تھے۔(جاری ہے)
انہوں نے دعوی کیا کہ بھارت سے بھی کہا گیا تھا کہ وہ معافی مانگے مگر اس نے ایسا نہیں کیا تو پاکستان کی بہادر افواج نے بھارت کے 26ایئر بیس تباہ کیے، 22چوکیاں فتح کیں اور دشمن کے چھ جنگی طیارے، جن میں رافیل طیارے بھی شامل تھے، مار گرائے۔ ان کا کہنا تھا کہ جب دشمن حملہ آور ہو، تو قوم کو متحد ہو کر اپنی افواج کے ساتھ کھڑا ہونا چاہیے۔حنیف عباسی نے مزید کہا کہ جنرل سید عاصم منیر میدان کے فیلڈ مارشل ہیں جبکہ ماضی میں ایک شخص ڈرائنگ روم سے فیلڈ مارشل بن بیٹھا تھا۔ریلوے کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے وزیر ریلوے نے کہا کہ بولان ایکسپریس، جو پہلے ہفتے میں صرف دو دن چلتی تھی، اب روزانہ چلا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جب تک ریلوے کو اپ گریڈ نہیں کیا جائے گا، اس وقت تک تھر کول اور ریکوڈک منصوبے بھی ترقی نہیں کر سکیں گے۔انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ریلوے کی بہتری کے بغیر ہم سنٹرل ایشیا، یورپ اور ماسکو تک ریلوے روابط کا خواب پورا نہیں کر سکتے۔ریلوے ملازم ایس ٹی محمد اکرم کی ناگہانی وفات پر بات کرتے ہوئے حنیف عباسی نے کہا کہ انسانی جان کی کوئی قیمت نہیں، لیکن ریلوے نے متاثرہ خاندان کی مالی معاونت کر دی ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ مستقبل میں صرف وہی ریلوے ملازم ادارے میں کام کرے گا جو اپنی ذمہ داری پوری کرے گا، بصورت دیگر غفلت کے مرتکب افراد کو سخت نتائج کا سامنا کرنا پڑے گا۔بعد ازاں وفاقی وزیر نے اوکاڑہ ریلوے اسٹیشن کا دورہ کیا اور جاری تعمیراتی کاموں کا جائزہ لیا۔.
ذریعہ
ذریعہ: UrduPoint
کلیدی لفظ: تلاش کیجئے وفاقی وزیر حنیف عباسی کرتے ہوئے نے کہا کہ انہوں نے نہیں کی تھا کہ
پڑھیں:
کوئٹہ، ہماری عبادتگاہ مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانا قابل مذمت ہے، سکھ برادری
پریس کلب کوئٹہ میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے سکھ برادری کے رہنماؤں نے کہا کہ سکھ برادری کو اعتماد میں لئے بغیر انکی عبادتگاہ کی عمارت کو منہدم کر دیا گیا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ کوئٹہ میں سکھ برادری کے رہنماء سردار جسبیر سنگھ اور کنزیومر سول سوسائٹی بلوچستان کے رہنماء خیر محمد شاہین نے کہا ہے کہ آرچر روڈ پر موجود سکھوں کا قدیمی گردوارہ 1953ء سے سینٹ گیبریل سکول قائم تھا، جسے مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانے کا کام شروع کیا گیا ہے، جس کی مذمت کرتے ہیں۔ یہ گردوارہ سکھ برادری نے تعلیمی سرگرمیوں کے لئے سینٹ گیبرل سکول کو دے رکھا تھا۔ انہوں نے وزیراعظم پاکستان اور دیگر اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ گزشتہ دنوں نامعلوم افراد کی جانب سے سکھوں کے مقدس گردوارے کی 90 سالہ پرانی عمارت کو مسمار کرنے کا نوٹس لیکر گردوارے سکھ برادری کے حوالے کیا جائے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے کوئٹہ پریس کلب میں پریس کانفرنس کے دوران کیا۔
انہوں نے کہا کہ ملک بھر میں سکھ برادری کی ہزاروں ایکڑ اراضیات، مقدس مقامات بدستور لینڈ مافیا کے قبضے میں ہیں۔ حکومت کی جانب سے ان کی واگزاری کے لئے کوششیں بار آور ثابت نہیں ہو رہی ہے۔ آرچر روڈ پر واقع گردوارہ کو شری سنگھ بنیاد گرودت سنگھ نے تعمیر کیا تھا اور پرانے بندوبست کے ریکارڈ میں فرد انتقالات انہی کے نام سے اب بھی موجود ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ وہی گرودت سنگھ ہے۔ جنہوں نے گورنمنٹ اسپیشل ہائی اسکول جو خالصہ کہلاتی تھی کی بنیاد رکھی تھی اور جاتے ہوئے اسکول کی 20 ایکڑ اراضی مقامی بچوں کی تعلیمی مقاصد کے لئے وقف کر دی تھی۔ یہ عمارت سینٹ گیبرل اسکول یا محکمہ اوقاف کی نہیں، بلکہ سکھوں کی مذہبی عبادت گاہ گردوارہ سکھ سبھا کی ملکیت ہے۔ سکھ برادری کو اعتماد میں لئے بغیر ان کی عبادت گاہ کی عمارت کو منہدم کر دیا گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ مبینہ طور پر کہا جا رہا ہے کہ محکمہ اوقاف نے تجارتی مقاصد کے لئے عمارت کی زمین تجارتی بنیادوں پر فروخت کر دی ہے، اگر یہ درست ہے تو انتہائی تشویش کی بات ہے کہ محکمہ اوقاف متروکہ عمارت کی نگران ہوتی ہے مالک نہیں۔ محکمہ اوقاف سکھوں کے نمائندوں کی موجودگی میں سکھوں کی متراکہ املاک کو کس طرح قانون کے تحت فروخت کرنے کی مجاز ہے۔ 2014ء میں سپریم کورٹ نے واضح فیصلہ دیا تھا کہ پاکستان میں سکھوں کے تمام مقدس مقامات پر جائیدادوں کو حکومت پاکستان کی جانب سے مکمل تحفظ فراہم رہے گا۔ اس کے علاوہ آئین میں تمام اقلیتوں کے مذہبی عمارات کو تحفظ کا حق حاصل ہے۔ ہم وزیراعظم پاکستان اور اعلیٰ حکام سے مطالبہ کرتے ہیں کہ آرچر روڈ کے منہدم مذکورہ گردوارے کو فی الفور اس کی اصل حالت میں بحال کرکے اسے سکھ برادری کے حوالے کیا جائے تاکہ انصاف کے تقاضے پورے ہوسکیں۔