فلسطینی صدر محمود عباس کا حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ، عرب و عالمی افواج کی تعیناتی کی تجویز
اشاعت کی تاریخ: 10th, June 2025 GMT
فلسطینی صدر محمود عباس نے فلسطینی مزاحمتی تنظیم حماس سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ غزہ کی حکومت ترک کرتے ہوئے اپنے تمام ہتھیار اور فوجی صلاحیتیں فلسطینی سیکیورٹی فورسز کے حوالے کرے۔
بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق محمود عباس نے یہ مطالبہ ایک خط کے ذریعے فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون اور سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کے سامنے رکھا۔
اپنے خط میں انہوں نے غزہ میں عرب اور بین الاقوامی افواج کی تعیناتی کا مطالبہ بھی کیا، جو اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کے مینڈیٹ کے تحت فلسطینی عوام کے تحفظ کے لیے تعینات کی جائیں۔
اپنے خط میں محمود عباس نے دو ٹوک الفاظ میں کہا کہ: "حماس اب غزہ پر حکومت نہیں کرے گی۔ اسے اپنے ہتھیار اور تمام عسکری نظام فلسطینی سیکیورٹی فورسز کے حوالے کرنا ہوں گے۔"
انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ فلسطینی اتھارٹی، اقوامِ متحدہ کی نگرانی میں امن قائم رکھنے کے لیے بین الاقوامی فورسز کی تعیناتی کے لیے تیار ہے۔
یہ خط ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب فرانسیسی صدر اور سعودی ولی عہد رواں ماہ ایک بین الاقوامی کانفرنس منعقد کرنے جا رہے ہیں، جس میں فلسطینی ریاست کے قیام اور خطے میں امن و استحکام کے لیے ممکنہ راستوں پر غور کیا جائے گا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: بین الاقوامی کے لیے
پڑھیں:
پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو امریکا کی مدد پر فوجی بیسز نشانہ بنانے کی دھمکی
ایرانی پاسداران انقلاب نے برطانیہ کو دھکمی دی ہے کہ اگر ایران پر امریکا اور اسرائیل کے حملوں میں ملوث ہوئے تو جارحیت کے استعمال ہونے والے کسی بھی بیس پر ہمارے حملے جائز ہوں گے اور برطانیہ کو اپنے ماضی کو مزید خراب نہ کرے۔
ایرانی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق پاسداران انقلاب نے بیان میں کہا کہ برطانیہ نے ایران پر حالیہ امریکا اور اسرائیل کے حملوں میں بڑا کردار ادا کیا ہے لہٰذا ہم برطانوی حکومت جو ہمارے خطے کے لوگوں کی تقدیر خراب کرنے کی بنیادی وجہ ہے، کو تنبیہ کر رہے ہیں کہ وہ اپنے ماضی پر مزید بوجھ مت ڈالیں۔
پاسداران انقلاب نے کہا کہ امریکی بحری فورسز بحیریہ ہند میں فعال ہے مگر ان کے کروز میزائل کا ذخیرہ ختم ہوگیا ہے اور اسی لیے وہ انگلینڈ آر اے ایف فیئرفورڈ سے بی ون بمبار استعمال کرنا شروع کردیا ہے۔
بیان میں کہا گیا کہ حملہ آور امریکی فوج جنگ کے آغاز کے بعد بحر ہند میں موجود اپنے بحری جہازوں سے کروز میزائل داغنے پر انحصار کر رہی تھی مگر ان جہازوں کے میزائلوں کا ذخیرہ ختم ہونے کے بعد کل برطانیہ کے فیرفورڈ فضائی اڈے سے پرواز کرنے والے بی ون طیاروں کے استعمال پر مجبور ہو گئی ہے۔
پاسداران انقلاب نے زور دیتے ہوئے کہا کہ جیسا کہ وزارت خارجہ کے عہدیداروں نے بھی واضح کیا ہے کہ ایرانی سرزمین کے خلاف استعمال ہونے والا کوئی بھی بیس ہمارے لیے نشانہ بنانے کے جائز ہدف ہوگا۔
مزید کہا گیا کہ برطانیہ کا اسلامی ممالک کی تقسیم، ان ممالک میں بڑے پیمانے پر قتل عام، آمرانہ حکومتوں کے قیام اور سب سے بڑھ کر فلسطین پر قبضے کو منظم کرنے اور اس کی سرپرستی کرتے ہوئے اسرائیل کے قیام جیسے سانحے کو جنم دینے کا ایک سیاہ ریکارڈ ہے۔
خیال رہے کہ پاسداران انقلاب کی جانب سے برطانیہ کو دھمکی ایک ایسے وقت میں دی گئی ہے جب ایران اور امریکا کے درمیان لڑائی اپنے عروج پر ہے دونوں اطراف سے ایک دوسرے کی تنصیبات پر حملے کیے جا رہے ہیں۔
برطانیہ پہلے ہی نئے قانون کے تحت پاسداران انقلاب کو قومی سلامتی کے لیے خطرہ قرار دے چکا ہے جبکہ ایران نے اس اقدام کو جارحانہ قرار دیتے ہوئے جواب میں اسی طرح کا اقدام کرنے کا عزم ظاہر کر دیا ہے۔