ایران پر اسرائیلی حملہ کھلی اشتعال انگیزی ہے، نیتن یاہو خطے کو تباہی کی طرف دھکیل رہے ہیں: ترک صدر
اشاعت کی تاریخ: 13th, June 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
انقرہ: ترک صدر رجب طیب اردوان نے ایران پر اسرائیلی فضائی حملے کو خطے میں امن و استحکام کے خلاف ایک سنگین سازش قرار دیتے ہوئے شدید مذمت کی ہے۔
صدر اردوان نے اپنے سخت ردعمل میں کہا کہ اسرائیل نے جس انداز میں ایران پر حملہ کیا، وہ کھلی اشتعال انگیزی اور بین الاقوامی قوانین کی صریح خلاف ورزی ہے، یہ حملے ایسے وقت میں کیے گئے جب ایران کے جوہری پروگرام پر سفارتی مذاکرات اپنے حتمی مراحل میں داخل ہو چکے تھے، جس سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ اسرائیلی قیادت خطے کو ایک بڑے بحران کی طرف دھکیلنے پر تُلی ہوئی ہے۔
ترک صدر نے مزید کہا کہ نیتن یاہو کی حکومت نہ صرف غزہ میں انسانیت سوز مظالم کی مرتکب ہو رہی ہے بلکہ اب پوری دنیا کو بدامنی کی لپیٹ میں لینے کے درپے ہے، نیتن یاہو اور اس کے ظلم و جبر کے نیٹ ورک کو فوری طور پر روکے بغیر دنیا میں امن کا قیام ممکن نہیں۔
ترک صدر نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا کہ وہ اسرائیلی جارحیت کا فوری نوٹس لے اور مشرقِ وسطیٰ کو جنگ کی آگ میں جھونکنے کی کوششوں کو روکے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
لبنان میں اسرائیلی حملے پر بھارتی وزیراعظم نریندر مودی خاموش کیوں ہیں، جے رام رمیش
کانگریس لیڈر نے کہا کہ لیکن یہ بات چیت اب تک حتمی شکل نہیں لے سکی ہے، جسکی اہم وجہ لبنان میں اسرائیل کی جاری فوجی کارروائی ہے، جس میں غیر معمولی دراندازی دیکھنے کو ملی ہے۔ اسلام ٹائمز۔ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے ذریعہ اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو کو مبینہ طور پر پھٹکار لگائے جانے کے متعلق خبروں پر انڈین نیشنل کانگریس کا ردعمل سامنے آیا ہے۔ کانگریس کا کہنا ہے کہ لبنان میں اسرائیلی حملے کی ہر کوئی مذمت کر رہا ہے، لیکن وزیر اعظم مودی اس پر خاموشی اختیار کئے ہوئے ہیں۔ کانگریس کے جنرل سکریٹری اور راجیہ سبھا رکن جے رام رمیش نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر لکھا کہ مغربی ایشیا میں جنگ کو روکنے کے لئے امریکہ اور ایران کے درمیان بات چیت جاری ہے۔ ایسے کسی معاہدہ کا فوری اثر آبنائے ہرمز کے پھر سے کھلنے اور تیل کی قیمتوں پر دباؤ کم ہونے کے طور پر سامنے آئے گا اور ان دونوں معاملوں سے ہندوستان کے بڑے مفادات جڑے ہوئے ہیں۔
جے رام رمیش اپنی ایکس پوسٹ میں مزید لکھتے ہیں کہ لیکن یہ بات چیت اب تک حتمی شکل نہیں لے سکی ہے، جس کی اہم وجہ لبنان میں اسرائیل کی جاری فوجی کارروائی ہے، جس میں غیر معمولی دراندازی دیکھنے کو ملی ہے۔ ساتھ ہی انہوں نے لکھا کہ خود صدر ٹرمپ نے بنجامن نیتن یاہو کو لے کر بے حد ناراضگی اور غصہ ظاہر کیا ہے، یہاں تک کہ نازیبا الفاظ کا بھی استعمال کیا ہے۔ کانگریس کے راجیہ سبھا رکن جے رام رمیش کے مطابق دنیا کے کئی دیگر ممالک نے بھی لبنان میں اسرائیل کے حملے کی مذمت کی ہے۔
حیرانی کی بات نہیں کہ جس ایک حکومت کے سربراہ نے اسرائیل کے ذریعہ لبنان کو تباہ کرنے اور امریکہ-ایران معاہدے کو پٹری سے اتارنے کی کوششوں پر مکمل طور سے خاموشی اختیار کئے ہوئے ہیں، وہ بھارتی وزیراعظم نریندر مودی ہیں۔ انہوں نے طنزیہ انداز میں لکھا کہ کیا نام نہاد فادر لینڈ ان کے لئے ان کے اصل مدر لینڈ سے کہیں زیادہ اہمیت رکھتی ہے۔