ڈاکٹر عافیہ کی رہائی درخواست پر حکومت کو آخر کیا نقصان ہے: اسلام آباد ہائیکورٹ
اشاعت کی تاریخ: 14th, June 2025 GMT
اسلام آباد (نوائے وقت رپورٹ، وقائع نگار) اسلام آباد ہائیکورٹ نے امریکا میں قید ڈاکٹر عافیہ صدیقی کی رہائی اور وطن واپسی سے متعلق کیس میں ایڈیشنل اٹارنی جنرل سے سوالات کے جوابات طلب کر لیے۔ اسلام آباد ہائی کورٹ میں جسٹس سردار اعجاز اسحاق خان نے کیس کی سماعت کی، ڈاکٹر فوزیہ صدیقی کے وکیل عمران شفیق عدالت میں پیش ہوئے۔ عدالت نے سوال پوچھا کیا حکومتِ پاکستان امریکی عدالت میں عافیہ صدیقی کی رہائی سے متعلق عدالتی معاونت کا جواب جمع کرائے گی؟۔ حکومت عافیہ صدیقی کی اپنی رہائی کے لیے دائر کردہ درخواست میں بطور معاون عدالتی بیان جمع کرانے کے لیے تیار ہے تاکہ انہیں انسانی بنیادوں پر رہا کیا جا سکے؟۔ ڈاکٹر فوزیہ صدیقی کے وکیل عمران شفیق ایڈووکیٹ نے عدالت سے استدعا کی کہ حکومت کو ہدایت دی جائے کہ وہ امریکہ میں عدالتی معاونت پر رضا مندی ظاہر کرے، اس جواب میں حکومت نے عافیہ صدیقی کی دائر درخواست کے مندرجات کی حمایت یا تصدیق نہیں کرنی۔ وکیل عمران شفیق نے کہا کہ حکومت پاکستان سے محض اتنا مطالبہ ہے کہ وہ عافیہ صدیقی کی درخواست کے مندرجات سے قطع نظر محض مختصر سی استدعا کرے کہ عافیہ صدیقی کو انسانی بنیادوں پر رہا کیا جائے۔ جسٹس سردار اعجاز اسحاق خان نے کہا کہ اس معمولی سی استدعا سے حکومت پاکستان کو آخر کیا نقصان ہو سکتا ہے؟، پاکستان کے اٹارنی جنرل منصور عثمان اعوان گزشتہ ایک پیشی پر اسی عدالت میں بیان دے چکے ہیں۔ جسٹس سردار اعجاز اسحاق خان نے کہا کہ اٹارنی جنرل پہلے کہہ چکے ہی کہ حکومت امریکہ میں عدالتی معاونت کی درخواست دائر کرے گی تو پھر اب کیا مسئلہ ہے؟، اگلی سماعت پر حکومتی موقف سے آگاہ کریں اور عدالت کو دلیل سے مطمئن کریں کہ اس میں حکومت کا نقصان کیا ہے؟۔ جسٹس سردار اعجاز اسحاق خان نے کہا کہ سابقہ اپوزیشن نے اس وقت کے وزیر اعظم کو خطوط لکھے کہ عافیہ کی رہائی کے لئے قانونی اقدامات کریں، عدالت نے استفسار کیا کہ حکومت کے بعد حالات میں ایسی کیا تبدیلی ہے کہ حکمران جماعت کا موقف بدل گیا؟۔ فاضل جج نے مزید کہا کہ ایسی نظیریں موجود ہیں کہ حکومت پاکستان ماضی میں ایسے معاون عدالتی بیان داخل کر چکی ہے۔ جب پہلے معاون عدالتی بیان داخل ہوتے تھے تو اب کیا قانونی پیچیدگی ہے، ایڈیشنل اٹارنی جنرل ہدایات لیکر عدالت کو مطمئن کریں۔ کیس کی سماعت بدھ تک ملتوی کردی گئی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: عافیہ صدیقی کی اٹارنی جنرل نے کہا کہ کہ حکومت کی رہائی
پڑھیں:
حکومت نے نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 کا اجرا کر دیا
وفاقی وزیر اوورسیز پاکستانیز چوہدری سالک حسین نے نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 کا اجرا کر دیا۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ آج کا دن پاکستان میں لیبر مائیگریشن کے نظم و نسق کو مضبوط بنانے کی جانب ایک اہم سنگ میل ہے۔ یہ پالیسی ہر اس پاکستانی سے کیے گئے قومی عزم کی عکاس ہے جو بہتر مواقع کی تلاش میں اپنا گھر چھوڑتا ہے۔انہوں نے کہا کہ محفوظ اور منظم نقل مکانی، مہارتوں کی ترقی، کارکنوں کا تحفظ، تارکینِ وطن کی شمولیت اور وطن واپس آنے والوں کی بحالی اس پالیسی کے بنیادی ستون ہیں۔ تکنیکی جدت، آبادیاتی تبدیلیاں اور لیبر مارکیٹ کے بدلتے ہوئے تقاضے دنیا بھر کی معیشتوں کو نئی شکل دے رہے ہیں. اس لیے پاکستان کو اپنی افرادی قوت کو آج اور مستقبل دونوں کے مواقع کے لیے تیار کرنا ہوگا۔ ان کا کہنا تھا کہ نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 اس سمت میں ایک اہم قدم اور پاکستان کی افرادی قوت کو مستقبل کے تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے میں سنگ میل ثابت ہوگی۔چوہدری سالک حسین نے کہا کہ ایک کروڑ 20 لاکھ پاکستانی دنیا بھر میں مقیم ہیں اور اپنی پیشہ ورانہ مہارت، دیانت داری اور محنت کی بدولت پاکستان کے سفیر بن چکے ہیں۔ گزشتہ مالی سال میں سمندر پار پاکستانیوں نے 41 ارب امریکی ڈالر سے زائد کی ترسیلاتِ زر وطن بھیجیں، جو ملکی تاریخ کی بلند ترین رقم ہے۔ انہوں نے کہا کہ بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی کامیابی پاکستان کی کامیابی ہے اور ان کی فلاح و بہبود ہماری قومی ذمہ داری ہے۔انہوں نے کہا کہ یہ پالیسی اداروں، تجربات اور شراکت داریوں کو ایک مشترکہ وژن کے تحت یکجا کرتی ہے تاکہ ہر پاکستانی کارکن نقل مکانی کے پورے سفر کے دوران بہتر طور پر تیار، محفوظ اور معاونت یافتہ ہو۔ اس پالیسی کا محور ہر اس پاکستانی کا سفر ہے جو مواقع کی تلاش میں اپنا گھر چھوڑتا ہے، جبکہ ذمہ داری روانگی سے پہلے ہی شروع ہو جاتی ہے، جہاں نوجوان کارکنوں کو متعلقہ مہارتیں، قابلِ اعتماد معلومات اور اخلاقی بھرتی تک رسائی فراہم کی جائے گی۔وفاقی وزیر نے کہا کہ اس پالیسی کی کامیابی وفاقی اور صوبائی حکومتوں، نفاذ کرنے والے اداروں، آجروں، تربیتی اداروں، ترقیاتی شراکت داروں، نجی شعبے اور سمندر پار پاکستانیوں کے باہمی تعاون سے مشروط ہے۔ انہوں نے صوبائی حکومتوں، آئی سی ایم پی ڈی (ICMPD)، دیگر ترقیاتی شراکت داروں اور تمام اسٹیک ہولڈرز کا مشاورتی عمل میں تعاون پر شکریہ ادا کیا، جبکہ اسپیشل انویسٹمنٹ فیسیلیٹیشن کونسل (SIFC) کی مسلسل معاونت کو بھی سراہا۔انہوں نے کہا کہ ہجرت یا نقل مکانی غیر یقینی کا سفر نہیں بلکہ مواقع، وقار اور قومی ترقی کا راستہ ہونا چاہیے۔ آئیں مل کر ایسا مستقبل بنائیں جہاں ہر پاکستانی اعتماد کے ساتھ بیرون ملک جائے، فخر کے ساتھ وطن واپس آئے اور ہمیشہ ایک ایسی قوم سے جڑا رہے جو اس کی خدمات کی قدر اور عزت کرتی ہو۔ انہوں نے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ اس وژن کو عوام کے لیے بامعنی ترقی، پاکستان کے لیے دیرپا خوشحالی اور ہر سمندر پار پاکستانی اور اس کے خاندان کے روشن مستقبل کا ذریعہ بنائے۔