بھارت کو فیٹف میں بھی ناکامی کا سامنا؛ پاکستان عالمی اعتماد کے ساتھ کامیاب
اشاعت کی تاریخ: 14th, June 2025 GMT
بھارت کو آئی ایم ایف میں پاکستان کے خلاف رکاوٹ بننے میں ناکامی کی طرح فیٹف (FATF) میں بھی سبکی کا سامنا کرنا پڑا ہے جب کہ پاکستان عالمی اعتماد کے ساتھ کامیابی کی راہ پر ہے۔
ذرائع کے مطابق بھارت کے سفارتی وفد کی بھرپور کوشش رہی ہے کہ پاکستان کو فیٹف (FATF) کے اجلاس میں ایک بار پھر گرے لسٹ میں شامل کرایا جائے ، تاہم آج ہونے والے اجلاس میں پاکستان کو گرے لسٹ میں رکھنے کے بجائے رپورٹنگ پر رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
فیٹف (FATF) فیصلے کے بعد بھارت اپنے مقاصد حاصل کرنے میں مکمل طور پر ناکام ہو چکا ہے۔ اجلاس کے دوران چین نے پاکستان کے حق میں واضح مؤقف اختیار کیا اور ریلیف کی حمایت کی۔ اسی طرح ترکی اور چاپان نے بھی پاکستان کی مکمل حمایت کا اظہار کیا ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ آپریشن بنیان مرصوص کے بعد بھارت نے پاکستان کو سفارتی سطح پر تنہا کرنے کے لیے بھرپور کوششیں کیں۔ پاکستان کے خلاف پروپیگنڈا کے لیے بھارتی خفیہ ایجنسی ’’را‘‘ پیش پیش رہی اور اس نے پاکستان کو بدنام کرنے کے لیے نئی دہلی میں ایک ڈس انفو لیب بھی قائم کی ہے، جس کا مقصد پاکستان کے حوالے سے دنیا کو گمراہ کرنا ہے۔
اس ڈس انفو لیب کے ذریعے پاکستان کے خلاف جھوٹا اور من گھڑت پروپیگنڈا کیا جاتا ہے۔ اس کے علاوہ بھارتی حکومت کے سفارتی وفود دنیا کے مختلف ممالک گئے اور ہر جگہ پاکستان کے خلاف زہر افشانی کی گئی۔ دنیا کے کسی بھی ملک نے بھارت کے سفارتی وفد کے بیانیے کو پذیرائی نہیں دی۔
بھارت اسرائیل کی مدد سے ایف اے ٹی ایف کو پاکستان کے خلاف استعمال کرنے کی بھرپور کوشش کر رہا تھا، تاہم FATF کے رکن ممالک نے بھارت کے منفی پروپیگنڈے کو نظر انداز کیا۔ بھارت کی تمام تر سازشوں کے باوجود پاکستان کو گرے لسٹ میں شامل نہ کرنا ایک بڑی کامیابی ہے۔
ذرائع کے مطابق آپریشن بنیان مرصوص کے بعد سے پاکستان کی سفارتی پوزیشن مسلسل مضبوط ہو رہی ہے۔ ہندوتوا اور صہیونی لابی کی مشترکہ کوششیں بھی پاکستان کو گرے لسٹ میں شامل کروانے میں ناکام رہیں۔ یہ پاکستان کی سفارتی محاذ پر ایک اور شان دار کامیابی ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: پاکستان کے خلاف پاکستان کو
پڑھیں:
سلامتی کونسل میں پاکستان نے بھارت کو لاجواب کر دیا
قونصلر صائمہ سلیم— فائل فوٹواقوامِ متحدہ میں پاکستانی مشن کی قونصلر صائمہ سلیم نے سلامتی کونسل میں بھارت کو لاجواب کر دیا۔
اپنے بیان میں صائمہ سلیم نے کہا ہے کہ بھارت کا امن کا درس دینا مضحکہ خیز ہے، جو خود بین الاقوامی قانون اور سلامتی کونسل کی قراردادوں کی خلاف ورزی، ہمسایوں کے خلاف جارحیت اور خطے میں ریاستی سرپرستی میں دہشت گردی کا مرتکب ہے۔
انہوں نے کہا کہ آزاد جموں و کشمیر اور بھارت کے غیر قانونی زیرِ قبضہ جموں و کشمیر کے حالات میں واضح فرق ہے۔
صائمہ سلیم نے کہا کہ ایک طرف سیاسی آزادی ہے اور دوسری طرف جبر، گرفتاریوں اور انسانی حقوق کی پامالیوں کا سلسلہ جاری ہے، حقوق کا استعمال اور حقوق سے محرومی ایک جیسی چیزیں نہیں ہو سکتیں۔
اقوامِ متحدہ میں پاکستانی کونسلر صائمہ سلیم نے کہا کہ افغان سرزمین سے حملوں کی منصوبہ بندی اور سہولت کاری ہوئی۔
انہوں نے کہا کہ کشمیری عوام کے ناقابلِ تنسیخ حقِ خودارادیت سے انکار نہیں کیا جا سکتا، جموں و کشمیر نہ بھارت کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ داخلی معاملہ، بھارت کا انکار اس تنازع کی بین الاقوامی حیثیت تبدیل نہیں کر سکتا۔
قونصلر صائمہ سلیم نے کہا کہ بھارت خود مسئلہ کشمیر سلامتی کونسل میں لایا اور آج قراردادوں سے انحراف کر رہا ہے، مقبوضہ کشمیر میں جبر اور انسانی حقوق کی پامالیاں جاری ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ سندھ طاس معاہدے کی معطلی کا بھارتی فیصلہ بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی ہے، دریائے سندھ کا پانی زندگی کا ذریعہ ہے، جنگ کا ہتھیار نہیں۔
صائمہ سلیم نے یہ بھی کہا کہ بھارت سے منسلک دہشت گردی کے نیٹ ورک عالمی سطح تک پھیل چکے ہیں، بھارت میں ہندوتوا نظریات نے اسلاموفوبیا کو ریاستی پالیسی بنا دیا ہے۔