لاہور: گھر میں کام کرنے والی کمسن لڑکی سے زیادتی کا ملزم گرفتار، لڑکی اسپتال منتقل
اشاعت کی تاریخ: 15th, June 2025 GMT
—علامتی تصویر
لاہور میں کاہنہ کے علاقے ہلوکی میں گھر میں کام کرنے والی لڑکی سے زیادتی کے ملزم کو گرفتار کر لیا گیا۔
پولیس نے اس حوالے سے کہا ہے کہ ملزم یوسف نے 12 سال کی لڑکی کو گھر میں کام پر رکھا ہوا تھا۔
پولیس کے مطابق ملزم نے اہلِ خانہ کی غیر موجودگی میں لڑکی سے زیادتی کی۔
پولیس کا کہنا ہے کہ متاثرہ لڑکی بیدیاں روڈ بھٹہ چوک کی رہائشی ہے جسے اسپتال منتقل کیا گیا ہے۔
پولیس کا یہ بھی کہنا ہے کہ ملزم یوسف کے خلاف مقدمہ درج کر کے اسے جینڈر سیل کے حوالے کیا گیا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
پڑھیں:
سپریم کورٹ: 5 سالہ بچی سے زیادتی و قتل کے مجرم کی سزائے موت برقرار، فیصلہ سنا دیا گیا
فائل فوٹو
سپریم کورٹ نے 5 سالہ بچی سے زیادتی اور قتل کے مجرم کی اپیل مسترد کرتے ہوئے فیصلے میں کہا کہ رضا کارانہ نشہ جرم کا دفاع نہیں بن سکتا۔
سپریم کورٹ کے جسٹس ہاشم خان کاکڑ نے فیصلہ تحریر کیا اور اپیل خارج کر دی گئی، تین رکنی بینچ میں جسٹس صلاح الدین پنہور اور جسٹس اشتیاق ابراہیم شامل تھے۔
عدالتی فیصلے میں کہا گیا کہ رضاکارانہ طور پر نشہ کرنے والا شخص جرم سے استثنیٰ کا دعویٰ نہیں کر سکتا، اپنی مرضی سے شراب یا نشہ آور چیز استعمال کرنے والا مجرمانہ ذمہ داری سے بچنے کا حق نہیں رکھتا، جرم سے استثنیٰ صرف اس صورت میں ممکن ہے جب کسی شخص کو اس کی مرضی کے خلاف یا لاعلمی میں نشہ دیا گیا ہو۔
سپریم کورٹ نے ٹرائل کورٹ اور ہائیکورٹ کی جانب سے دی گئی سزائے موت برقرار رکھی، مجرم کے وکیل نے نشے کی حالت کو بنیاد بنا کر سزائے موت عمر قید میں تبدیل کرنے کی استدعا کی، مجرم نے خود تسلیم کیا کہ اس نے اپنی مرضی سے شراب پی تھی۔
فیصلے میں کہا گیا کہ رضاکارانہ نشہ مجرمانہ عمل کے دفاع کے طور پر استعمال نہیں کیا جا سکتا، مجرم نے بے دردی سے کمسن بچی کو زیادتی کے بعد قتل کیا، جرم انتہائی سنگین نوعیت کا ہے۔