کراچی؛ قبرستان سے 40 سالہ نامعلوم شخص کی کمبل میں لپٹی تشدد زدہ لاش برآمد
اشاعت کی تاریخ: 17th, June 2025 GMT
کراچی:
سائٹ ایریا میٹرووِل شہدا قبرستان سے 40 سالہ نامعلوم شخص کی کمبل میں لپٹی ہوئی لاش ملی ہے جسے نامعلوم ملزمان نے انتہائی بے دردی سے تشدد کا نشانہ بنانے کے بعد قتل کیا۔
تفصیلات کے مطابق پیر کی صبح سائٹ اے تھانے کے علاقے سائٹ ایریا میٹرووِل شہدا قبرستان سے ایک شخص کی کمبل میں لپٹی ہوئی لاش ملی ہے جسے نامعلوم ملزمان نے انتہائی بے دردی سے تشدد کا نشانہ بنانے کے بعد قتل کیا۔ اطلاع ملنے پر پولیس موقع پر پہنچ گئی اور جائے وقوع سے شواہد اکٹھا کرنے کرنے کے لیے کرائم سین یونٹ کو طلب کر لیا گیا۔
مقتول کی لاش قانونی کارروائی کے لیے ایدھی ایمبولینس کے ذریعے عباسی شہید اسپتال منتقل کی گئی۔ مقتول کی عمر 40 سال کے قریب ہے جبکہ مقتول کے پاس سے ایسی کوئی چیز برآمد نہیں ہوئی جس کی مدد سے اس کی شناخت ممکن ہو سکے۔
ایس ایچ او سائٹ اے عمران آفریدی نے بتایا کہ مقتول کی لاش 10 سے 12 گھنٹے پرانی معلوم ہوتی ہے، مقتول کو نامعلوم ملزمان نے انتہائی بے دردی سے تشدد کا نشانہ بنا کر قتل کیا ہے، پولیس نے لاش کا پوسٹ مارٹم کرنے کے لیے عباسی شہید اسپتال منتقل کیا ہے تاکہ وجہ موت کا حتمی تعین ہو سکے۔
انہوں نے بتایا کہ مقتول کی شناخت کی بھی کوشش کی جا رہی ہے، اندھے قتل کے واقعے کی مختلف پہلوؤں پر تفتیش کی جا رہی ہے۔
Tagsپاکستان.
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
پڑھیں:
ٹک ٹاکر حکیم بابر کیس میں ملزمان کا موقف بھی سامنے آگیا
سیالکوٹ(نیوز ڈیسک) ٹک ٹاکر حکیم بابر سے متعلق مبینہ زہر خوری کیس میں نامزد ملزم صفدر کے بھائی ملک سلیم کھوکھر کا ویڈیو بیان منظر عام پر آگیا جس میں انہوں نے تمام الزامات کو مسترد کر دیا ہے۔
ویڈیو بیان میں ملک سلیم کھوکھر نے دعویٰ کیا کہ محمد افضل عرف حکیم بابر نے سوشل میڈیا پر ویوز حاصل کرنے کیلئے خود کو زہر خورانی کا شکار ظاہر کرنے کا ڈرامہ رچایا، اسپتال کی رپورٹ میں بھی یہ بات سامنے آئی ہے کہ حکیم بابر کو کسی قسم کا زہر نہیں دیا گیا۔
انہوں نے کہا کہ حکیم بابر نشے کے عادی ہیں اور کسی مبینہ اوور ڈوز کے واقعے کو ان کے خاندان پر ڈالنے کی کوشش کی جا رہی ہے، ان کے خاندان کا حکیم بابر کے ساتھ کسی قسم کا کوئی ذاتی تنازع یا دشمنی موجود نہیں۔
ملک سلیم کھوکھر انکشاف کیا کہ حکیم بابر کا اصل نام افضل ہے اور وہ کوئی مستند حکیم نہیں بلکہ تعلیمی طور پر بھی میٹرک پاس نہیں ہیں، جھوٹے مقدمے کی وجہ سے میرا خاندان شدید ذہنی دباؤ اور پریشانی کا شکار ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ رات کے وقت پولیس کی جانب سے دو بار گھر پر چھاپے مارے گئے، کو ہراساں مت کیا جائے۔
انہوں نے ڈی پی او سیالکوٹ اور آئی جی پنجاب سے اپیل کی کہ کیس کی شفاف اور میرٹ پر انکوائری کی جائے اور حقائق کی روشنی میں فیصلہ کیا جائے۔
مزید پڑھیں۔مشرق وسطیٰ کی صورتحال، خام تیل کی قیمتوں میں 2 فیصد اضافہ