بھارتی پارلیمنٹ کا بجٹ 5 ارب اور پاکستان میں 16 ارب رکھا گیا ہے، بیرسٹر گوہر
اشاعت کی تاریخ: 18th, June 2025 GMT
اسلام آباد:
چیئرمین پی ٹی آئی رکن قومی اسمبلی بیرسٹر گوہر علی خان نے کہا ہے کہ بھارتی پارلیمنٹ کا بجٹ 5 ارب ہے اور پاکستان میں 16 ارب رکھا گیا ہے۔
قومی اسمبلی بجٹ اجلاس میں خطاب کرتے ہوئے بیرسٹر گوہر علی خان نے کہا کہ فنانس بل سال بھر میں سب سے بڑی ذمہ داری ہے جس کا پہلا اصول غیر پُرتعیش اشیا پر ٹیکس نہ لگانا ہے، بجٹ میں عام آدمی کو دیکھا جانا چاہئے، سالانہ 22 لاکھ آمدنی پر کوئی ٹیکس نہیں ہونا چاہئے۔
انہوں نے کہا کہ آج بانی چیئرمین کی خدمات کو بھی پس پشت ڈالا جارہا ہے جن کے دور میں جی ڈی پی چھ فیصد سے زائد تھا، آج معیشت کی صورتحال کیا ہوچکی ہے، حال یہ ہے کہ سولہ ارب روپے ٹیکس ٹارگٹ سے کم جمع ہوا۔
بیرسٹر گوہر نے کہا کہ بھارتی وزیر اعظم من موہن سنگھ نے اپوزیشن لیڈر کی بجٹ تجاویز کو شامل کرنے کا اعلان کیا تھا، یہاں بھی حکومت بجٹ میں اپوزیشن کی تجاویز شامل کرے۔
چیئرمین پی ٹی آئی نے کہا کہ بجٹ میں ٹیکس معاملے پر اپیل کا حق بھی ختم کیا جا رہا ہے، سپریم کورٹ کے شریعت بینچ نے اپنے فیصلہ میں ہر شہری کو اپیل کا حق دیا ہے، کسی معاملے پر کسی بھی شہری کو اپیل سے محروم کرنا خلاف شریعت ہے۔
انہوں نے کہا کہ تنخواہ دار طبقے پر سالانہ 22 لاکھ آمدنی پر کوئی ٹیکس نہیں ہونا چاہئے، موجودہ بجٹ میں سپریم کورٹ کے دو فیصلوں کی خلاف ورزی کی جارہی ہے، نیب قانون میں ترمیم کی گئی پچاس کروڑ سے کم پر کیس نہیں ہوگا۔
بیرسٹر گوہر نے کہا کہ پی ڈی ایم حکومت کے دور میں 98 مقدمات درج ہوئے تھے جبکہ نیب 1130 مقدمات درج کرتی رہی ہے، نیب کا 98 مقدمات کے لئے بجٹ ساڑھے سات ارب روپے اور اسلام آباد کی باقی عدالتوں کا بجٹ ڈیڑھ ارب رکھا گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ بھارتی پارلیمنٹ کا بجٹ 5 ارب ہے اور پاکستان کی پارلیمنٹ کا بجٹ 16 ارب رکھا گیا ہے، بجٹ میں شعبہ صحت و تعلیم کیلئے فنڈز میں کمی کی گئی ہے۔
بیرسٹر گوہر نے کہا کہ ہم نے بھارت کو شکست دی مگر تیاری کی پھر بھی ضرورت ہے، فوج اور قوم نے ملکر بھارت کو شکست دی، ہمیں اے آئی میں سرمایہ کاری کرنے کی ضرورت ہے۔
انہوں نے کہا کہ ویر دفاع کا خیبرپختونخوا میں بچوں کے سب سے زیادہ اسکول سے باہر ہونے کا بیان درست نہیں، اقتصادی سروے وزیر دفاع کی بات کو غلط ثابت کر رہا ہے، پنجاب میں 32 فیصد، خیبر پختونخوا میں 30 فیصد اور سندھ میں 47 فیصد بچے اسکولوں سے باہر ہیں۔
Tagsپاکستان.
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
کلیدی لفظ: پاکستان پارلیمنٹ کا بجٹ ارب رکھا گیا ہے انہوں نے کہا کہ بیرسٹر گوہر
پڑھیں:
بھارت امن دشمن ہے، جموں و کشمیر نہ اُس کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ ہی داخلی معاملہ، پاکستان
اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں پاکستان کی جانب سے بھارت کو مؤثر جواب دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ بھارت خود امن دشمن ہے، جموں و کشمیر نہ اُس کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ ہی داخلی معاملہ۔
قرارداد 2788 کے تناظر میں تنازعات کے پرامن حل پر مباحثے کے دوران پاکستان مشن کی قونصلر صائمہ سلیم نے حق جواب میں کہا کہ ایک وفد نے تنازعات کے پُرامن حل پر ہونے والی بحث کو حقائق مسخ کرنے، انکار اور بے بنیاد الزامات کے ذریعے متاثر کرنے کی کوشش کی۔
انہوں نے کہا کہ بھارت کا امن کا درس دینا مضحکہ خیز ہے، جو خود بین الاقوامی قانون اور سلامتی کونسل کی قراردادوں کی خلاف ورزی، ہمسایوں کے خلاف جارحیت اور خطے میں ریاستی سرپرستی میں دہشت گردی کا مرتکب ہے۔
پاکستانی مندوب برائے اقوام متحدہ کا کہنا تھا کہ جموں و کشمیر نہ بھارت کا نام نہاد اٹوٹ انگ ہے اور نہ داخلی معاملہ؛ بھارت کا انکار اس تنازع کی بین الاقوامی حیثیت کو تبدیل نہیں کر سکتا۔ بھارت خود جموں و کشمیر کا مسئلہ سلامتی کونسل میں لے کر آیا تھا، مگر آج اسی کونسل کی قراردادوں سے انحراف کر رہا ہے۔ قراردادوں کی کوئی میعاد ختم نہیں ہوتی۔
قونصلر صائمہ سلیم نے کہا کہ آزاد جموں و کشمیر اور بھارت کے غیر قانونی زیر قبضہ جموں و کشمیر کے حالات میں واضح فرق ہے۔ ایک طرف سیاسی آزادی ہے، دوسری طرف جبر، گرفتاریوں اور انسانی حقوق کی پامالیوں کا سلسلہ جاری ہے۔
انہوں نے کہا کہ حقوق کا استعمال اور حقوق سے محرومی ایک جیسی چیزیں نہیں ہو سکتیں۔ کشمیری عوام کے ناقابل تنسیخ حقِ خودارادیت سے انکار نہیں کیا جا سکتا۔ سندھ طاس معاہدے کو یکطرفہ طور پر معطل کرنے کا بھارتی فیصلہ بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کے منشور سے بے اعتنائی کا مظہر ہے۔
پاکستانی مندوب نے حق جواب میں کہا کہ دریائے سندھ کا پانی پاکستان کے 24 کروڑ عوام کی زندگی کا ذریعہ ہے، جنگ کا ہتھیار نہیں۔ ایسے غیر ذمہ دارانہ اقدامات علاقائی امن کو خطرے میں ڈال سکتے ہیں۔ پاکستان دہشت گردی کا سب سے بڑا متاثرہ ملک ہے؛ ہزاروں بے گناہ شہریوں کی قربانیاں اس بات کا ثبوت ہیں کہ دہشت گردی کے خلاف پاکستان کی جدوجہد حقیقی ہے۔
قونصلر صائمہ سلیم کا کہنا تھا کہ بھارت سے منسلک دہشت گردی کے نیٹ ورک علاقائی حدود سے نکل کر عالمی سطح تک پہنچ چکے ہیں۔ کلبھوشن یادیو کیس اس کا ایک واضح ثبوت ہے۔ بھارت میں ہندوتوا پر مبنی انتہا پسند نظریات نے اسلاموفوبیا کو ریاستی پالیسی کا رنگ دے دیا ہے، جبکہ اقلیتیں امتیازی سلوک اور جبر کا سامنا کر رہی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان نے اشتعال انگیزی اور جارحیت کے باوجود تحمل کا مظاہرہ کیا، مذاکرات کا راستہ کھلا رکھا اور تنازعات کے پُرامن حل کو ترجیح دی۔ جنوبی ایشیا میں امن کا راستہ انکار یا ہٹ دھرمی نہیں بلکہ اقوام متحدہ کے منشور، بین الاقوامی قانون اور سلامتی کونسل کی قراردادوں کی پاسداری سے ہو کر گزرتا ہے۔
پاکستانی مندوب نے کہا کہ بھارت کو چاہیے کہ قرارداد 2788 پر اس کی روح اور متن کے مطابق عمل کرے، اپنے معاہداتی وعدے پورے کرے اور جموں و کشمیر تنازع کے پُرامن حل کے لیے سنجیدہ کردار ادا کرے۔