عائشہ خان باوقار خاتون تھیں، ان کی موت کا بروقت پتا نہ چلنا افسوسناک ہے، ایاز خان
اشاعت کی تاریخ: 24th, June 2025 GMT
چند روز قبل کراچی کے علاقے گلشن اقبال بلاک 7 کے نجیب ٹیرس سے ویٹرن اداکارہ عائشہ خان کے انتقال کی ایک خبر سامنے آئی لیکن یہ بھی ایک افسوس کا مقام تھا کہ ان کی موت کا کافی دن بعد پتا چلا جبکہ ان کی اولاد اور اہل محلہ تک کو کان و کان خبر نہ ہوسکی کہ ملک کی نامور آرٹسٹ دنیا سے رخصت ہو چکی ہیں۔
اس واقعے کے بعد سوشل میڈیا صارفین بھی غم وغصے کا اظہار کرتے دکھائی دیے اور بہت سے سوالات نے بھی جنم لیا اس لیے وی نیوز نے سینیئر آرٹسٹ ایاز خان سے عائشہ خان کے حوالے سے بات کی تاکہ ان کے بارے میں مزید احوال معلوم ہوسکے۔
’جب تک وہ زندہ تھیں کسی نے نہیں پوچھا‘سینیئر اداکار ایاز خان خان نے وی نیوز کو بتایا کہ عائشہ خان جب تک زندہ تھیں انہیں کسی نہیں پوچھا تو اب لوگوں کو کیا مسئلہ ہے، اب افسوس کیا جا رہا ہے کہ یہ کیسے ہوا اور کیا ہوا۔
ان کا کہنا تھا کہ جب آپ کسی آرٹسٹ کو ڈراموں میں نہیں لے رہے ہوتے اور مسلسل نظر انداز کر رہے ہوتے ہیں تو آپ سمجھ سکتے ہیں کہ اس پر کیا گزرتی ہوگی۔
پڑھی لکھی، باوقار شخصیتایاز خان کا کہنا تھا کہ عائشہ خان ایک پڑھی لکھی، باوقار، سلجھی ہوئی اور با اخلاق خاتون تھیں۔
انہوں نے کہا کہ وہ ہمارے نزدیک ہی رہتی تھیں اور جب جب ان سے ملاقات ہوتی تو کہتی تھیں ’ایاز کیسے ہو بیٹا‘ جبکہ میرے اپنے بال اب سفید ہو چکے لیکن ان کا وہی پیار بھرا انداز ہوتا۔ انہوں نے مزید کہا کہ وہ ہنس مکھ خاتون تھیں اور پان بھی باقائدگی سے کھایا کرتی تھیں۔
’عائشہ خان نے اولاد کو شوبز سے دور رکھا‘ایاز خان نے کہا کہ جب کوئی چلا جاتا ہے تو سب افسردہ ہوجاتے ہیں لیکن اولاد سے بڑھ کر کوئی نہیں ہوتا ان کی اولاد کے حوالے سے کوئی کہہ رہا ہے کہ اسلام آباد میں ہے اور کوئی بتا رہا ہے کہ ملک سے باہر ہے، بہرحال اگر میں کسی کو اپنی نجی زندگی کے بارے میں نہ بتاؤں تو کسی کو پتا نہیں چلتا۔
انہوں نے کہا کہ عائشہ خان نے بھی اپنی اولاد کو شوبز سے دور رکھا اس لیےان تک لوگوں کی رسائی نہیں ہو سکی لیکن افسوسناک اور تکلیف دہ بات یہ تھی کہ محلوں والوں تک کو پتا نہیں چلا۔
انہوں نے مزید کہا کہ اب وہ دنیا سے جا چکیں ہیں لیکن ان کا انداز، رکھ رکھاؤ اور سب کچھ ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔
’بڑے ستارے ایک ایک کر کے جا رہے ہیں ‘ایاز خان نے کہا کہ میری عائشہ خان سے آخری ملاقات ایک فنکشن میں ہوئی تھی، وہ وہاں پہلے سے بیٹھی ہوئی تھیں تو میں انہیں دیکھ کر ان سے ملنے گیا۔
انہوں نے کہا کہ عائشہ خان جیسے بڑے ستارے ایک ایک کرکے دنیا سے رخصت ہو رہے ہیں۔
’ہمیں سوشل میڈیا نے زندہ رکھا ہے‘ایاز خان نے کہا کہ آج کے زمانے کے بہت سے لوگ عائشہ خان کو نہیں جانتے ہوں گے اور بالکل اسی طرح کچھ عرصے بعد ہمیں بھی لوگ نہیں جانیں گے، یہ تو سوشل میڈیا نے ہمیں زندہ رکھا ہوا ہے۔
ان کی اولاد نے بھی آگے جا کر یہی سب کیا تو کیسا ہوگا؟سوشل میڈیا پر چلنے والی باتوں سے متعلق ایاز خان کا کہنا تھا کہ کوئی کچھ کہہ رہا ہے اور کوئی کچھ لیکن اب وہ دنیا سے جا چکی ہیں اور جہاں تک ان کی اولاد کی بات ہے تو ان کی بھی تو اولاد ہوگی، ان کے ساتھ بھی آگے جا کر ایسا ہو تو پھر کیسا ہوگا؟
’جس طرح عائشہ خان کے حوالے سے آنا چاہیے تھا نہیں آیا‘ایاز خان کا کہنا ہے کہ آپ کے ادارے کو فکر ہے تو آپ میرے پاس آئے اس کے علاوہ میڈیا پر عائشہ خان کے حوالے سے بہت زیادہ نہیں آیا تھوڑا بہت آیا لیکن جس طرح ہونا چاہیے تھا وہ نہیں ہوسکا۔
مریم اورنگزیب کا احسن اقدامایاز خان کے مطابق مریم اورنگزیب کی جانب سے پرانے پی ٹی وی اداکاروں کے لیے ایک کارڈ بنایا گیا تھا جس میں 15 لاکھ روپے تک کی سہولیات دی گئی تھیں جو کہ ایک احسن اقدام تھا ایسا ہونا چاہیے کیوں کہ آرٹسٹ عوام کے لیے اپنی زندگی دے دیتا ہے لیکن اپنی عمر کے آخری حصے میں وہ بے بس نظر آتا ہے۔
’عمر کے حساب سے بھی کردار نہیں مل رہے‘ایاز خان کا کہنا ہے کہ ہماری عمر کے حساب سے ہمیں باپ کا رول مل سکتا ہے لیکن شاید ہمیں کوئی باپ بننے کے لائق بھی نہیں سمجھتا لیکن چچا یا تایا تو بن سکتے ہیں، خالو یا پھوپھا تو بن سکتے ہیں۔
شوبز میں فیورٹ ازمایاز خان کا کہنا تھا کہ گروپنگ ہے شوبز انڈسٹری میں جو باپ کا کردار کر رہا ہے وہ مسلسل باپ بن رہا ہے جبکہ وہ باپ بننے کے قابل بھی نہیں رہا ہے، جو باس بن رہا ہے اس کے ابا نے بھی کبھی دفتر نہیں دیکھا ہوگا لیکن وہ باس بن رہا ہے تو یہ صورت حال کہیں اس کی وجہ بجٹ کی کمی ہے تو کہیں فیوریٹ ازم ہے تاہم بہت سی باتیں ایسی ہیں جو میں کہنا نہیں چاہتا۔
’پہلے ہم کام کر کے کام سیکھتے تھے‘ایاز خان کا کہنا ہے کہ ہم تو مینیول ایکٹر ہیں ہم نے کام کرتے کرتے کام سیکھا ہے کام کرتے کرتے سیکھنے اور اچانک چھلانگ لگا کر ایکٹر بن جانے میں فرق ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ پہلے صرف 3 کیمرے ہوا کرتے تھے سار اسکرپٹ یاد کرنا پڑتا تھا، اب تو 2،2 جملے یاد کرنے پڑتے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ وہ بلبلے (میں کام) کر رہے ہیں وہ ان کے لیے آسان ہے۔
‘عائشہ خان پر ڈراما بننا چاہیے‘ایاز خان نے کہا کہ پہلے ہم ڈرامے بناتے تھے اصلاح کے لیے اب مجھے نہیں لگتا کہ اصلاح ہورہی ہے بلکہ طلاق زیادہ ہو رہی ہے، اب ڈرامے عجیب ہو چکے۔
انہوں نے کہا کہ عائشہ خان جیسے لوگوں پر بھی ڈرامے بننے چاہییں تاکہ سبق مل سکے۔
’معاشرے کی بدقسمتی ہے اولاد ہو جوان ہو اور ایسی ہو‘انہوں نے کہا کہ اب تو ادارے موجود ہیں جہاں لوگ اپنے والدین کو چھوڑ کر کہتے ہیں کہ آپ انہیں رکھیں ہم خرچہ دے دیا کریں گے تو یہ پورے معاشرے کے لیے بدقسمتی کی بات ہے۔
آخر میں ایاز خان نے بتایا کہ ایک بار انہوں نے مجھے کسی کی آنکھ کا آپریشن کروانے کا کہا تھا جو انہوں نے کروادیا۔ انہوں نے کہا کہ اگر کسی کے ذریعے ہم تک کوئی نیکی پہنچ رہی ہو تو ہمیں وہ موقع گنوانا نہیں چاہیے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
سینیئر اداکار ایاز خان عائشہ خان عائشہ خان کی خاموش موت ویٹرن اداکارہ عائشہ خان.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: سینیئر اداکار ایاز خان عائشہ خان کی خاموش موت ویٹرن اداکارہ عائشہ خان ایاز خان نے کہا کہ ان کا کہنا تھا کہ ایاز خان کا کہنا انہوں نے کہا کہ کہ عائشہ خان عائشہ خان کے کے حوالے سے ان کی اولاد سوشل میڈیا کہا کہ ا دنیا سے رہا ہے کے لیے نے بھی
پڑھیں:
لاہور ہائی کورٹ کا اہم فیصلہ: ہا ئوسنگ سوسائٹیوں کے پارک، اسکول اور مسجد کی زمین فروخت نہیں کی جا سکتی
لاہور ہائی کورٹ کا اہم فیصلہ: ہا ئوسنگ سوسائٹیوں کے پارک، اسکول اور مسجد کی زمین فروخت نہیں کی جا سکتی WhatsAppFacebookX 0 23 July, 2026 سب نیوز
لاہور(آئی پی ایس )لاہور ہائی کورٹ نے ایک اہم فیصلے میں واضح کیا ہے کہ ہاسنگ سوسائٹیوں میں اسکول، پارک، مسجد، ہسپتال اور دیگر عوامی سہولیات (Amenity Sites) کے لیے مختص زمین عوام کی امانت ہے۔ اگرچہ ایسی زمین کا قانونی ٹائٹل بعض حالات میں لاہور ڈویلپمنٹ اتھارٹی (LDA) کے پاس منتقل ہو سکتا ہے، لیکن LDA اسے اپنی ملکیت سمجھ کر کمرشل مقاصد کے لیے فروخت یا نیلام نہیں کر سکتی۔
مقدمہ AGRICS Cooperative Housing Society اور LDA کے درمیان تھا۔ سوسائٹی نے مقف اختیار کیا کہ وہ Cooperative Societies Act, 1925 کے تحت قائم ہوئی ہے، اس لیے LDA کے بعض قوانین اس پر لاگو نہیں ہوتے، جبکہ LDA کا مقف تھا کہ عوامی سہولیات کے لیے مختص زمین اس کے نام منتقل کیے بغیر اسکول کا بلڈنگ پلان منظور نہیں کیا جا سکتا۔
لاہور ہائی کورٹ نے قرار دیا کہ Cooperative Societies Act سوسائٹی کے اندرونی معاملات سے متعلق ہے، جبکہ LDA Act لاہور میں شہری منصوبہ بندی (Urban Planning) اور ہاسنگ اسکیموں کو منظم کرنے والا خصوصی قانون ہے، اس لیے پلاننگ اور ترقیاتی معاملات میں LDA کے قوانین پر عمل کرنا تمام ہاسنگ سوسائٹیوں کے لیے لازم ہے۔
عدالت نے یہ بھی قرار دیا کہ 1990 کی Mortgage Deed اور سوسائٹی کے اپنے سابقہ ریکارڈ سے ثابت ہوتا ہے کہ متعلقہ عوامی سہولیات کی زمین LDA کے نام منتقل ہو چکی تھی، لہذا سوسائٹی کئی دہائیوں بعد اس مقف سے انکار نہیں کر سکتی۔
فیصلے کا سب سے اہم حصہ Doctrine of Public Trust (پبلک ٹرسٹ ڈاکٹرائن) سے متعلق ہے۔ عدالت نے واضح کیا کہ اگرچہ زمین کا قانونی ٹائٹل LDA کے پاس ہے، لیکن وہ اس کا مطلق مالک نہیں بلکہ صرف Trustee (امین) ہے۔ اس لیے اسکول، پارک، مسجد یا دیگر عوامی سہولیات کے لیے مختص زمین کو کسی اور مقصد، خصوصا تجارتی استعمال یا فروخت کے لیے استعمال نہیں کیا جا سکتا۔ ایسی زمین صرف اسی مقصد کے لیے استعمال ہوگی جس کے لیے اسے مختص کیا گیا تھا۔
عدالت نے یہ بھی نوٹ کیا کہ 30 سال سے زائد عرصہ گزرنے کے باوجود اسکول کے لیے مختص پلاٹ پر اسکول تعمیر نہیں کیا گیا، جس سے علاقے کے رہائشیوں کے بنیادی حقوق متاثر ہوئے۔ اسی بنیاد پر لاہور ہائی کورٹ نے LDA کو تین ماہ کے اندر قانونی طریقہ کار کے مطابق اس پلاٹ کو ایسے ادارے یا فریق کے حوالے کرنے کا حکم دیا جو وہاں اسکول تعمیر کرے، اور مقررہ مدت میں تعمیر نہ ہونے کی صورت میں متعلقہ قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے۔
یہ فیصلہ ہاسنگ سوسائٹیوں کے رہائشیوں کے لیے ایک اہم نظیر ہے، جو اس اصول کو مضبوط کرتا ہے کہ عوامی سہولیات کے لیے مختص زمین کسی بھی سرکاری یا نجی ادارے کی تجارتی ملکیت نہیں بلکہ عوام کی امانت ہے، اور اسے صرف عوامی مفاد کے اسی مقصد کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے جس کے لیے وہ مختص کی گئی ہو۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookX پچھلی خبروزیراعظم سے چینی کمپنی کے وفد کی ملاقات، غذائی تحفظ کے منصوبوں پر تبادلہ خیال اگلی خبرمقبوضہ کشمیر میں 1989 سے اب تک 96 ہزار 499 شہادتیں، ایک لاکھ 84 ہزار سے زائد گرفتاریاں: رپورٹ پاکستان میں اسمارٹ فون کا استعمال 62 سے بڑھ کر 72 فیصد تک پہنچ گیا، وزیراعظم کو بریفنگ پاکستان کو درپیش خطرات کا باعث بننے والے دہشتگردوں اور ان کے سہولتکاروں کا ہر قیمت پر خاتمہ کیا جائے گا، فیلڈ مارشل سید... صدر ٹرمپ کی پالیسی آنکھ کے بدلے سرکی ہے، ایران کو ہر گزرتی رات کیساتھ بھاری قیمت چکانا ہوگی: مارکو روبیو کا انتباہ ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدے کو معاہدہ ابراہیمی میں شمولیت سے مشروط کردیا آزاد کشمیر کے شہر میرپور میں 45 روز بعد موبائل فون اور انٹرنیٹ سروس بحال ہونا شروع امریکا کی جانب سے ایران پر بمباری کیلئے برطانوی ائیربیس کا استعمال، پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو سخت ردعمل کی دھمکیCopyright © 2026, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم