راولپنڈی اور اسلام آباد میں موسلا دھار بارش، واسا کی ہنگامی کارروائیاں جاری، رین ایمرجنسی نافذ
اشاعت کی تاریخ: 5th, July 2025 GMT
جڑواں شہروں راولپنڈی اور اسلام آباد میں رات بھر موسلا دھار بارش کا سلسلہ جاری رہا جس کے باعث نشیبی علاقوں میں پانی جمع ہونے کا خدشہ پیدا ہوگیا ہے۔ محکمہ موسمیات کی پیش گوئی کے بعد واسا راولپنڈی نے ہائی الرٹ جاری کرتے ہوئے رین ایمرجنسی نافذ کر دی ہے۔ایم ڈی واسا محمد سلیم اشرف کے مطابق واسا کا عملہ ہیوی مشینری کے ساتھ نشیبی علاقوں میں تعینات کر دیا گیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ کمیٹی چوک انڈر پاس اور مری روڈ پر بارش شروع ہوتے ہی مشینری فوری پہنچا دی گئی تھی تاکہ نکاسی آب کے عمل کو یقینی بنایا جا سکے۔محکمہ موسمیات کے اعداد و شمار کے مطابق سیدپور کے مقام پر سب سے زیادہ 80 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی، پی ایم ڈی میں 40 ملی میٹر، شمس آباد میں 20 ملی میٹر اور پیر ودھائی میں 15 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی۔ایم ڈی واسا کے مطابق نالہ لئی کے کیچمنٹ ایریا میں، خاص طور پر سیدپور کے مقام پر، صرف ایک گھنٹے میں 80 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی۔ نالہ لئی کی سطح کو مسلسل مانیٹر کیا جا رہا ہے اور فی الحال پانی کا بہاؤ معمول کے مطابق ہے۔نالہ لئی میں کٹاریاں کے مقام پر پانی کی سطح 11 فٹ جبکہ گوالمنڈی پل پر 5 فٹ تک بلند ہوئی، تاہم بارش رکنے کے بعد نالہ لئی میں پانی کی سطح کم ہو کر دوبارہ 5 فٹ پر آ گئی ہے۔ایم ڈی واسا نے بتایا کہ کسی بھی ممکنہ ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے ادارہ مکمل طور پر تیار ہے اور تمام متعلقہ اداروں سے رابطہ میں ہے۔شہریوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ غیر ضروری طور پر نشیبی علاقوں کا رخ نہ کریں اور کسی بھی ایمرجنسی کی صورت میں فوری طور پر واسا کی ہیلپ لائن سے رابطہ کریں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: کے مطابق نالہ لئی ملی میٹر ایم ڈی کی گئی
پڑھیں:
اٹلی میں چار پاکستانی زرعی مزدوروں کا قتل، دو پاکستانی شہری گرفتار
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ ۔ DW اردو۔ 02 جون 2026ء) اخبار کے مطابق جلی ہوئی گاڑی امینڈولارا نامی گاؤں کے قریب ایک پٹرول پمپ پر ملی، جو کالابریا کے وسیع زرعی علاقے میں واقع ہے۔
اخبار کے مطابق پٹرول پمپ کے سی سی ٹی وی کیمروں کی فوٹیج میں دو افراد کو منی وین کے دروازے باہر سے بند کرتے اور اس کے اندر آتش گیر مائع پھینکتے ہوئے دیکھا گیا۔
رپورٹ کے مطابق اس کے بعد گاڑی میں آگ بھڑک اٹھی اور دونوں مشتبہ افراد موقع سے فرار ہو گئے۔
فائر بریگیڈ نے آگ بجھانے کے بعد گاڑی کے اندر سے چار لاشیں برآمد کیں۔
مقامی پولیس چیف نے اس اطالوی اخبار سے گفتگو کرتے ہوئے کہا، ’’یہ یقینی طور پر قتل کا واقعہ ہے، اب ہمیں صرف اس کی تفصیلات معلوم کرنا ہیں۔
(جاری ہے)
‘‘
اخبار نے مزید لکھا کہ گزشتہ چند مہینوں کے دوران اس علاقے میں پاکستانیوں کی گاڑیوں اور منی وینز کے نذر آتش کیے جانے کے 14 واقعات پیش آ چکے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق علاقے میں تارکین وطن کے مختلف گروہوں کے درمیان زرعی کام کی تقسیم، رہائشی دستاویزات (ریذیڈنسی پیپرز)، اور رہائش کے مسائل پر کشیدگی پائی جاتی ہے، جسے ممکنہ طور پر اس واقعے کے پس منظر سے جوڑا جا رہا ہے۔
اطالوی حکام اس واقعے کی تحقیقات جاری رکھے ہوئے ہیں تاکہ اکٹھے چار افراد کے اس قتل کے محرکات اور اس کے ذمہ دار افراد کے اس جرم میں کردار کی مکمل طور پر وضاحت ہو سکے۔
ادارت: مقبول ملک