شمالی کورین خاتون کا صدر کم جونگ کے خلاف تاریخی اقدام، سول و فوجداری مقدمہ کردیا
اشاعت کی تاریخ: 10th, July 2025 GMT
شمالی کوریا کی چوی من کیونگ جنہوں نے جنوبی کوریا میں پناہ لی ہوئی ہے نے ایک تاریخی اقدام کرتے ہوئے شمالی کورین صدر کم جونگ کے خلاف مقدمہ دائر کردیا۔
یہ بھی پڑھیں: شمالی کوریا میں جینز پہننے پر پابندی کیوں ہے؟
چوی من کیونگ 1997 میں شمالی کوریا سے چین فرار ہو گئیں تھیں لیکن سنہ 2008 میں انہیں واپس شمالی کوریا بھیج دیا گیا تھا جہاں انہیں اذیت اور جنسی تشدد کا سامنا کرنا پڑا۔
چوی من کیونگ نے جنوبی کوریا کے دارالحکومت سیول میں کم جونگ ان کے خلاف سول اور فوجداری مقدمہ دائر کیا ہے۔ اس طرح وہ شمالی کوریا کے حکمران کے خلاف قانونی کارروائی کرنے والی پہلی پناہ گزین خاتون بن گئی ہیں۔
چوی نے اپنے بیان میں کہا کہ میرا دل سے یہ ارادہ ہے کہ یہ چھوٹا سا قدم انسانیت اور آزادی کی بحالی کے لیے سنگ میل ثابت ہو تاکہ مزید بے گناہ شمالی کوریائی شہری اس ظالمانہ نظام کی تنگی کا شکار نہ ہوں۔
انہوں نے کہا کہ میں ایک تشدد کا شکار اور شمالی کوریا کے ظالمانہ نظام کی زندہ بچ جانے والی ہوں اور میری یہ ذمہ داری ہے کہ کم جونگ ان اور ان کے خاندان کو انسانیت کے خلاف جرائم پر جوابدہ ٹھہرا سکوں۔
مزید پڑھیے: شمالی علاقوں میں سیاحت یا سانحہ؟ محفوظ سفر کے لیے ضروری احتیاطی تدابیر
چوی من کیونگ نے سنہ 2012 میں ایک بار پھر شمالی کوریا سے فرار ہو کر جنوبی کوریا میں پناہ لی تھی اور آج بھی وہ اپنے ماضی کے صدمات اور ذہنی اذیت کا سامنا کر رہی ہیں۔
جنوبی کوریا کی انسانی حقوق کی تنظیم ڈیٹابیس سینٹر فار نارتھ کورین ہیومن رائٹس کا کہنا ہے کہ وہ اس مقدمے کو کم جونگ ان اور پیانگ یانگ کے دیگر افسران کے خلاف اقوام متحدہ اور بین الاقوامی فوجداری عدالت میں لے جائے گی۔
مزید پڑھیں: شمالی کوریا کا ہائپر سونک وار ہیڈ سے لیس ٹھوس ایندھن والے میزائل کا تجربہ
یاد رہے کہ جنوبی کوریا کی عدالتیں ماضی میں شمالی کوریا کے خلاف فیصلے دے چکی ہیں لیکن پیانگ یانگ نے ان فیصلوں کو نظرانداز کیا ہے۔ تاہم چوی کا یہ مقدمہ عالمی سطح پر شمالی کوریا کی انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے خلاف مزید دباؤ ڈالنے کا سبب بن سکتا ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
جنوبی کوریا چوی من کیونگ چین شمالی کوریا کے صدر کم جونگ شمالی کورین صدر کے خلاف مقدمہ.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: جنوبی کوریا چوی من کیونگ چین شمالی کوریا کے صدر کم جونگ شمالی کورین صدر کے خلاف مقدمہ شمالی کوریا کے جنوبی کوریا کوریا کی کے خلاف
پڑھیں:
اٹلی میں 4 پاکستانیوں کو وین میں بند کرکے جلاکر قتل کردیا گیا، پاکستانی ہی قاتل نکلے، 2 ملزم گرفتار
روم ( اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 02 جون2026ء ) اٹلی کے جنوبی علاقے میں 4 پاکستانی کھیت مزدوروں کو ایک منی وین کے اندر مبینہ طور پر زندہ جلا کر قتل کر دیا گیا، اطالوی پولیس نے اس وحشیانہ قتل کے الزام میں 2 پاکستانی شہریوں کو گرفتار کرلیا۔ اطالوی اخبار کوریئر ڈیلا سیرا (Corriere della Sera) کے حوالے سے رپورٹ کیا گیا ہے کہ اٹلی کے جنوبی علاقے کلابریا میں ایک پیٹرول پمپ کے قریب ایک جلی ہوئی منی وین سے چار پاکستانی کارکناں کی لاشیں برآمد ہوئی ہیں، اطالوی پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے ان مقتولین کے قتل کے شبہے میں 2 پاکستانی باشندوں کو حراست میں لے لیا، اطالوی پولیس نے گرفتار دونوں پاکستانی ملزمان کو ریمانڈ پر لے کر ان سے تفتیش شروع کر دی تاکہ اس گینگ اور دیگر سہولت کاروں کا پتہ لگایا جا سکے۔(جاری ہے)
بتایا گیا ہے کہ یہ ہولناک واقعہ کلابریا کے ایک وسیع زرعی علاقے میں واقع گاؤں امینڈولارا کے قریب ایک پیٹرول اسٹیشن پر پیش آیا، پیٹرول پمپ پر لگے سی سی ٹی وی کیمروں کی تصاویر نے اس سفاکیت کو بے نقاب کیا، قانون نافذ کرنے والے اداروں نے فوٹیج میں دیکھا کہ دو افراد نے باہر سے منی وین کے دروازوں کو بلاک کر دیا تاکہ اندر موجود لوگ باہر نہ نکل سکیں۔ معلوم ہوا ہے کہ دروازے بند کرنے کے بعد ان افراد نے گاڑی کے اندر کوئی آتش گیر مائع پٹرول یا کیمیکل پھینکا، مائع پھینکتے ہی گاڑی میں خوفناک آگ بھڑک اٹھی اور دونوں ملزمان موقع سے فرار ہو گئے، فائر فائٹرز نے موقع پر پہنچ کر جب آگ پر قابو پایا تو گاڑی کے اندر سے چاروں پاکستانیوں کی جھلسی ہوئی لاشیں برآمد ہوئیں، مقامی پولیس چیف انتونیو بوریلی نے تصدیق کی کہ یہ یقینی طور پر قتل کا معاملہ ہے، ہمیں بس اب اس کی مزید تفصیلات اور تانے بانے معلوم کرنے ہیں۔ بتایا جارہا ہے کہ یہ علاقہ گزشتہ چند ماہ سے تارکینِ وطن کے درمیان شدید کشیدگی کا مرکز بنا ہوا تھا، اس زرعی علاقے میں غیر ملکیوں اور خاص طور پر پاکستانیوں کے درمیان کھیتوں میں کام کی تقسیم، رہائشی کاغذات اور رہائش گاہوں کے مسائل پر شدید اختلافات چل رہے ہیں، حالیہ مہینوں میں اسی علاقے کے اندر پاکستانیوں کو لے جانے والی کاروں اور منی وینز کو آگ لگانے کے 14 واقعات پہلے بھی رپورٹ ہو چکے ہیں، جن کا انجام اب اس ہولناک ڈبل مرڈر کی صورت میں سامنے آیا۔