پشاور ہائی کورٹ کا اعظم سواتی کو نیب تفتیش جوائن کرنے کا حکم
اشاعت کی تاریخ: 12th, July 2025 GMT
ہائی کورٹ نے پی ٹی آئی رہنما اعظم سواتی کو نیب تفتیش جوائن کرنے کا حکم دے دیا۔پاکستان تحریک انصاف کے رہنما اعظم سواتی کی پاسپورٹ کنٹرول لسٹ سے نام نکالنے اور بیرونی ملک جانے کی اجازت کے لیے دائر درخواست پر سماعت کے حوالے سے پشاور ہائیکورٹ نے سماعت کا تحریری حکم نامہ جاری کردیا۔عدالت کا اعظم سواتی کو نیب تفتیش جوائن کرنے کا حکم دے دیا اور ساتھ ہی عدالت نے نیب کو اعظم سواتی سے تفتیش جلد مکمل کرنے کے لیے تمام ممکن اقدامات کرانے کا حکم بھی دیا۔عدالتی حکم نامے کے مطابق نیب انوسٹیگیشن آفیسر آئند سماعت پر پیش ہوں اور تفتیش کے حوالے سے عدالت کو آگاہ کریں۔ نیب نے اعظم سواتی کو کال آف نوٹس جاری کیا، درخواست گزار نے نیب تفتیش جوائن کی ہے۔ نیب جلد تفتیش مکمل کرنے کے لیے تمام ممکن اقدامات کرے۔حکم نامے میں عدالت نے مزید لکھا کہ وکیل نے بتایا کہ درخواست گزار دل کا مریض ہے اور یو اے ای علاج کے لیے جانا چاہتا ہے۔درخواست گزار کو یو اے ای کا 60 دن کا ویزا جاری ہوا ہے۔ درخواست گزار اس سے پہلے بھی اس عدالت سے رجوع کر چکا ہے اور عدالت کے حکم پر ان کا نام ای سی ایل، پی سی ایل و دیگر لسٹ سے نکالا گیا تھا۔پشاور ہائی کورٹ نے حکم نامے میں مزید لکھا کہ درخواست گزار نے اس دوران کوئی جرم نہیں کیا۔ درخواست گزار کا آئینی حق ہے کہ ان کے ساتھ قانون کے مطابق سلوک کیا جائے۔ درخواست گزار کو آزاد گھومنے پھرنے کا حق حاصل ہے۔ درخواست پر ابھی فائنل فیصلہ نہیں ہوا۔ پشاور۔ نیب جلد تفتیش مکمل کرنے کے لیے اقدامات کرے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: نیب تفتیش جوائن اعظم سواتی کو درخواست گزار کا حکم کے لیے
پڑھیں:
برطانیہ؛ 70 ارکانِ کا نئے وزیراعظم کو خط؛ اسرائیل کیخلاف سخت اقدامات کا مطالبہ
برطانیہ کے 70 سے زائد ارکانِ پارلیمنٹ نے نئے وزیراعظم اینڈی برنہم سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ غزہ میں اسرائیلی کارروائیوں کے حوالے سے اقوامِ متحدہ کے آزاد تحقیقاتی کمیشن کے نتائج کو باضابطہ طور پر تسلیم کریں اور اسرائیل کے خلاف فوری اور مؤثر اقدامات کریں۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق خط میں نشاندہی کی گئی ہے کہ گزشتہ ماہ جاری ہونے والی اقوامِ متحدہ کی آزاد تحقیقاتی رپورٹ میں یہ نتیجہ اخذ کیا گیا تھا کہ غزہ میں اسرائیلی فوج کی کارروائیاں نسل کشی کے زمرے میں آتی ہیں اور رپورٹ میں خاص طور پر اسرائیلی حملوں میں بچوں کو دانستہ طور پر نشانہ بنانے کی تصدیق بھی تھی۔
ارکان پارلیمان نے کھلے خط میں نو منتخب وزیراعظم سے مطالبہ کیا کہ وہ بین الاقوامی عدالتِ انصاف کی جولائی 2024 کی مشاورتی رائے پر بھی عمل درآمد کو یقینی بنانے کے لیے عملی اقدامات کریں۔
برطانوی ارکانِ پارلیمنٹ کے بقول عالمی عدالت نے اسرائیل پر زور دیا تھا کہ وہ فوری طور پر مقبوضہ فلسطینی علاقوں سے اپنی موجودگی ختم کرے، تمام اسرائیلی بستیاں ختم کرے، متاثرہ فلسطینیوں کو معاوضہ ادا کرے اور بے گھر ہونے والے فلسطینیوں کی واپسی میں تعاون کرے۔
عدالت نے اپنی رائے میں یہ بھی کہا تھا کہ دنیا کے تمام ممالک پر ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ ایسے اقدامات سے گریز کریں جو اسرائیلی قبضے کو برقرار رکھنے یا اس میں معاونت کا سبب بنیں۔
خط میں برطانوی حکومت سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ اسرائیل پر مکمل اسلحہ پابندی عائد کی جائے، اسرائیلی حکام کے خلاف پابندیاں لگائی جائیں اور ایسی ہر قسم کی تجارت پر پابندی عائد کی جائے جو مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں قائم اسرائیلی بستیوں کو فائدہ پہنچاتی ہو۔
ارکانِ پارلیمنٹ کا کہنا ہے کہ برطانیہ کو بین الاقوامی قوانین اور انسانی حقوق سے متعلق اپنی ذمہ داریوں کو پورا کرتے ہوئے واضح اور مؤثر پالیسی اختیار کرنی چاہیے۔
I'm one of 80 MPs & Peers calling on the PM to:
- Recognise the UN’s findings on genocide & implement the ICJ ruling in full
- Impose sanctions including a full arms embargo
- Ban trade that supports Israel’s illegal settlements
End Britain’s complicity in genocide, now. pic.twitter.com/TjtJ0yj2Qq
فلسطین سالیڈیرٹی کمپین کے نائب ڈائریکٹر پیٹر لیری نے ارکانِ پارلیمنٹ کے خط کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا تھا کہ برطانوی حکومت نے طویل عرصے سے نسل کشی کنونشن اور بین الاقوامی عدالتِ انصاف کے مؤقف کو نظر انداز کیا ہے۔
انھوں نے الزام عائد کیا ہے کہ برطانیہ مسلسل ایسی پالیسیاں اپناتا رہا ہے جن سے فلسطینی عوام کے خلاف اسرائیلی کارروائیوں کو عملی یا سفارتی حمایت ملتی رہی۔
خیال رہے کہ اسرائیل غزہ میں نسل کشی کے الزامات کو مسترد کرتا ہے اور مؤقف اختیار کرتا آیا ہے کہ اس کی فوجی کارروائیاں حماس اور دیگر مسلح گروہوں کے خلاف ہیں جبکہ شہری ہلاکتوں سے بچنے کے لیے اقدامات کیے جاتے ہیں۔
واضح رہے کہ اقوامِ متحدہ اور متعدد بین الاقوامی انسانی حقوق کی تنظیمیں اسرائیلی دعوؤں کو مسترد کرتے ہوئے غزہ میں بڑے پیمانے پر شہریوں، خصوصاً خواتین اور بچوں کے جانی نقصان پر مسلسل تشویش کا اظہار کر رہی ہیں۔