شنگھائی سے مصنوعی ذہانت کی عالمی حکمرانی کے لئے ایک نئے پل کی تعمیر
اشاعت کی تاریخ: 28th, July 2025 GMT
شنگھائی سے مصنوعی ذہانت کی عالمی حکمرانی کے لئے ایک نئے پل کی تعمیر WhatsAppFacebookTwitter 0 28 July, 2025 سب نیوز
بیجنگ : چینی وزیر اعظم لی چھیانگ نے شنگھائی میں 2025 کی عالمی مصنوعی ذہانت کانفرنس اور مصنوعی ذہانت کی عالمی حکمرانی پر اعلیٰ سطحی کانفرنس کی افتتاحی تقریب میں اعلان کیا کہ چینی حکومت نے ورلڈ آرٹیفیشل انٹیلی جنس کوآپریشن آرگنائزیشن (ڈبلیو اے آئی سی او) کے قیام کی تجویز پیش کی ہے، جس کا صدر دفتر شنگھائی میں رکھنے کا منصوبہ ہے۔ ایک ایسے وقت میں جب مصنوعی ذہانت کی ٹیکنالوجی تیزی سے پھیل رہی ہے اور عالمی حکمرانی کے قواعد و ضوابط میں سخت مقابلہ درپیش ہے، اس اقدام نے وسیع تر اسٹریٹجک وژن اور بین الاقوامی ذمہ داری کے ساتھ مصنوعی ذہانت کی وسیع بھلائی کی جانب ترقی کے لئے ایک نیا راستہ کھول دیا ہے، جسے فوری طور پر عالمی توجہ ملی ہے.
اس وقت، ویسٹرن ٹیک جائنٹ اے آئی میگا ماڈلز لاکھوں جی پی یو کلسٹرز کا آسانی سے استعمال کر رہے ہیں جبکہ بہت سے ترقی پذیر ممالک کی بنیادی کمپیوٹنگ پاور بدستور انتہائی کمزور ہے. ورلڈ آرٹیفیشل انٹیلی جنس کوآپریشن آرگنائزیشن کا وسیع بھلائی کے حوالے سےپختہ عزم ،عدم توازن کی صورتحال کو درست کرنا ہے ، تاکہ گلوبل ساؤتھ کے ممالک مصنوعی ذہانت کی لہر میں صحیح معنوں میں مساوی رسائی حاصل کرسکیں۔قواعد کے معاملے میں ، ورلڈ آرٹیفیشل انٹیلی جنس کوآپریشن آرگنائزیشن زیرو سم گیمز کے بجائے’’مشاورت ،مشترکہ تعمیر اور اشتراک‘‘ کو سنگ بنیاد کے طور پر لیتی ہے ، جو مختلف ممالک کی ترقیاتی حکمت عملیوں ، گورننس رولز اور تکنیکی معیارات کی ہم آہنگی کو فروغ دے گی ، اور پالیسیوں اور طرز عمل میں فرق کے احترام کی بنیاد پر وسیع اتفاق رائے پر مبنی ایک عالمی گورننس فریم ورک بتدریج تشکیل دے گی۔ اس اقدام کے تحت عالمی مصنوعی ذہانت کی حکمرانی میں تقسیم اور گروہ بندی کے موجودہ خطرے کو مدنظر رکھا گیا ہے۔ جب یورپی یونین کا مصنوعی ذہانت ایکٹ ایک ہی معیار کے ساتھ دنیا کو نظم و ضبط میں رکھنے کی کوشش کرتا ہے ، اور کچھ ممالک سیکیورٹی کے نام پر تکنیکی ناکہ بندیاں عائد کرتے ہیں ،
تو ڈبلیو اے آئی سی او کی جانب سے پیش کردہ جامع راستے کی خصوصی قدر مزید عیاں ہوئی ہے۔ یہ دنیا میں ایک ہی آواز کی بالادستی کے لئے کوشاں نہیں بلکہ حقیقی معنوں میں عالمگیر شرکت کا حامل ایک ایسا بین الاقوامی اسٹیج تشکیل دیتا ہے جہاں ترقی کے مختلف مراحل سے گزرنے والے اور مختلف تہذیبوں کےحامل ممالک بھی حکمرانی کے حوالے سے اپنی آوازیں بلند کرسکتے ہیں۔چین کا فارمولہ مصنوعی ذہانت کی عالمی حکمرانی کا کلیدی’’اسٹیبلائزر‘‘ بن رہا ہے۔ 2023 میں گلوبل آرٹیفیشل انٹیلی جنس گورننس انیشی ایٹو کی پیشکش سے لے کر گزشتہ سال اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں چین کی پیش کردہ ’’مصنوعی ذہانت کی استعداد کار بڑھانے میں بین الاقوامی تعاون کو مضبوط بنانے” سے متعلق قرارداد کی منظوری تک، پھر اس سال ورلڈ آرٹیفیشل انٹیلی جنس کوآپریشن آرگنائزیشن (ڈبلیو اے آئی سی او)کے قیام تک، چین نے ہمیشہ اقدامات کےذریعے”ذہانت بھلائی کے لئے” کے منظم فلسفے پر عمل کیا ہے۔ یہ کوئی اتفاقیہ امر نہیں ہے ۔کیونکہ چین نے قابل تجدید توانائی کے میدان میں دنیا کا سب سے بڑا اور تیزی سے بڑھتا ہوا نظام تعمیر کیا ہے ، جس کے باعث چینی کمپنیاں دنیا کی تقریباً 60فیصد ونڈ ٹربائن ، تقریباً 80فیصد شمسی پینلز ، اور تقریباً 70فیصد برقی گاڑیوں کی بیٹریاں تیار کرتی ہیں۔ سبز مینوفیکچرنگ کی صلاحیتوں کو گلوبل پبلک گڈز میں تبدیل کرنے کا یہ تجربہ اب مصنوعی ذہانت کے شعبے میں ڈالا جا رہا ہے۔ ورلڈ آرٹیفیشل انٹیلی جنس کوآپریشن آرگنائزیشن کا قیام، چین کی جانب سے مصنوعی ذہانت کے اطلاق کے منظرنامے، مارکیٹ کےپیمانے اور حکمرانی کے عمل میں اپنی اول برتریوں کو عالمی حکمرانی کی محرک قوت میں تبدیل کرنے میں ایک تزویراتی اقدام ہے، جس سے دنیا کو اختلافات دور کرنے اور تعاون بڑھانے کے لیے ایک نیا پلیٹ فارم فراہم ہوگا۔مصنوعی ذہانت کی لہر میں کوئی بھی ملک تنہا کھڑا نہیں رہ سکتا۔ “ڈی رسکنگ” کے نام سے کسی ایک ملک کی جانب سے ڈی کپلنگ اور دیواروں کی تعمیر کے سخت اقدامات سے دنیا صرف شکوک وشبہات اور محاذ آرائی میں تاریخی مواقع سے محروم ہوجائے گی. تجویز کردہ ورلڈ آرٹیفیشل انٹیلی جنس کوآپریشن آرگنائزیشن کے صدر دفتر کے لئے منتخب شدہ شہر ” شنگھائی” ہی بیرونی دنیاکے لئے چین کے کھلے پن کی فرنٹ لائن اور آرٹیفیشل انٹیلی جنس کی ہائی لینڈ ہے جس کا مقصد تمام انسانیت کی فلاح و بہبود کو فروغ دینا ہے، اور یہ مغربی مسدود بالادستی کے افسانے کا بھی ایک طاقتور جواب ہے۔جیسا کہ چینی رہنما نے فرمایا ہے کہ مصنوعی ذہانت کو “پورے بنی نوع انسان کے فائدے کے لئےانٹرنیشنل پبلک گڈز” بننا چاہئے۔
اگر ڈبلیو اے آئی سی او تمام ممالک کے خلوص اور دانشمندی کو یکجا کر سکتی ہے اور مشترکہ مفادات کے “کیک” کو وسعت دے سکتی ہے تو یہ نہ صرف ایک دوسرے کو کامیاب بنائےگا بلکہ ذہین دور کی جانب ہاتھ میں ہاتھ ڈال کر انسانیت کے مستقبل کو بھی روشن کرے گا۔ مصنوعی ذہانت کی حکمرانی کے اس کلیدی موڑ پر، چین کےاس اقدام نے صبح کی کرن کی طرح اس غیر یقینی دنیا میں قیمتی یقین پیدا کیا ہے -یہ روشنی ، دنیا کی توجہ کی مستحق ہے۔گزشتہ پانچ سال سے چین میں ٹیکس اور فیس کی کٹوتی کی کل مالیت 10.5 ٹریلین یوآن تک پہنچنے کی توقع 28 جولائی کو چین کے قومی محکمہ محصولات کے سربراہ حو جن لین نےچین کی ریاستی کونسل کے دفتر اطلاعات کے زیر اہتمام پریس کانفرنس میں بتایا کہ چین کی “14 ویں پانچ سالہ منصوبہ بندی” کی مدت کے دوران ٹیکس اور فیس میں کمی کی پالیسیوں کے ایک سلسلے کی بدولت ملک کی معاشی ترقی اور لوگوں کے ذریعہ معاش کی بہتری کو مضبوط حمایت ملی ہے۔ گزشتہ پانچ سالوں سے ملک میں ٹیکس اور فیس کی کٹوتی کی کل مالیت 10.5 ٹریلین یوآن تک پہنچنے کی توقع ہے اور برآمدی ٹیکس ریفنڈ 9 ٹریلین یوآن سے تجاوز کرنے کی بھی توقع ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ اسی مدت کے دوران چین کے محکمہ محصولات کی جانب سے جمع کردہ ٹیکس اور فیس کا کل حجم 155 ٹریلین یوآن سے تجاوز کرنے کی توقع ہے جس میں سے ٹیکس ریونیو 85 ٹریلین یوآن سے تجاوز کرے گا، جو ملک کی 13 ویں پنج سالہ منصوبہ بندی کی مدت کے مقابلے میں 13 ٹریلین یوآن کا اضافہ ہوگا۔ اس کے نتیجے میں چین کی معاشی و سماجی ترقی اور لوگوں کے ذریعہ معاش میں بہتری کے لئے مالی بنیاد کو مسلسل مضبوط بنایا گیا ہے۔ حو جن لین نے کہا کہ چین میں محکمہ ٹیکس کی جانب سے متعدد اقدامات کی بدولت اب 97 فیصد ٹیکس معاملات اور 99 فیصد ٹیکس اعلانات آن لائن یاموبائل ایپلی کیشنز کے ذریعے کئے جاسکتے ہیں۔ ورلڈ بینک کے 2024 کے ڈوئنگ بزنس اسسمنٹ کے نتائج کے مطابق 2019 میں پچھلے تخمینے کے مقابلے میں چین کے سالانہ ٹیکس ادائیگی کے وقت کو 78.2 فیصد کم کیا گیا ہے۔چین میں کاروباری ماحول کی مارکیٹائزیشن، قانون کی حکمرانی اور بین الاقوامیت میں مثبت پیش رفت ہوئی ہے۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرکن پاکستانیوں کےلئے یواےای کے ویزا چھوٹ کی سہولت بحال ہوگئی؟ چاؤ لیجی کا کرغزستان کا دورہ خیرسگالی بلند شرح سودکاروباری سرگرمیوں کے فروغ میں رکاوٹ ہے، زاہد اقبال چوہدری چین کا تائیوان کے عوامی نمائندوں کی ووٹنگ کے پہلے مرحلے میں گومن دانگ پارٹی کی کامیابی پر رد عمل چین اور اقوام متحدہ کے اقتصادی و سماجی کمیشن برائے ایشیاء و بحرالکاہل کے درمیان “بیلٹ اینڈ روڈ” پر تعاون کی دستاویز کی تجدید چینی وزیر اعظم کی 2025 عالمی مصنوعی ذہانت کانفرنس کی افتتاحی تقریب میں شرکت صدر ایف پی سی سی آئی عاطف اکرام شیخ کا شرح سود میں 5فیصد کمی کا مطالبہCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہمارے بارے ہماری ٹیم
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: مصنوعی ذہانت کی عالمی حکمرانی حکمرانی کے کے لئے
پڑھیں:
فیفا نے ورلڈ کپ 2026 کی ٹیم آف دی ٹورنامنٹ کا اعلان کر دیا
فیفا نے ورلڈ کپ 2026 کے اختتام پر شاندار کارکردگی دکھانے والے کھلاڑیوں پر مشتمل ٹیم آف دی ٹورنامنٹ کا اعلان کر دیا ہے، جس میں عالمی فٹبال کے کئی نامور ستاروں کو پورے ایونٹ میں بہترین کھیل کی بنیاد پر شامل کیا گیا ہے۔
غیر ملکی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق منتخب ٹیم میں ارجنٹائن کے کپتان لیونل میسی، فرانس کے کپتان کیلیان ایمباپے اور ناروے کے اسٹار اسٹرائیکر ایرلنگ ہالینڈ کو فرنٹ لائن کا حصہ بنایا گیا ہے۔
مڈفیلڈ میں ورلڈ کپ کے گولڈن بال کے فاتح اور اسپین کے کپتان روڈری ، انگلینڈ کے جوڈ بیلنگھم اور فرانس کے مائیکل اولیسے کو جگہ دی گئی ہے، جنہوں نے پورے ٹورنامنٹ میں نمایاں کارکردگی کا مظاہرہ کیا۔
دفاعی لائن میں کیپ وردے کے گول کیپر ووزینیا کو منتخب کیا گیا ہے، جبکہ اسپین کے عالمی چیمپئن مارک کوکوریلا اور پیڈرو پورو ، فرانس کے ڈایو اوپامیکانو اور ارجنٹائن کے لیساندرو مارٹینیز بھی دفاع کا حصہ ہیں۔
فیفا کے مطابق ٹیم آف دی ٹورنامنٹ کا انتخاب کھلاڑیوں کی مجموعی کارکردگی، ٹیم پر اثراندازی اور پورے ایونٹ کے دوران مستقل بہترین کھیل کو مدنظر رکھتے ہوئے کیا گیا ہے۔
دوسری جانب فیفا نے ورلڈ کپ کے اختتام پر نئی عالمی رینکنگ بھی جاری کر دی ہے۔ نئی عالمی چیمپئن اسپین ایک درجہ ترقی کے بعد دنیا کی نمبر ایک ٹیم بن گئی، جبکہ رنر اپ ارجنٹائن ایک درجہ تنزلی کے بعد دوسرے نمبر پر چلی گئی۔
رینکنگ میں فرانس تیسرے اور انگلینڈ چوتھے نمبر پر برقرار ہیں، جبکہ برازیل اور مراکش ایک، ایک درجہ ترقی کے ساتھ بالترتیب پانچویں اور چھٹے نمبر پر پہنچ گئے ہیں۔
ادھر کرسٹیانو رونالڈو کی پرتگال دو درجے تنزلی کے بعد ساتویں نمبر پر آ گئی، جبکہ میزبان میکسیکو نے ورلڈ کپ میں عمدہ کارکردگی کی بدولت چار درجے ترقی کرکے ٹاپ ٹین میں جگہ بنا لی۔
ورلڈ کپ کے کوارٹر فائنل تک رسائی حاصل کرنے والی ناروے کی ٹیم نے بھی نمایاں پیش رفت کرتے ہوئے 12 درجے ترقی کی اور عالمی رینکنگ میں 19ویں پوزیشن حاصل کر لی۔